حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کا حسن اور برکات (ساتویں اور آخری قسط)


حضرت سیدنا یوسف علیہ السّلام کے بھائیوں کی توبہ(ساتویں اور آخری قسط)

بھائیوں کی شرمندگی اور توبہ:

حضرت یوسف علیہ السّلام کے بھائی ایک جگہ جمع ہوئے اور ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگے: اگر والد صاحب اور بھائی یوسف نے تمہیں مُعاف کردیا تو رب کریم بھی تمہیں معاف کردے گا، اس وقت حضرت یوسف حضرت یعقوب علیہ السّلام کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے پھر یہ سب بھائی حضرت یعقوب علیہ السّلام کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے: ہم پر بڑی آزمائش اُتری ہے اور اس جیسی پریشانی پہلے کبھی نہ تھی انبیاءِ کِرام مخلوق میں سب سے زیادہ رحم و شفقت کرنے والے ہوتے ہیں، حضرت یعقوب علیہ السّلام نے فرمایا: اے میرے بچّو! کیا معاملہ ہے ؟ بیٹوں نے عرض کی: ہم نے آپ کے ساتھ اور اپنے بھائی حضرت یوسف کےساتھ جو کچھ کیا وہ آپ سب جانتے ہیں، آپ دونوں نے ہمیں معاف نہیں کیا، یہ سُن کر حضرت یعقوب علیہ السّلام اور حضرت یوسف علیہ السّلام دونوں نے فرمایا: کیسے نہیں معاف کیا معاف تو کردیا ہے، بیٹوں نے کہا: جب اللہ کریم ہی معاف نہ کرے تو آپ دونوں کی معافی سے کیا فائدہ ہوگا، حضرت یعقوب علیہ السّلام نے فرمایا: اے میرے بچّو! تم کیا چاہتے ہو؟ بیٹوں نے عرض کی: ہم چاہتے ہیں کہ آپ اللہ سے ہمارے لیے دُعا کریں جب وحی آئے تو اللہ سے پوچھیے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ہے یا نہیں؟ جب اس کی طرف سے معافی کا جواب آئے گا تب ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور ہمارے دل پُرسکون ہوں گے ورنہ ہماری آنکھوں کو دنیا میں کبھی بھی ٹھنڈک نہ پہنچے گی۔

بھائیوں کی توبہ قبول ہوگئی :

چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السّلام کھڑے ہوئے اور نماز شروع کردی حضرت یوسف اور دوسرے بھائی بھی حضرت یعقوب علیہ السّلام کے پیچھے نہایت خشوع وخضوع کےساتھ نماز پڑھنے لگے پھر نماز کے بعد حضرت یعقوب علیہ السّلام نے دُعا کی اور حضرت یوسف نے اٰمین کہی، بیس سال کا طویل عرصہ گزر گیا جواب نہ آیا، پھر حضرت جبرائیل علیہ السّلام وحی لےکر حضرت یعقوب علیہ السّلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کریم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ آپ کو خوش خبری دوں کہ اس نے آپ کے بیٹوں کے حق میں آپ کی دُعا قبول کرلی ہے اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب معاف کردیا ہے۔ ([1])

گستاخ کی زبان بند ہوگئی:

 ایک مرتبہ ایک بادشاہ رَیّان بن الوَلید نےحضرت یوسف علیہ السّلام سے درخواست کی: میں آپ کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السّلام سے ملنا چاہتا ہوں، حضرت یوسف علیہ السّلام نے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السّلام سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: میں درخواست قبول کرتا ہوں، جب حضرت یعقوب علیہ السّلام بادشاہ کے پاس پہنچے تو بادشاہ نہایت عزّت و احتِرام سے پیش آیا اور آپ کو اپنے پہلو میں تخت پر بٹھایا اور سُوال کیا: آپ کی عمر کیا ہوگی؟ آپ علیہ السّلام نے جواب دیا: 140 سال، اس پر بادشاہ کا ایک درباری کہنے لگا: اے شیخ! آپ نے جھوٹ کہا ہے، حضرت یعقوب علیہ السّلام نے اس شخص کےخلاف دُعا کی تو وہ اسی وقت نیچے گرا اور اس کی زبان بند ہوگئی اب وہ کسی سے کوئی بھی بات نہیں کر سکتا تھا بادشاہ یہ دیکھ کر نہایت غمگین ہوگیا اور حضرت یوسف علیہ السّلام سے عرض گُزار ہوا کہ آپ والد محترم حضرت یعقوب علیہ السّلام سے کہیے کہ وہ اس کی زبان کھول دیں، حضرت یعقوب علیہ السّلام نے اس کے لیے دوبارہ دُعا کی تو اس کی زبان صحیح ہوگئی۔([2])

موت کے قاصد:

منقول ہےکہ حضرتِ یعقوب علیہ السّلام اور حضرتِ عزرائیل مَلَکُ الْموت علیہ السّلام میں دوستی تھی۔ ا یک بارجب حضرتِ مَلَکُ الْموت علیہ السّلام آئے تو حضرت یعقوب علیہ السّلام نے اِسْتِفسار فرمایا: آپ ملاقات کے لیے تشریف لائے ہیں یا میری رُوح قبض کرنے کے لیے؟ کہا: ملاقات کے لیے۔ فرمایا: مجھے وفات دینے سے قبل میرے پاس اپنے قاصد بھیج دینا۔مَلَکُ الْموت علیہ السّلام نے کہا: میں آپ کی طرف دو یا تین قاصد بھیج دوں گا۔چُنانچِہ جب رُوح قَبض کرنے کے لیے مَلَکُ الْموت علیہ السّلام آئے تو آپ علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا: آپ نے میری وفات سے قبل قا صِد بھیجنے تھے وہ کیا ہوئے ؟ حضرت مَلَکُ الْموت علیہ السّلام نے کہا: سیاہ یعنی کالے بالوں کے بعد سفید بال، جِسمانی طاقت کے بعد کمزوری اور سیدھی کمر کے بعدکمر کا جُھکاؤ، اے یعقوب (علیہ السّلام)! موت سے پہلے انسان کی طرف میرے قاصد ہی تو ہیں۔([3])

یعقوب علیہ السّلام کی وصیت:

 تاریخ بیان کرنے والے عُلما فرماتے ہیں: حضرت یعقوب علیہ السّلام اپنے فرزند حضرت یوسف علیہ السّلام کے پاس مصر میں چوبیس سال بہترین عیش و آرام میں اور خوش حالی کے ساتھ رہے۔([4])جب وفات کا وقت قریب آیا تو آپ علیہ السّلام نے حضرت یوسف علیہ السّلام کووصیت کی کہ آپ کا جنازہ ملک ِشام میں لے جا کر ارضِ مقدّسہ میں (بیت المقدس ان دنوں ملک شام کے تحت تھا)آپ کے والد حضرت اسحاق علیہ السّلام کی قبر شریف کے پاس دفن کیا جائے۔([5])بَوقتِ وفات حضرت یعقوب علیہ السّلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: میرے بعد کس کی پوجا کروگے؟ بولے: ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء و اجداد ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق کا ایک خدا اور ہم اس کے حُضور گردن رکھے ہیں۔([6]) فرمایا: اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لیے چن لیا ہے  توتم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ ([7])

 کَنعان کی جانب واپسی:

 ایک قول کے مطابق حضرت یعقوب علیہ السّلام چالیس سال تک مصر میں مقیم رہے پھر ایک دن اللہ پاک کی طرف سے وحی آئی: اب آپ کی وفات کا وقت قریب آچکا ہے یہاں سے کوچ کرکے اپنے آباء و اجداد کی قبروں کی طرف جائیے وہاں آپ کی وفات ہوگی۔ اس کے بعد حضرت یعقوب علیہ السّلام اپنے گھر والوں کے ساتھ کنعان کے شہروں کی طرف تشریف لے آئے۔

مزارات پر حاضری:

جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسحاق علیہما السَّلام کے مزارات پر پہنچے تو دیکھا کہ فرشتے وہاں موجود ہیں اور ایک کھدی ہوئی قبر بھی دیکھی، فرشتوں سے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے؟ انہوں نے عرض کی: رب کریم کے ایک مہربان بندے کے لیے ہے، آپ علیہ السّلام نے قبر میں جھانکا تودیکھا کہ قبر میں بلند منبر رکھے ہوئے ہیں جن پر خوبصورت چہرے والے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، آپ نے پوچھا: منبروں پر یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی گئی: ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کی اولاد ہے،حضرت یعقوب علیہ السّلام نے چاہا کہ ان کے پاس جاکر ان کو سلام کریں تو فرشتوں نے عرض کی: جب تک آپ اس پیالے میں سے کچھ نوش نہ فرمائیں گے تب تک اندر داخل نہیں ہوسکتے، پھر ملکُ الموت علیہ السّلام نے ایک پیالہ پیش کیا آپ علیہ السّلام نے جونہی اسے نوش فرمایا(تو آپ کی روح قبض کرلی گئی اور) آپ نیچے تشریف لے آئے، فرشتوں نے آپ کو غسل دیا اور جنتی کفن زیب تن کیا جبکہ لوگوں نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ علیہ السّلام کی تدفین کردی۔([8])

مزار مبارک:

حضرت اسحاق علیہ السّلام کی قبر مبارَک بیتُ القُدس کی عمارت کے احاطہ میں منبر کے پاس والے ستون کی جانب ہے([9]) اسی مقام پر حضرت یعقوب علیہ السّلام کی قبر مبارک بھی ہے۔ ([10])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])تاریخ الانبیاء للخطیب البغدادی،ص139

([2])قصص الانبیاءللکسائی،ص:176، 177

([3])مُکاشفۃ ُالْقُلوب،ص21، بحوالہ غفلت،ص8بتغیر

([4])صراط الجنان، 5/63

([5])صراط الجنان، 5/63

([6])ترجمہ کنز الایمان، پ1، البقرۃ: 133

([7])ترجمہ کنز العرفان، پ1، البقرۃ: 132

([8])قصص الانبیاء للکسائی، ص:177، 178

([9])الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل، 1/146

([10])کتاب الکلیات لابی البقاء، ص:987


Share