خلیفہ امیر اہل سنت کا سفرِ انڈونیشیا (دوسری اور آخری
قسط)
جمعہ کا دن: جلوسِ میلاد اور فیضانِ مدینہ کا افتتاح
10 اکتوبر بروز جمعہ، یہ سفر کا ایک خاص دن تھا۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے سب سے افضل دن ہے۔ حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ”خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ یعنی سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے۔“ (مسلم،ص331،حدیث:1977)
اس دن نمازِ جمعہ کے لیے ایک دوسرے شہر میں ”مسجد مہاجرین“ میں حاضری ہوئی۔
مسجد مہاجرین سے متصل دارالعلوم المہاجرین کے مہتمم اعلیٰ، ابی حاجی مولانا تاجُ الدّین سبکی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ ، جو سٹی نگران کے سسر صاحب ہیں، ان کے گھر میں دعوت کا اہتمام تھا۔ دعوت کے بعد ملاقات کا سلسلہ رہا اور تعویذاتِ عطاریہ تقسیم کیے گئے۔
وہاں سے واپسی پر ایک عالمِ دین ابو ضیاءُ الدّین کے مزار پر حاضری ہوئی جو دعوتِ اسلامی کے مددگار بھی تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی جو اس وقت مہتمم اعلیٰ ہیں، ان کے گھر جا کر دلجوئی کی گئی۔ اسلام میں غمگساری اور دلجوئی کو بڑی اہمیّت حاصل ہے۔ حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خود بھی لوگوں کے گھر جا کر ان کا حال پوچھتے تھے۔ انہیں تعویذاتِ عطاریہ دیے گئے اور ان کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وہاں سے واپسی پر جامعۃُ المدینہ آنا ہوا جہاں جلوسِ میلاد تیار تھا۔ یہ منظر دیکھنے سے تعلّق رکھتا تھا۔ سبز جھنڈے، نعتیں، دُرُود و سلام کی صدائیں، اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبّت میں سرشار لوگوں کا جم غفیر۔ جلوسِ میلاد دراصل حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت باسعادت کی خوشی کا اظہار ہے۔
جلوس میں شرکت کے دوران مقامی شخصیات جیسے پولیس افسران، ٹاؤن ناظم اور یو سی ناظم سے ملاقات ہوئی۔
جلوسِ میلاد کے بعد ایک جگہ دعوتِ اسلامی کے مرکز فیضانِ مدینہ کا افتتاح تھا، خلیفہ امیر اہلِ سنت نے اس افتتاح میں شرکت فرمائی اور لوحِ بنیادپر اپنے دستخط ثبت فرما کر فیضانِ مدینہ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب انڈونیشیا کی سرزمین پر فیضانِ مدینہ کا ایک اور مرکز قائم ہوا۔
افتتاح کے بعد محفلِ میلاد میں بیان ہوا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آچےکے صوبے میں تقریباً 100دن یا 4 مہینے تک محافلِ میلاد کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
محفلِ میلاد سے فارغ ہونے کے بعد راقم کے گھر تشریف آوری ہوئی جہاں مبلغین جمع تھے۔ یہاں مبلغین کی تربیَت کا خصوصی سیشن ہوا۔ مبلغین دراصل دین کے سپاہی ہیں جو لوگوں تک دین کی دعوت پہنچاتے ہیں۔ ان کی تربیَت نہایت اَہَم ہے کیونکہ وہ لوگوں کے سامنے دین کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہاں بھی کئی شرکاء کے سر پر عمامے باندھے گئے اور بارہ دینی کاموں کی ترغیب دلائی گئی۔ مبلغین سے مختلف اَہداف اور نیتیں لی گئیں۔ اَہداف رکھنا اور ان پر عمل کرنا کامیابی کی کلید ہے۔ یہاں پر سفر کا باقاعدہ جدول ختم ہوا۔
اَلْوَداع
11 اکتوبر، ہفتہ کی صبح نو بجے کے قریب ائیرپورٹ کے لیے روانگی کا وقت آ گیا۔ الوداع کا منظر بہت جذباتی اور قابل دیدتھا۔ اسلامی بھائیوں نے ائیرپورٹ پر الوداع کیا۔ آنکھوں میں آنسو تھے لیکن دلوں میں یہ اُمید تھی کہ یہ ملاقات آخِری نہیں ہے۔
خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت کا اگلا سفر جکارتہ اور پھر جکارتہ سے ابوظہبی کے لیے تھا۔ جیسے جیسے طیارہ آچے کی سرزمین سے دُور ہوتا گیا، لوگوں کے دل بھاری ہوتے گئے، لیکن ساتھ ہی یہ عزم بھی مضبوط ہوتا گیا کہ جو تعلیمات اور رہنمائی ملی ہے، اس پر عمل کریں گے۔
سفر کا حاصل
یہ پانچ دن کا سفر محض ایک سفر نہیں تھا بلکہ دلوں کو جوڑنے، روحوں کو بیدار کرنے اور ایمان کو تازہ کرنے کا ایک مبارَک سلسلہ تھا۔ اس سفر میں گیارہ مدارس و جامعات کا دورہ ہوا:(1)دارُالعلوم نُورُالرشاد العزیزیۃ (2)دارُالعلوم بابُ البرکۃ المنوّرہ (3)دارُالعلوم منی آچے (4)دارُالعلوم اُلے تیٹی (5)مدرسہ مصباحُ الورع الاميریہ (6)دارُالعلوم استقامۃُ الدّین دارُالمعارف (7)مدرسہ نُورُالہدایۃ الرحمۃ الاميریہ (8)دارُالعلوم المہاجرین (9)دارُالعلوم روحُ الاسلام (10)مدرسۃ المدینہ انڈونیشیا(11)جامعۃ المدینہ انڈونیشیا۔
ان مدارس میں ہزاروں طلبہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دارالعلوم اُلے تیٹی میں تقریباً چار ہزار طلبہ و طالبات ہیں، جبکہ دارالعلوم استقامۃُ الدین میں تین ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انڈونیشیا میں دینی تعلیم کا کتنا زبردست رُجحان ہے۔
اس سفر کے دوران 9 مقامات پر بیانات ہوئے جن میں مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔ اساتذہ کا احترام، باجماعت نماز کی اہمیّت، اخلاص کے ساتھ علم حاصل کرنا، بارہ دینی کاموں میں شرکت، یہ سب موضوعات ایسے تھے جو نئی نسل کی تربیَت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
انٹرنیشنل یونیورسٹی میں اسلاموفوبیا کے موضوع پر سیشن ایک خاص اہمیّت رکھتا تھا۔ یہ عصری تعلیم اور دین کا خوبصورت امتِزاج تھا۔طلبہ کے سوالات اور ان کے جوابات سے یہ بات واضح ہوئی کہ نوجوان نسل میں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا شوق موجود ہے، ضرورت صرف صحیح رہنمائی کی ہے۔
اس سفرکے دوران خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے درج ذیل پانچ بزرگانِ دین کے مزاراتِ مبارکہ پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی فرمائی:
(1)حضرت حبيب ابو بكر بن حسين رحمہ اللہ (2)حضرت الشيخ عبد الرؤوف السنكلی رحمہ اللہ (3)حضرت والد نورا رحمہ اللہ (4)حضرت عالمِ دین دارالعلوم اُلے تیٹی رحمہ اللہ (5)حضرت ابو عبد اللہ بن احمد رحمہ اللہ ۔
ان کے مزارات پر فاتحہ خوانی دراصل ان کے ساتھ روحانی رشتے کو مضبوط کرتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کی خدمت کا ثَمر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔
10مقامات پر مدنی حلقے لگائے گئے جن میں انفرادی کوشش،سنّتوں کی ترغیب اور دعوتِ اسلامی سے وابستگی کی دعوت دی گئی۔ مدنی حلقہ دراصل ایک ایسی مجلس ہے جس میں چند لوگ بیٹھ کر دینی باتیں کرتے ہیں،اپنے اعمال کا جائزہ لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں۔
مدنی بہاریں
الحمدُ للہ! اس مبارَک سفر کے دوران سینکڑوں اسلامی بھائیوں نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ بیعت دراصل ایک عہد ہے جو بندہ اپنے مرشد سے کرتا ہے کہ وہ دین پر عمل کرے گا اور گُناہوں سے بچے گا۔ یہ ایک روحانی رشتہ ہے جو طالب کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔
کئی اسلامی بھائیوں نے ہاتھوں ہاتھ عمامہ شریف سجایا۔ عمامہ صرف ایک کپڑا نہیں بلکہ عمامہ پہننا سنّت ہے اور اس سے وقار اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ”الْعَمَائِمُ تِيجَانُ الْعَرَبِ یعنی عمامے عرب کے تاج ہیں۔“(جامع صغیر،ص353،حدیث:5723)
درجنوں اسلامی بھائیوں نے دعوتِ اسلامی کے بارہ دینی کاموں میں شرکت کی نیّت کی۔ یہ نیتیں دراصل تبدیلی کا آغاز ہیں۔ جب انسان کچھ کرنے کی نیّت کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔
سبق اور نصیحتیں
اس سفر سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ دین کی خدمت میں رکاوٹیں آتی رہیں پھر بھی سفر جاری رکھنا ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ تعلیم اور تربیَت ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔ مدنی حلقے، کسوٹی، اور انفرادی ملاقاتیں یہ سب تربیَت کے مختلف طریقے ہیں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ مختلف طبقات سے رابطہ ضَروری ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ، دارُالعلوم کے طلبہ، مبلغین، علما اور عام لوگ سب سے ملاقات ہوئی۔
چوتھا سبق یہ ہے کہ بزرگانِ دین کے مزارات پر جانا اور ان کی سیرت سے واقفیت حاصل کرنا ضَروری ہے۔ یہ ہمیں دین پر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
پانچواں سبق یہ ہے کہ صبر اور استقامت بہت اَہَم ہیں۔ پانچ دن میں اتنا کام کرنا، رات دیر تک جاگنا، سفر کی تھکاوٹ یہ سب صبر کا تقاضا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا سایہ تادیر قائم رکھے، ان کے فیوض و برکات کو پورے انڈونیشیا سمیت دنیا بھر میں عام فرمائے اور دعوتِ اسلامی کو مزید ترقّی و عُروج عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران انڈونیشیا مشاورت
Comments