برکت کا زوال اسباب اور ہماری ذمہ داریاں
از: امیرِ اَہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
آج کل بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ برکت نہیں رہی، پیسے میں برکت نہیں، وقت بے برکت ہو گیا ہے، حتّٰی کہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں برکت اور کشادگی باقی نہیں رہی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ برکت کسی سے مکمل طور پر چھن نہیں جاتی، بلکہ کسی کو زیادہ، کسی کو کم اور کسی کو حالات کی بنا پر یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ برکت ختم ہورہی ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے طرزِ زندگی اور اخراجات پر سنجیدگی سے غور کریں۔
ماضی میں بجلی کا استعمال نہایت محدود تھا۔ جب ہم بچپن میں تھے تو ہمارے گھر میں ایک آدھ بلب جلتا تھا، نہ ٹیوب لائٹ تھی، نہ پنکھے۔ گرمی میں گتّے کے ٹکڑے سے ہوا جھل لی جاتی تھی، کھٹمل بھی کاٹتے تھے، مکان بھی پرانا اور سادہ سا تھا، مگر اس کے باوجود زندگی کا پہیہ چل ہی جاتا تھا۔ اُس وقت استعمال کم ہونے کی وجہ سےبجلی کا بل کم آتا تھا۔
آج صورتِ حال اس کے برعکس (یعنی اُلَٹ) ہے۔ ایک سوئچ آن کرنے سے کئی کئی بلب ایک ساتھ روشن ہو جاتے ہیں، حالانکہ ضرورت صرف ایک بلب کی ہوتی ہے، مگر بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ جب تک سب نہ جلیں، ایک بلب بھی نہیں جلتا۔ بلاضرورت اور فضول استعمال ہماری عادت بن چکا ہے۔ اسی طرح اے سی کو ہی دیکھ لیجیے؛ پہلے ہم نے اے سی کا نام تک نہیں سنا تھا، اور آج ہر کمرے میں اے سی موجود ہے، بعض گھروں میں تو کچن تک میں اے سی لگا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، اس سبب سے بجلی کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
کھانے پینے کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ پہلے کھانا سادہ اور کم خرچ ہوتا تھا،اور اب نت نئے مرغن پکوانوں کا رواج عام ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے کھانوں کے بےشمار انداز متعارف کروا دیے ہیں ایک کلک پر کھانوں کی ایک فہرست سامنے آجاتی ہے۔ جو چیز پہلے چند روپوں میں تیار ہو جاتی تھی، اب وہی سینکڑوں یا ہزاروں میں پڑتی ہے، تو یوں خرچ بڑھنا ہی ہے۔نیز پہلے کھانا بھی بقدرِ ضَرورت پکایاجاتا تھا۔ اگر کچھ بچ جاتا تو نہ فریج ہوتے تھے اور نہ ذخیرہ کرنے کا رواج،یا تو اسے چھیکے میں رکھ دیا جاتا یا مستحقین کو دے دیا جاتا۔ اب زیادہ پکایا جاتا ہے، فریج میں رکھا جاتا ہے، پھر بسا اوقات نہ بچے کھاتے ہیں نہ بڑے، اور آخرکار وُہی کھانا کوڑے دان کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس طرح نعمتوں کا ضیاع (یعنی ضائع ہونا) بڑھ گیا ہے اور ضائع کرنا بےبرکتی کا سبب بنتا ہے۔
لباس کے معاملے میں بھی یہی حال ہے۔ پہلے لوگوں کے سادہ کپڑے ہوتے تھے، پیوند لگے کپڑے بھی پہن لیے جاتے تھے۔ میں نے خودبھی کئی مرتبہ پیوند لگے کپڑے پہنے ہیں۔ آج کپڑا چند بار دھل جائے تو فوراً نیا لباس خرید لیا جاتا ہے۔
عورتوں کے اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ فیشن کی دوڑ، شادیوں میں کئی کئی جوڑے، اور شادی کے لیے انتہائی قیمتی لباس،یہ سب ایسے رجحانات ہیں جو شاید پہلے کم تھے۔
اگر کفایت شعاری اختیار کی جائے تو برکت ہی برکت ہے، یہاں تک کہ پڑوسی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
گھروں کا معاملہ بھی قابلِ غور ہے۔ پہلے چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے تھے۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حجرہ مبارک بھی نہایت سادہ اور بظاہر مختصر (مگر عظمت میں وسیع ترین) تھا، مگر آج مکانات اور پلازے دن بدن بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔ جتنا بڑا مکان ہوگا، اتنے ہی زیادہ رنگ و روغن، بجلی، پانی، گیس، صفائی اور عملے کے اخراجات ہوں گے۔ حالانکہ سادہ زندگی میں بھی عزت اور سکون کے ساتھ گزارا ممکن ہے۔
قراٰنِ کریم ہمیں صاف الفاظ میں بتاتا ہے:
لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ13، ابراہیم:7)
آسان ترجمہ قرآن کنزالعرفان: اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح کاروباری معاملات میں جھوٹ، دھوکا اور بلاضرورت قسمیں کھانا بھی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: ”خرید و فروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو! کیونکہ زیادہ قسمیں کھانا سامان بِکوا دیتا ہے، لیکن برکت مٹا دیتا ہے“۔(مسلم، ص668، حدیث:4126) فضول خرچی، اسراف، گناہوں میں مال خرچ کرنا، نعمتوں کو ضائع کرنا یہ سب بے برکتی کے اسباب ہیں۔
بلا ضرورت لائٹس جلانا اور کچن، باتھ روم اور دیگر جگہوں کی بتیاں روشن رکھنا اسراف ہے۔ اگر واقعی ضرورت ہو تو 100 بلب روشن کرنا بھی درست ورنہ بےضرورت ایک بھی کیوں؟ بے شک یہی پیسہ بچا کر کسی مستحق کی مدد بھی کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ مہنگائی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، مگر اس کے باوجود ہمیں اپنی اصلاح کرنا ہوگی، کیونکہ بہت سی مشکلات ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے اور نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت
شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے

Comments