(1)عورت کا باپردہ ہوکر قبرستان جانا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت باپردہ ہوکر قبرستان جا سکتی ہے یا نہیں؟ آج کل بعض خواتین کی جانب سے یہ رائے پیش کی جاتی ہے کہ اگر کوئی عورت شرعی پردے کی مکمل پابندی کرے، تو ایسی صورت میں اس کا قبرستان جانا ممنوع نہیں ہے۔ اس پر ایک روایت کو بطورِ دلیل پیش کیا جاتا ہے، جس میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا اپنے بھائی حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہُ عنہ کی قبر پر جایا کرتی تھیں۔اس سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ عورت اگر شرعی تقاضوں کا خیال رکھے تو اس کے لیے قبرستان جانا ممنوع نہیں ہے۔ رہنمائی فرمادیں کہ اس روایت سے دلیل پکڑنا درست ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضہ مبارکہ کے علاوہ عام قبروں کی زیارت کے لیے جانا عورتوں کے لیے مطلقاً منع ہے،اگرچہ باپردہ ہوکر جائیں،علماء نے فرمایا کہ عورت سے جمعہ ساقط ہے،نمازجنازہ اور جماعت کی حاضری منع ہے،تو جب عورت کو ان تمام عبادات کے لیے نکلنے سے روک دیا گیا جو کہ شریعت میں بلند مقام رکھتی ہیں، تو اس کا قبرستان جانا بدرجہ اولیٰ ممنوع قرار پائے گا۔
باقی جہاں تک اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا والی روایت کا تعلق ہے،تو اس میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہُ عنہا نے سفر حج کے دوران اپنے بھائی حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہُ عنہ کی قبر کی زیارت فرمائی،تو یہ زیارت گھر سے بطور خاص قبرستان جاکر نہیں کی،بلکہ دورانِ سفر اتفاقاً ہوئی اور اس اتفاقی زیارت کی گنجائش تھی، بشرطیکہ منکراتِ شرعیہ سے پاک ہو، لیکن دورِ حاضر میں عورتوں کے لیے فتنہ، نوحہ، بے صبری اور دیگر منکرات سے پاک زیارت کا امکان نادر بلکہ معدوم ہے، لہٰذا فقہائے کرام نے اس دور میں اتفاقی زیارت سے بھی منع فرمادیا، تو اب عورتوں کے لیے زیارتِ قبور مطلقاً ہی منع ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2)بچوں کے گال یا پیشانی پر سیاہ نقطہ لگانا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نظر بدسے بچنے کے لیے بچوں کے گال یا پیشانی پر سیاہ نقطہ لگانا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
بچّوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لیے پیشانی، ٹھوڑی یا گال پر سیاہ نقطہ لگانا جائز ہے،کیونکہ یہ نظرِ بد سے بچنے کی تدبیر ہے جو خلاف شرع نہیں اور ایسا ٹوٹکا جو شریعت کے خلاف نہ ہو اور تجربہ سے مفید ہونا اس کا ثابت ہو جائز ہوتا ہے جیسا کہ عرب لوگوں میں رائج تھا کہ جس کی نظر لگتی اس کے ہاتھ، پاؤں دھو کر نظر لگے ہوئے کو چھینٹا مارتے، اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع نہ فرمایا۔ بلکہ بچوں کو نظرِ بد سے بچانے کے لیے سیاہ نقطہ ٹھوڑی میں لگانے کا ثبوت تو حضرت عثمان غنی رضی اللہُ عنہ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا اس میں کسی قسم کا حرج نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* دارالافتاء اہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی
Comments