حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ


حضرت سیدنا عبدالرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ

رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ایک جلیلُ القدر صحابی ایک دن کالا رنگا ہوا سُوتی عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ سرکارِ نامدار  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں بلایا، اُن کا عمامہ کھولا اور پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے اُن کے سر پر اس طرح عمامہ سجایا کہ چار انگلیوں جتنا  یا اس کے اریب قریب شملہ لٹکایا، اس کے بعد ارشاد فرمایا: اس طرح عمامہ باندھو کیونکہ یہ زیادہ خوبصورت اور حسین انداز ہے۔ ([1]) اس کےبعد سے اُن صحابی رسول کا معمول تھا کہ جب کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا یا کوئی بڑا معاملہ در پیش ہوتا تو اُس عمامہ شریف کو زیبِ سر فرماتے، چنانچہ جب وہی صحابی حضرت سیّدنا عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  کی خلافت کے اعلان کے لیے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو اس وقت وہی عمامہ شریف باندھ رکھا تھا جو سرکارِ مدینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اُن کے سر پر سجایا تھا۔([2])

رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے مبارک ہاتھوں سے عمامہ شریف کا تاج سر پر سجانے والے یہ جلیلُ القدر صحابی حضرت سیّدنا عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ تھے۔

آپ ان دس خوش نصیب صحابۂ کرام میں سے ایک ہیں جنہیں رحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ایک ہی مجلس میں جنّت کی بشارت عطا فرمائی۔ ایک ساتھ جنّت کی خوش خبری پانے والے ان خوش نصیب صحابۂ کرام  علیہم الرّضوان  کو ”عَشرۂ مُبَشَّرہ“ کہا جاتا ہے۔

نسب نامہ:

آپ  رضی اللہ عنہ  کا پورا نام عبدُ الرّحمٰن بن عوف بن عبدعوف بن عبد بن حارث بن زہرہ بن كلاب بن مرہ قرشی زہری جبکہ آپ کی کنیت ابومحمدہے۔ قریش کے خاندان بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔

پیدائش:

آپ رضی اللہ عنہ  عمر میں محسنِ کائنات، فخرِ موجودات  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے تقریباً دس سال چھوٹے تھے۔ آپ  رضی اللہ عنہ  عامُ الفیل کے دس سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے جبکہ مکّی مَدَنی سرکار  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  واقعۂ فیل کے سال دنیامیں تشریف لائے۔

نام تبدیل فرمادیا:

 حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  خود فرماتے ہیں کہ پہلے میرا نام عَبْدِ عَمْرو تھا مگر جب اسلام کی دولت نصیب ہوئی تو نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے میرا نام تبدیل فرمادیا۔([3])

اولادوازواج:

آپ  رضی اللہ عنہ  نے یکے بعد دیگرےمجموعی طور پر کم وبیش 15 نکاح فرمائے جن سے آپ کے یہاں 20 بیٹوں اور  8بیٹیوں کی ولادت ہوئی۔([4])

حلیہ مبارکہ:

آپ  رضی اللہ عنہ  کاجسمانی حلیہ کچھ یوں تھا: رنگت سرخی مائل سفید، چہرہ چاند جیسا حسین، گال گلاب کی طرح نرم و ملائم، آنکھیں کشادہ اورلمبی پلکوں والی، ناک لمبی اور خوشنما، ہتھیلیاں اور انگلیاں موٹی موٹی تھیں،نیز داڑھی شریف اور سر کے بال آخر عمر تک سیاہ ہی رہے۔([5])

حیاتِ مبارکہ کی چند جھلکیاں:

حضرت سیِّدُنا امام ابونعیم  رحمۃُ اللہ علیہ (وفات:430 ھ) حضرت سیِّدُنا عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  کی مبارک حیات کی کچھ جھلکیاں یوں بیان کرتے ہیں: *حضرت سیِّدُنا عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  فراخ دستی و مالداری میں سادہ زندگی بسر کرتے *اپنا مال ودولت اللہ پاک کی راہ میں خرچ کر دیتے *مال کی وجہ سے آنے والی آزمائش و سرکشی سے اللہ کی پنا ہ طلب کرتے *خوشی ہو یا غم ہر حال میں اللہ پاک سے ہی لو لگائے رکھتے *غریبوں اور مسکینوں پر اپنا مال و دولت لُٹاتے *فقیروں اور ناداروں پر خرچ کرنے میں مالداروں کے لیے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتے تھے۔([6]) آپ زمانۂ جاہلیت میں بھی شراب کو حرام جانتے تھے۔([7])

سخاوت کی چند جھلکیاں:

*حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی حیات شریف میں آپ نے ایک بار چار ہزار دینار خیرات کیے *ایک بار چالیس ہزار دینار راہِ خدا میں دیے* ایک بار پانچ سو گھوڑے مجاہدوں کو دیے *ایک بار ڈیڑھ ہزار اونٹ راہِ خدا میں دیے *وفات کے وقت پچاس ہزار دینار خیرات کرنے کی وصیت کی*ایک بار آپ  رضی اللہ عنہ  بیمار ہوئے تو اپنا تہائی مال خیرات کرنے کی وصیت کی مگر بعد میں آرام ہوگیا تو وہ مال خود ہی خیرات کردیا* ایک بار صحابہ سے کہا کہ جو اہلِ بدر سے ہواُسے فی کس چار سو دینار میں دوں گا *ایک بار ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ دینار خیرات کیے، رات کو حساب لگایا۔ پھر بولے کہ میرا سارا مال مہاجرین و انصار پر صدقہ ہے حتّٰی کہ فرمایا:میری قمیص فلاں کو اور میرا عمامہ فلاں کو۔ حضرت جبریلِ امین  علیہ السَّلام حاضر ہوئے۔ عرض کیا: یارسول اللہ! عبدُ الرّحمٰن کے صدقات قبول،انہیں بے حساب جنتی ہونے کی خبر دیجیے *آپ  رضی اللہ عنہ  نے تیس ہزار غلام آزاد کیے *اُمّہاتُ المؤمنین کی خدمت میں ایک باغ پیش کیا (جو چار لاکھ درہم میں فروخت ہوا)۔ ([8])

عظیم سعادت:

حضرت مغیرہ بن شُعبہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر ایک جگہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تشریف لائے توصحابۂ کرام  علیہم الرّضوان حضرت عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نمازِ فجر ادا فرما رہے تھے، ایک رکعت مکمل ہو چکی تھی، جب حضرت عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  نے سرکار  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی موجودگی کومحسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے لیکن آپ نے اشارے سے منع فرما دیا، حضرت سیِّدُنا عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  نے نماز جاری رکھی اور دوسری رکعت مکمل کرکے سلام پھیردیا، سرکار  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کھڑے ہوگئے اوراپنی نماز کومکمل فرمایا۔([9])

عہدہ ملنے کی خبر پر بیقراری:

امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی  رضی اللہ عنہ کو جب نکسیر کا عارضہ لاحق ہوا اور شدت اختیار کرگیا تو آپ نے اپنے کاتب حضرت حمران  رضی اللہ عنہ  کو بلاکر فرمایا: میرے بعد مسندِ خلافت کے لیے عبدُ الرّحمٰن بن عوف کا نام لکھو۔ حضرت حمران  رضی اللہ عنہ  اس حکم پرعمل کرنے کے بعد حضرت عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  کے پاس گئے اور انہیں کہا: میرے پاس آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا: امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی  رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت کے لیے آپ کا نام منتخب فرمایا ہے۔ یہ سُن کرآپ  رضی اللہ عنہ  ایک دَم بے قرار ہوگئے اور مسجدِ نبوی میں روضۂ انور اور ممبر مبارک کے درمیان کھڑے ہو کر یوں دعاکی: اے میرے مولیٰ! اگرواقعی امیرُ المؤمنین نے اپنے بعدمجھے خلافت کے لیے منتخب فرمایا ہے تومجھے ان سے پہلے ہی موت عطافرما۔ آپ کی یہ دُعا قبول ہوئی اور چھ ماہ کے اندر اندر حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  سےپہلے ہی آپ کا انتقال ہو گیا۔([10])

وصالِ پُرملال:

حضرت عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہ  کا انتقال 31 یا 32 ہجری میں امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  کے دورِ خلافت میں ہوا، انتقال کے وقت آپ کی عمر 75 سال تھی۔ آپ  رضی اللہ عنہ  کی نمازِ جنازہ امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  نے پڑھائی۔([11])

مزار پرانوار:

آپ  رضی اللہ عنہ  کے انتقال کے وقت اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہ ا نے آپ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ اگرآپ چاہیں توآپ کی تدفین رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اور آپ کے دونوں بھائیوں (یعنی صدیق و فاروق  رضی اللہ عنہما) کے پہلو میں کردی جائے؟آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: میں آپ پرآپ کے گھر کو تنگ نہیں کرناچاہتا،میں نے عثمان بن مظعون سے عہد کیا تھا کہ ہم میں سے جو بھی(بعد میں) وفات پائے گا وہ اپنے دوست کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون اورحضرت عبدُ الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہ عنہما کے مزارات جنّتُ البقیع میں شہزادۂ رسول حضرت سیدنا ابراہیم  رضی اللہ عنہ  کے مبارک قبے میں (ایک ساتھ) موجود ہیں،وہاں ان کی زیارت کرنی چاہیے۔([12])

یاد رہے کہ خلافتِ عثمانیہ کے بعد كی حکومت نے جنّتُ البقیع اور دیگر مقامات پر موجود مزارات کو شہید کردیا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی



([1])دیکھیے:شعب الایمان،5/174،حدیث:6254

([2])البدایۃ و النہایۃ،5/227

([3])معرفۃ الصحابۃ، 1/130، حدیث:455، 456

([4])طبقات ابن سعد،3/94

([5])اسد الغابۃ ، 3/500

([6])حلیۃ الاولیا،1/141

([7])الاصابہ،4/293

([8])مراٰۃ المناجیح، 8/445

([9])طبقاتِ ابن سعد،3/95، مسلم، ص129، حدیث:633

([10])تاریخ ابن عساکر،35/292،291

([11])معجم کبیر،1/128،حدیث:262

([12])الریاض النضرہ، 2/314


Share