اسلام کا نظام مواخات (دوسری اور آخری قسط)


اسلام کا نظام مواخات(دوسری اور آخری قسط)

اسلام ہمیں عبادت کے ساتھ ساتھ ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کا بھی درس دیتا ہے۔ اسلامی بھائی چارہ ایک ایسی نعمت ہے جو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔آئیے! اسلامی بھائی چارے کے چند فوائد ملاحظہ کیجیے:

1. محبت پیدا ہوتی ہے:

اسلامی بھائی چارے سے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔([1])

2.معاشرتی ہم آہنگی:

بھائی چارے کے قیام سے معاشرے میں اتحاد، اتفاق اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے جو ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔آپ نے موٹے موٹے رسّے دیکھے ہوں گے جو باریک باریک کمزور دھاگوں کے اتحاد کا نتیجہ ہوتے ہیں،ایک اکیلا دھاگا اتنا کمزور ہوتا ہے کہ چھوٹا سا بچہ بھی اُسے باآسانی توڑ سكتا ہے، مگر جب کئی کمزور دھاگے آپس میں متحد ہوجاتے ہیں تو ایک مضبوط رسّے کی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو بڑے بڑے بحری جہازوں کو پانی کے شدید زور میں بھی روک سکتا ہے۔

3. مدد و تعاون کا جذبہ:

بھائی چارے سے دوسروں کی مدد اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ایک مسلمان بھائی کسی مشکل میں ہے تو اس کا دوسرا اسلامی بھائی اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرتا ہے اور اس میں اللہ پاک کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ ([2])

4. نفرت اور عداوت کا خاتمہ:

بھائی چارے کی برکت سے وہ چیزیں جن سے نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہےمثلاً حسد، بغض، غیبت وغیرہ برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور نفرت ختم ہوتی ہے نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: آپس میں حَسَد نہ کرو، آپس میں بُغض وعَداوَت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اوراے اللہ پاک کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ۔([3])

5. اللہ کی محبت اور رحمت کا ذریعہ:

بھائی چارہ قائم کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کی رضا کا حصول اور اس کی خاص رحمت کے نزول کاحق حاصل ہوتاہے۔ نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے رب کا فرمان بیان فرمایا: میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہوگئی جو میرے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے،ایک دوسرے پر خرچ کرتے اورایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔([4])

6.آخرت میں مقام بلند ہوگا:

قیامت کے دن ایسے لوگ جو بھائی چارے، محبت اور خلوص کے ساتھ زندگی گزاریں گے، انہیں خاص مقام عطا کیا جائے گا۔حدیث پاک میں ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میری عظمت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے آج کہاں ہیں؟ میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں، کیونکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے۔([5])

7.حُبِّ مال کی جگہ ایثار کی نعمت ملتی ہے :

بھائی چارے کی برکت سے دلوں سے مال کی محبت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ایثار کی عظیم دولت نصیب ہوتی ہے۔ یہ محض ایک سماجی رشتہ نہیں، بلکہ ایمان کی بنیاد پر قائم ایسا تعلق ہے جو انسان کو اپنی ضروریات پر دوسرے کو ترجیح دینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہی جذبہ ایک مثالی،باہمی ہمدردی اور قربانی پر مبنی معاشرہ تشکیل دیتا ہے، جہاں افراد خود غرضی سے بالاتر ہو کر دوسروں کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہیں۔

اللہ کے لیے محبت کا انعام(حکایت)

 فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لئے دوسری بستی میں گیا۔ اللہ کریم نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ بھیجا جس نے اس سے پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے؟جواب دیا:اس بستی میں میرا ایک بھائی ہے، اس سے ملنے جارہا ہوں۔فرشتے نے دریافت کیا: کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیاہےجسے وصول کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ میں اللہ کے لئے اس سے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا:میں تمہارے پاس اللہ کا یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تم اس سے محبت کرتے ہو، اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت فرماتا ہے۔([6])

ایثار کی انتہا

 صوفیا کی ایک جماعت کو کسی خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ان کی گردنیں اڑانے کا حکم جاری کردیا، ان میں حضرت سیِّدُنا ابوحسین احمد بن محمد نوری رحمۃُ اللہ علیہ بھی تھے۔ آپ فوراً جلّاد کی طرف لپکے تاکہ سب سے پہلے قتل کئے جائیں۔آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا:”میں پسند کرتا ہوں کہ اس گھڑی اپنے بھائیوں کی زندگی کوخودپر ترجیح دوں۔“  آپ کا یہ فرمانا سب کی نجات کا سبب بن گیا۔([7])

بکری کا سر سات گھروں کا مہمان

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  نے فرمایا: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اصحاب میں سے کسی کو بکری کا سر ہدیہ دیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ”میرا فلاں بھائی اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے“ وہ سری ان کی طرف بھیج دی، انہوں نے بھی یہی خیال کر کے آگے بھیج دی، اس طرح وہ سر ایک سے دوسر ے کو بھیجا جاتا رہا حتی کہ سات ہاتھوں سے گزر کر واپس پہلے صحابی کی طرف لوٹ آیا۔([8])

آج کے دور میں مواخات کی ضرورت

 نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو ”مواخات“ قائم کی وہ اسلامی معاشرت کی ایک عظیم مثال ہے۔ اس مواخات کا مقصد محض مہاجرین کی رہائش یا ان کی مالی مدد نہیں تھا بلکہ آپس میں ان کے دلوں کو جوڑنا اور ایک دوسرے کا سچا خیر خواہ بنانا تھا۔ مگر افسوس! آج ہم نے اس عظیم ضرورت ومقصد کو فراموش کر دیا ہے۔

آج ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ گھر گھرجھگڑے، بھائی بھائی سے ناراض اور رشتہ دار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔ معمولی باتوں پر برسوں پرانی دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ ایک ہی ادارے، شعبے یا گھر میں رہ کر بھی ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس نہیں کرتے۔ ہمارے دل بغض،حسد اور نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہم دوسروں سے رحم، عزت اور شفقت کی توقع تو رکھتے ہیں لیکن خود چھوٹی چھوٹی رنجشوں پر تعلقات ختم کر دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان آج کمزور، منتشر اور اغیار کے ظلم وستم کا شکار ہیں۔ اگر ہم اخوت و بھائی چارے کو فروغ دیتے، ایک دوسرے کی خیر خواہی کرتے اور مفاد پرستی چھوڑ کر خلوصِ دل سے محبت کرتے تو شاید ہماری حالت مختلف ہوتی۔ افسوس کہ آج محبت بھی مفاد سے مشروط ہو چکی ہے۔

ذیل میں ایسے ہی چند اسلامی اصول اور طریقے بیان کیے جارہے ہیں، جو نہ صرف مسلمانوں کے درمیان محبت اور الفت پیدا کرتے ہیں، بلکہ بھائی چارے کو بھی فروغ دیتے ہیں جو ایک مضبوط امت کی بنیاد ہے۔

(1)سلام کو عام کرنا:

بھائی چارے اور محبت بڑھانے کا ایک طریقہ ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کرنا بھی ہے، چاہے ہم اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں حدیث پاک میں ہے:تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم مومن نہ بنو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرو تو آپس میں محبت پیدا ہو جائے؟ (وہ ہے) سلام کو عام کرنا۔([9])

(2)آپس میں تحفے دینا:

بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دینے کے لیے تحفے کا لین دین رکھیے کہ اس سے دل صاف ہوتا ہے حدیث پاک میں ہے : تَهَادَوْا تَحَابُّوا یعنی آپس میں تحفے دو کہ اس سے محبت پیدا ہوگی۔([10])

(3) مسلمانوں کے عذر کو قبول کرنا:

اگر کوئی مسلمان بھائی غلطی کرے اور پھر اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرے تو اس کا عذر قبول کرنا چاہیےکہ اس سے دل کی کدورت دور ہوتی ہے۔

(4) حسنِ اخلاق اختیار کرنا:

خوش اخلاقی اور نرم مزاجی بھی محبت بڑھانے اور سامنے والے کا دل جیتنے کا سبب اور ایک اچھے انسان کی علامت ہے حدیث پاک میں ہے :تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہو۔([11])

(5) خوشی غمی میں شرکت کرنا:

کسی بیمارکی عیادت یا اپنے مسلمان بھائی کی خوشی غمی میں اس کا شریک ہونا بھی بھائی چارے اور محبت میں اضافے کا ایک سبب ہے۔ حدیث پاک میں ہے : مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے تک ہمیشہ جنت کے پھل چننے میں رہا۔([12])جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اسے مصیبت زدہ کے برابر اجر ملے گا۔([13])

(6)خلوص سے خیر خواہی کرنا:

اپنے مسلمان بھائی کی بہتری چاہنا، کسی برائی میں ملوث دیکھ کر اس کی اصلاح کرنا اور اسے اچھا مشورہ دینا خیر خواہی ہے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے اعتماد اور محبت پیدا کرتی ہے۔

(7)حوصلہ افزائی کرنا:

 اپنے بھائی کے کسی اچھے کارنامے یا اس کی قابلیت و صلاحیت کو سراہنا اور حوصلہ افزائی کرنا بھی آپس کی محبت کو بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔

اللہ پاک ہم مسلمانوں کو اتفاق،اتحاد،اخوت و محبت سے رہنے اور ایک دوسرے کی مشکل وقت میں مدد کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])مسلم، ص51، حدیث : 194

([2])مسلم، ص 1110،حدیث:6853

([3])بخاری، 4/117،حدیث:6066

([4])مسند احمد،8/421، حدیث: 22847

([5])مسلم،ص1065،حدیث:6548

([6])مسلم، ص1065، حدیث:6549

([7])احیاء العلوم الدین2/216

([8])احیاء العلوم الدین2/ 217

([9])مسلم، ص51، حدیث : 194

([10])مؤطا امام مالک،2/407، رقم: 1731

([11])بخاری2/489حديث: 3559

([12])مسلم، ص 1066، حدیث: 6554

([13])ترمذی، 2/338، حدیث: 1075


Share