سچ میں برکت


سچ کی بَرَکت( The blessing of truth)


اللہ پاک کے سچّے نبی حضرت محمد  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَاِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي اِلَى الْبِرِّ وَاِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي اِلَى الْجَنَّةِ یعنی تم پر سچ بولنا لازم ہے، بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنّت تک پہنچا دیتی ہے۔(مسلم،ص1078، حدیث:6639)

پیارے بچّو!سچ کا مطلب ہے کہ جو بات حقیقت میں ہوئی ہو، اُسی کو بیان کرنا۔ مثلاً اگر غلطی سے کوئی چیز آپ سے ٹوٹ گئی ہے تو اَمی یا اَبّو کے پوچھنے پر بتا دیں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، یہ چیز مجھ سے ٹوٹ گئی۔ یہ سچ ہے۔ لیکن اگر آپ کہیں کہ میں نے نہیں توڑی، مجھے نہیں معلوم کیسے ٹوٹ گئی ؟ تو یہ جھوٹ ہے۔

سچ ایک نیکی ہے،سچ جنّت میں لے جانے والا عمل ہے، سچ نَجات دلاتا ہے، سچ ذہنی سکون کا سبب ہے،سچ انسان کو بااعتماد بناتا ہے، سچ سے گھربار میں بَرَکت ہوتی ہے، سچے بچّے سے سب محبّت کرتے ہیں اور اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔ سچ سے کاموں میں بَرَکت ہوتی ہے سچ سے اللہ پاک اور اس کے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  راضی ہوتے ہیں۔

سچّے چرواہے کا واقِعہ:

ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر   رضی اللہ عنہما  نے ایک غلام چرواہے کو دیکھا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ انہوں نے اُسے کھانے کی دعوت دی اُس نے کہا: میرا روزہ ہے۔ آپ  رضی اللہ عنہ  نے اُس کا امتحان لیا اور کہا: ایک بکری ہمیں بیچ دو اس کی قیمت اور گوشت بھی آپ کو دیں گے، اور مالک سے کہہ دینا کہ بھیڑیا (Wolf) کھا گیا۔ چرواہے نے فوراً جواب دیا:تو پھر اللہ کہاں ہے؟ (یعنی اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اُس نوجوان کی یہ سچّائی دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمر   رضی اللہ عنہما  بہت خوش ہوئے اور) بعد میں آپ  رضی اللہ عنہ  نے اس کے مالک سے وہ چرواہا اور ساری بکریاں خرید لیں اور چرواہے کو آزاد کر دیا اور بکریاں اسے تحفے میں دیدیں۔ (دیکھیے:شعب الایمان، 4/329، حدیث:5291)

دیکھیے! سچ کی برکت سے چرواہے کو غلامی سے آزادی ملی، اور دنیاوی مال بھی حاصل ہوا، اگر ہم بھی اللہ و رسول کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سچ بولیں تو ہمیں بھی فوائد حاصِل ہوں گے۔اِن شآءَ اللہ

اچّھے بچّو! آپ بھی اپنی عادت بنائیں کہ ہمیشہ سچ بولیں۔ گھر میں، اسکول میں، دوستوں میں اور کھیلتے وقت ہر جگہ سچ بولیں۔ اگر ہوم ورک نہیں کیا تو ٹیچر کو سچ بتائیں۔ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو ڈریں مت، بلکہ سچ سچ بتا دیں۔کہتے ہیں کہ ”سانچ کو آنچ نہیں“ یعنی سچ بولنے والے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا وہ ہمیشہ محفوظ رہتا ہے اور سچ سے دنیا و آخِرت کے اور بہت سارے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں ہمیشہ سچ بولنے اور جھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share