بکری کا گوشت


بکری کا گوشت

اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو کھانوں میں گوشت بہت زیادہ پسند تھا۔([1])رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: گوشت اہلِ دنیا اور اہلِ جنّت کے کھانوں کا سردار ہے۔ ([2])ایک حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: خَيْرُ الْاِدَامِ اللَّحْمُ وَهُوَ سَيِّدُ الْاِدَامِ یعنی بہترین کھانا گوشت ہے اور وہ (گوشت) کھانوں کا سردار ہے۔([3])

حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے بکری، دنبہ، بھیڑ، اونٹ، خرگوش، مرغ، بٹیر، مچھلی کا گوشت تناول فرمایا ہے۔([4]) آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو بکری کےگوشت میں بکری کی دَستی اور شانہ بہت مرغوب تھے ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ   رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے سامنے گوشت  اورثَرید کا پیالہ رکھا، نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے بکری کی ایک دستی اٹھائی،  بکری کے گوشت میں آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو دستی زیادہ پسند تھی، اسے دانتوں سے نوچ نوچ کر تناول فرمایا۔([5])حضرت عبدُاللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا۔([6])

بکری کا شانہ چھری سے کاٹ کر تناول فرمایا:

 حضرت عَمرو بن اُمَیّہ ضَمْری  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: میں نے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو بکری کا شانہ چھری سے کاٹ کر تناول فرماتے ہوئے دیکھا،نماز کے لیے بلایا گیا،تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  چھری رکھ کر کھڑے ہوگئے، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے نماز پڑھی اور(تازہ) وُضو نہیں فرمایا۔([7])

پوری دستی بھنی ہوئی تھی، حضورِ انور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  چھری سے بوٹیاں کاٹتے اور کھاتے تھے یا دانت سے نوچ کر کھاتے تھے۔([8])

توجہ رہے کہ  اگر بوجہ ضرورت چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا جائے کہ گوشت اتنا گلا ہوا نہیں ہے کہ ہاتھ سے توڑا جاسکے یا دانتوں سے نوچا جاسکے یا مثلاً مسلّم ران بھنی ہوئی ہے کہ دانتوں سے نوچنے میں دقت ہوگی تو چھری سے کاٹ کر کھانے میں حرج نہیں۔ لیکن اس سے آج کل کے چھری کانٹے سے کھانے کی دلیل لانا صحیح نہیں۔([9])

بکری کی دَستی طلب فرما کر تناول فرمائی:

نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع اسلم  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:   میرے پاس بکری ہدیۃً بھیجی گئی اسے ہنڈیا میں ڈالا، پھر حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تشریف لائے اور فرمایا: اے ابو رافع! یہ کیا ہے؟ عرض کی: یارسولَ ا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! یہ بکری ہے جو ہمیں ہدیۃً ملی ہے، ہم نے ہنڈیا میں پکالیا۔ رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: اے ابورافع! ہم کو ایک دَستی دو۔ میں نے دستی پیش کی،پھر فرمایا: دوسری دستی بھی دو۔ میں نے دوسری دستی بھی پیش کی۔ پھر فرمایا: اے ابورافع! اور دستی لاؤ۔ میں نے عرض کی: یارسولَ ا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! بکری کی دو ہی دستیاں ہوتی ہیں۔ تب ان سے حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: اگر تم خاموشی سے ہم کو دستی پر دستی دیتے رہتے تو جب تک خاموش رہتے، ہم کو دستی پر دستی ملتی رہتی۔([10])

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:معلوم ہوا کہ اپنے غلاموں یا دوستوں سے کوئی چیز بے تکلفی سے مانگنا ناجائز نہیں۔جس سُوال سے منع کیا گیا وہ ذلّت کا سُوال ہے، حضورِ انور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو  دستی پسند تھی کیونکہ (دستی کا گوشت) گلتا بھی جلدی ہے،لذیذ بھی ہوتا ہے،اس میں ریشہ یعنی دھاگہ بھی نہیں ہوتا۔ غالباً حضورِ اقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ساتھ صحابہ   رضی اللہ عنہم کی جماعت ہوگی اور سب کے ساتھ یہ گوشت کھایا ہوگا۔ یعنی ہم مطالبہ کیے جاتے تم دیتے رہتے، اسی ہنڈیا میں سے سینکڑوں دستیاں نکل آتیں۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ارشاد پر ہرقسم کی اشیاء عالَمِ غیب سے مہیا ہوجاتی ہیں۔ حضرت طلحہ کے گھر تین چار سیر گوشت سینکڑوں کو کھلا دیا،بوٹیاں اور شوربے کا پانی اور مصالحہ عالَمِ غیب ہی سے آرہا تھا۔ دوسرا یہ کہ بزرگوں کے سامنے ایسے موقع پر انکار یا تردُّد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ بےدَریغ ان کے حکم پرعمل کرنا چاہیے، بحث و انکار سے فیض بند ہوجاتا ہے۔([11])

صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم بھی حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ادا کو ادا کرنے کا اہتمام فرماتے جیساکہ حضرت عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  نے بکری کی دَستی کا گوشت تناول فرمایا: امیرالمؤمنین حضرت عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  نے ایک دن مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر بکری کی دستی کا گوشت منگوایا اور کھایا اور بغیر تازہ وُضو کیے نَماز ادا کی۔ پھر فرمایا کہ رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے بھی اِسی جگہ بیٹھ کر یِہی کھایا تھا اور اِسی طرح کیا تھا۔([12])

صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم بکری کے گوشت سے حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دعوت فرمایا کرتے جیساکہ حضرت جابر نے جَو کی روٹی اور بکری کے گوشت سے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ضیافت کی۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے موقع پر میں نے ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچّہ ذبح کرکے کھانے کا اہتمام کیا، اور نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی: یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! میں نے ایک صاع جو کے آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچّے کا گوشت تیار کروایا، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  چند اشخاص کے ساتھ چل کر تناول فرما لیجیے۔ یہ سُن کر حضورِ انور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: اے خندق والو! جابر نے دعوتِ طعام دی ہے، سب لوگ ان کے گھر پر چل کر کھانا کھا لیں، پھر مجھ سے فرمایا: جب تک میں نہ آجاؤں روٹی مت پکوانا۔ رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تشریف لائے گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لُعابِ دہن ڈال کر بَرَکت کی دُعا فرمائی اور گوشت کی ہنڈیا میں بھی اپنا لعابِ دہن ڈال دیا۔ پھر فرمایا: کسی روٹی پکانے والی کو بلا لو تاکہ وہ تمہارے ساتھ مل کر روٹیاں پکوائے اور ہنڈیا سے پیالے میں سالن ڈال کر دینا، ہنڈیا چولہے سے نہ اُتارنا۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم ایک ہزار تھے سب نے کھانا کھایا یہاں تک کہ کھانا بچ گیا اور وہ واپس چلے گئے مگر ہماری ہنڈیا میں سالن پہلے کی طرح پک رہا تھا اور ہمارے گوندھے ہوئے آٹے سے اسی طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔([13])

حضورِاکرم اور شیخین کی بکری کے گوشت سے ضیافت:

حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: ایک دن رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ساتھ ایک انصاری صحابی کے گھر تشریف لے گئے، وہ گھر پر موجود نہیں تھے، لیکن اُن کی بیوی نے ان حضرات کو دیکھ کر خوش آمدید کہا۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ان سے صحابی کے بارے میں دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کی کہ وہ میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں، اتنے میں وہ انصاری صحابی آگئے اور انہوں نے حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اور شیخین کو دیکھ کر کہا: اَلحمدُ للہ آج مجھ سے بڑھ کر خوش قسمت کوئی نہیں، جس کے گھر ایسے معزّز مہمان تشریف لائے ہوں، پھر وہ کھجور کا ایک خوشہ لائے، جس میں ادھ پکی اور خشک کھجوروں کے ساتھ کچھ تر کھجوریں بھی تھیں اور حضرات سے عرض کی: تناول فرمایئے۔ اور خود نے (بکری ذبح کرنے کے لیے) چھری اُٹھائی، نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ان سے فرمایا: دودھ والی کو ذبح نہیں کرنا۔ انہوں نے بکری ذبح کی، ان حضرات نے بکری کا گوشت کھایا،  کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔([14])

حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  بذاتِ خود بکری ذبح فرماکر اس کا گوشت دوسروں کو بھی عطا فرماتے جیساکہ حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہ ا فرماتی ہیں: رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جب کوئی بکری ذبح فرماتے تھے تو کچھ گوشت حضرت خدیجہ  رضی اللہ عنہ ا کی سہیلیوں کے گھروں میں ضرور بھیجا کرتے تھے۔([15])

بکری کے گوشت سے ولیمہ فرمایا:

حضرت انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرت زینب  رضی اللہ عنہ ا کے نکاح پر پوری ایک بکری سے ولیمہ کیا، ایسا ولیمہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نہیں کیا۔([16])یعنی تمام ولیموں میں یہ بہت بڑا ولیمہ تھا کہ ایک پوری بکری کا گوشت پکا تھا۔([17])

بکری کے گوشت کے طبّی فوائد:

حکیموں کا کہنا ہے کہ جانوروں میں سب سے بہتر گوشت بکری کا ہوتا ہے، بکری کا گوشت  صاف خون پیدا کرتا اورگرم مزاجوں کے لیے مفید ہے، نیز دستی کا  گوشت ہلکا، ملائم، لذیذ، جلد گلنے، جلد ہضم ہونے والا اور بیماری سے خالی ہوتا ہے۔ گردن کا گوشت بھی عمدہ لذیذ، جلد ہضم ہونے والا اور ہلکا ہوتا ہے، پُشت (Back) کے گوشت کا ریشہ ران سے کم موٹا ہوتا ہے اور اس میں خون پیدا کرنے والے اَجزا ملتے ہیں۔([18])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھیے: اخلاق النبی وآدابہ، ص118، حدیث:597

([2])اِبنِ ماجہ، 4/28، حدیث: 3305

([3])معجم اوسط، 5/322، حدیث:7477

([4])دیکھیے: سیرتِ مصطفیٰ، ص586

([5])مسلم، ص106،حدیث: 481

([6])بخاری، 1/93، حدیث:207

([7])بخاری، 3/533، حدیث:5422

([8])مراٰۃ المناجیح، 6/19

([9])بہارِ شریعت، 3/368

([10])دیکھیے: مسند امام احمد، 45/172، حدیث: 27195

([11])دیکھیے: مراٰۃ المناجیح، 1/312

([12])دیکھیے: مسند امام احمد، 1/495، حدیث:441-کراماتِ عثمانِ غنی، ص8

([13])دیکھیے:بخاری، 3/51، 52، حدیث: 4101، 4102

([14])دیکھیے: مسلم، ص867، حدیث:5313

([15])دیکھیے: بخاری، 2/565، حدیث: 3818

([16])بخاری، 3/453، حدیث: 5168

([17])بہار شریعت، 3/388

([18])مختلف ویب سائٹ سے ماخوذ


Share