اسلام کا تربیتی  نظام


اسلام کا تربیتی نظام


تربیت انسانی شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور وقار بخشنے کا وہ لازمی عمل ہے جو انسان کی سوچ میں وسعت،عمل میں پختگی اور اخلاق میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر فرد کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اگر تربیت کا دامن خالی ہو تو محض کتابی علم بھی بےمعنیٰ ہو جاتا ہے، لیکن اگر تربیت سچی، اخلاص کے ساتھ اور صحیح سمت میں ہو تو ایک اَن پڑھ انسان بھی اعلیٰ کردار کا حامل ہوکر دوسروں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے روشنی کا چراغ بن سکتا ہے۔اسلام جو ایک کامل دین ہے،اس نے انسان کو عبادات کی ادائیگی اور عقائدکی درستی کے ساتھ ساتھ پوری زندگی سنوارنے اور فلاح کی راہ دکھانے والا ایک مکمل نظامِ حیات دیا ہے۔ اس کا تربیتی نظام نہ صرف فرد کے اخلاق و کردار کو بہتر بناتا ہے، بلکہ اسے دوسروں کی اصلاح اور تربیت کا ذریعہ بھی بناتا ہے، تاکہ ایک نیک فرد کے ذریعے ایک اچھا معاشرہ تشکیل پاسکے۔ قراٰنِ کریم اور سنتِ نبوی میں ایسے اصول واضح کیے گئے ہیں جو انسان کو نیکی، عدل، دیانت، صبر، حیا اور تقویٰ جیسی اعلیٰ صفات سے آراستہ کرتے ہیں،اگر ہم معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہر فرد کو اپنا آپ درست کرنا ہوگا، اور یہی تربیت کا حقیقی مفہوم ہے۔

اسلامی تربیت انسان کی شخصیت کےروحانی،اخلاقی، فکری اور عملی پہلوؤں میں نکھار پیدا کرتی ہے۔روحانی تربیت انسان کے دل کو اللہ پاک کی محبت،اس کی رضا اور اخلاص سے لبریز کرتی ہے، جیسا کہ قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتاہے:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)

ترجَمۂ کنز الایمان:بے شک مراد کو پہنچا جوستھرا ہوا۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اخلاقی تربیت انسان کے کردار کو سچائی، عدل، صبر، حیا اور حسنِ سلوک جیسے پاکیزہ اوصاف سے مزین کرتی ہے، نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشادفرمایا: ’’مومنوں میں زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جو اَخلاق کے اعتبار سے ان میں سب سے اچھا ہے۔([2]) فکری تربیت انسان میں عقل و شعوربیدار کرتی ہے، اور اسے غور و فکر، علم و حکمت اور بصیرت کی دولت عطا کرتی ہے، قراٰنِ کریم ہمیں یہی دعوت دیتے ہوئے مختلف مقامات پر تفکر، تدبراورتعقل کی دعوت دیتا ہے۔ عملی تربیت زندگی کے ہر میدان میں حسنِ عمل،نظم و ضبط اور سنتِ نبوی کی پیروی کو فروغ دیتی ہے تاکہ فرد صرف نظریاتی طور پر نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی ایک مفید، مثبت اور باکردار انسان بنے۔ یہی جامع تربیت اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے، جو فرد کی اصلاح سے قوم کی فلاح تک کا سفر طے کرتی ہے۔

اسلامی تربیت کامقصد

اسلامی تربیت دراصل ایک ایسا مکمل نظام ہے جو انسان کو اس کی اصل فطرت، زندگی کے مقصد اور اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرتی ہے۔ اسلام کے نزدیک انسان صرف ایک جاندار نہیں بلکہ اللہ کا بندہ اور اس کی دی گئی ذمہ داریوں کا نگہبان ہے۔ اس لیے اسلامی تربیت کی پہلی بنیاد یہی ہے کہ انسان کے دل میں اللہ کی بندگی اور اس کی فرمانبرداری کا شعور پیدا ہو، تاکہ وہ اپنی زندگی کو اللہ پاک کے احکام کے مطابق گزارے۔ اسلامی تربیت جہاں انسان کواپنے خالق کا فرمانبردار بناتی اور  نماز، روزے سمیت  دیگر عبادات  کا پابند کرتی ہے وہیں  انسان کی اخلاقی، معاشرتی اور  فکری شخصیت کو بھی سنوارتی ہے۔ اسی لیے اسلام سچائی، انصاف، صبر، حیا اور امانت داری جیسے اوصاف اپنانے کی تعلیم دیتا ہے، جو ایک اچھے اور باکردار انسان کی پہچان ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسلامی تربیت انسان کی عقل کو جمود سے نکال کر علم، غور و فکر اور شعور کی طرف لے جاتی ہے، تاکہ وہ حق اور باطل میں فرق کر سکے۔ روحانی طور پر یہ تربیت انسان کے دل کی بیماریوں جیسے حسد، غرور، تکبر اور بدگمانی سے نجات دلاتی ہے اور اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔ یہ تربیت صرف فرد کی اصلاح پر نہیں رُکتی، بلکہ اُسے ایک باعمل، نفع بخش اور ذمے دار شہری بناتی ہے، جو معاشرے میں بھلائی، عدل اور خیر خواہی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ آخر میں، اسلامی تربیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں نیکی اور تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارے اور آخرت میں اللہ کی رضا اور جنت کی کامیابی حاصل کرے۔

انسان کی فطرت کے مطابق تربیت

اسلام کے تربیتی نظام کی ایک خوبی اور خوبصورتی یہ بھی ہے کہ یہ دین انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-

ترجَمۂ کنزُالعِرفان: (یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ہر بچہ  اپنی اصل فطرت یعنی فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے، اور اس کی طبیعت دین کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتی ہے۔ پس اگر اسے اسی فطرت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس پر قائم رہتا ہے اور کسی اور طرف نہیں جاتا، کیونکہ یہ دینِ اسلام اپنی خوبی کی وجہ سے انسان کے نفس میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس سے اس وقت ہٹتا ہے جب کوئی بشری آفت یا غلط رسم و رواج کی تقلید اسے راہ سے ہٹا دیتی ہے۔([4])

معلوم ہوا کہ انسان نیکی اور خیر کے رجحان کے ساتھ پیدا ہوتا ہےجبکہ تربیت اس کو بگاڑنے،سنوارنے اور اچھی اور بری عادات و صفات میں ڈھالنےکا کام کرتی ہے،اچھی تربیت اچھا اور بری تربیت برا اثر پیدا کردیتی ہے۔

سیرتِ نبوی مکمل تربیتی ماڈل

نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پوری زندگی انسانیت کے لیے ایک کامل نمونہ اور اسلامی تربیت کا زندہ و روشن ماڈل ہے۔ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے قول وفعل، اخلاق وکردار اور معاملات و تعلقات میں ہمیں وہ کامل رہنمائی ملتی ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیاب بنا سکتی ہے۔آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا اسوۂ مبارکہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایسا راستہ ہے جو دل کو پاکیزگی،کردار کو بلندی اور زندگی کو مقصد عطا کرتا ہے۔ قراٰن کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة ٌ

ترجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے قول اور فعل دونوں ہی  انداز سے  تربیت فرمائی،  آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا طریقۂ تربیت؛ علم و حکمت، محبت و شفقت، صبر و تحمل اور اعلیٰ اخلاق کا حسین امتزاج تھا۔ آپ کی سیرتِ مبارکہ میں ہمیں عملی تربیت کے ایسے ایسے روشن پہلو ملتے ہیں جو  آج کے  ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ کہلانے والے معاشرے کے ماہرین  دریافت کرتے پھرتے ہیں۔

ذیل میں اس کی چند ایک جھلکیاں پیش کی گئی ہیں، ملاحظہ کیجیے!

(1)غلطی پر نرمی سے اصلاح:

اسلامی تربیت کا ایک اہم طریقہ ہے کہ انسان کو نرمی، برداشت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ درست راہ دکھائی جائے۔ اسلام میں اصلاح کا مقصد کسی کو شرمندہ کرنا یا سختی کرنا نہیں، بلکہ محبت و حکمت کے ذریعے دلوں کو بدلنا ہے۔نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے عمل سے بھی یہی انداز دیکھنے کو ملتا ہے کہ آپ کے سامنے   اگر کوئی  غلطی کرتا تو آپ اسے ڈانٹنے کے بجائے نرمی سے سمجھاتے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا اور پیشاب کرنے لگا،صحابہ کرام اسے روکنے لگے تو حضور نے فرمایا: اسے نہ روکو، چھوڑ دو! جب اس نے پیشاب کر لیا تو بلا کر ارشاد فرمایا:یہ مسجدیں پیشاب اورگندگی کے لئے نہیں،یہ تو ذکرِ الٰہی، نماز اور تلاوتِ قراٰن کے لئے ہیں۔([6])بعد میں وہ اعرابی جب دینی معاملات کو سمجھ گئے تو انہوں نے کہا:  ”نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میری طرف تشریف لائے، میرے ماں باپ ان پر قربان! انہوں نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ ہی بُرا بھلا کہا۔([7])

(2)مرحلہ وار تربیت:

اسلامی تربیت کا ایک نمایاں اصول یہ ہے کہ انسان کی اصلاح اور تربیت میں تدریجی انداز یعنی مرحلہ وار انداز اختیار کیا جائے۔ اسلام نے انسان کی فطرت، عادات اور نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تربیت کا وہ طریقہ اپنایا جو مستقل اور پائیدار تبدیلی پیدا کرے۔ اچانک سختی یا ایک دَم مکمل تبدیلی کا مطالبہ کرنے کے بجائے، لوگوں کو آہستہ آہستہ بھلائی کی طرف لایا گیا تاکہ وہ دین کے احکام کو آسانی سے اپنا سکیں۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  صحابۂ کرام کی تربیت میں جلدبازی کو اختیار نہیں فرماتے بلکہ ان کی استطاعت اور طبیعت اور حالات کو دیکھتے ہوئے ان کی مرحلہ وار تربیت فرماتے تھے، جیساکہ شراب کی حرمت ایک دم نہیں، بلکہ تین مرحلوں میں نازل ہوئی۔ پہلے اسے نقصان دہ کہا، پھر نشے کی حالت میں نماز سے منع کیا، اور آخر میں مکمل طور پر حرام قرار دیا۔ یہ تدریجی انداز(Gradual approach) انسانی نفسیات کو مدنظر رکھ کر اختیار کیا گیا۔اس بارے میں حضرت سیِّدُنا امام فخرالدین رازی  رحمۃُ اللہ علیہ  نقل فرماتے ہیں کہ   شراب کو مرحلہ وار حرام قرار دینے میں حکمت یہ تھی کہ اللہ پاک جانتا تھا کہ یہ لوگ شراب نوشی کے بہت دلدادہ ہیں اور انہیں اس سے بہت زیادہ نفع بھی حاصل ہوتا ہے، اگر انہیں ایک ہی حکم سے منع کیا گیا تو یہ ان پر گراں گزرے گا، لہٰذا اُن پر شفقت فرماتے ہوئے درجہ بدرجہ (Gradually) حرمت نازل فرمائی۔([8])

 (3)سوالات کے ذریعے تربیت کا حکیمانہ انداز:

اسلامی تربیت کا ایک نہایت مؤثر اور حکیمانہ طریقہ سوال و جواب کے ذریعے تعلیم دینا ہے۔ یہ انداز انسان کی توجہ کو مرکوز کرتا، اس کی سوچ کو بیدار کرتا اور بات کو ذہن نشین کر دیتا ہے۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے تربیتِ صحابہ میں اسی حکیمانہ اسلوب کو اختیار فرمایا۔آپ سوال کے ذریعے نہ صرف ان کی دلچسپی پیدا فرماتے بلکہ ان کے فہم و شعور کو بھی جِلا بخشتے، جیسا کہ

ایک مرتبہ  نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے  استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو  کہ مفلس کون ہے؟ لوگوں نے  عرض کی: ہم میں تو مفلس وہ ہے  جس کے پاس درہم ودینار اور سامان نہ ہو۔ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لائے گا مگر ساتھ ہی کسی کو گالی دی ہو، کسی پر زنا کی تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو پس ہر ایک کو اُس کی نیکیوں سے دیا جائے گا اب اگر اُس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور حق دار باقی بچ گئے تو اُن کے حق کے برابر اُن کے گناہوں میں سے لے کر اُس پر ڈال دیا جائے گا اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔([9])

(4)اجتماعی تربیت:

اسلامی تربیت کا ایک نہایت اہم پہلو اجتماعی تربیت ہے۔ اسلام صرف فرد کی اصلاح پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود کو مقصد بناتا ہے۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنےعمل سے یہ واضح فرمایا کہ ایک صالح معاشرہ تبھی وجود میں آ سکتا ہے جب افراد کے ساتھ ساتھ اجتماعی سطح پر بھی عدل، مساوات، اخوت اور خیر خواہی کے اصول رائج کیے جائیں۔ آپ نے امت کو یہ سبق دیا کہ مسلمان صرف اپنی ذات کے نہیں بلکہ پوری جماعت کے خیر خواہ ہوں۔آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےصحابہ کی اجتماعی تربیت کرتے ہوئے صحابۂ کرام  علیہمُ الرّضوان  کے درمیان دومرتبہ مواخات یعنی بھائی چارہ قائم فرمایا۔ پہلی بار خاص طورپر مہاجرین کے درمیان ہجرت سے قبل ہوایہ ایک دوسرے کی مدد اور دین کے حقوق قائم کرنے پر تھا۔ اور دوسری مرتبہ جب آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔([10])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ 30،الاعلى: 14

([2])ابو داؤد،4 / 290، حدیث: 4682

([3])پ 21،الروم: 30

([4])روح البیان،پ21،الروم: 30، 7/31

([5])پ21،الاحزاب: 21

([6])صحیح مسلم، ص133، حدیث:661 ملتقطاً

([7])ابن ماجہ،1/300 ، حدیث529

([8])تفسیر کبیر،2/، 396، پ2،البقرۃ، تحت الآیۃ219

([9])مسلم، ص1069، حدیث:6579

([10])عمدۃ القاری،8 / 182،تحت الحدیث: 1968ملتقطا


Share