قیامت کا اندھیرا


قیامت کا اندھیرا

حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ القِیَامَۃ ترجمہ: ظلم قیامت کے دن کئی اندھیروں کی صورت میں ہو گا۔ ([1])

حضرت امام بخاری  رحمۃُ اللہ علیہ  نے اس روایت کو کتاب المظالم میں اس لیے ذکر کیا کہ اس میں ظلم کو قیامت کے دن اندھیرا قرار دیا گیا ہے۔

حدیثِ رسول کی شرح

ظالم ظلم کی وجہ سے اکٹھے کئی گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ پاک اور اس کے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی نافرمانی، ایک کمزور مسلمان کو تکلیف پہنچانا، گالی دے کر، مار پیٹ کرکے یا مال چھین کر یا ان سب کا ارتکاب ایک ساتھ کرنا جیسا کہ اکثر یہی دیکھنے میں آتا ہے۔ مسلمان کی آبروریزی کرنا۔ سوسائٹی میں فساد پھیلانے کی کوشش کرنا۔ اس لیے اس کی سزا قیامت کے دن ظالم کا ظلم اندھیرا ہی اندھیرا بن کر اسے گھیر لے گا۔ ([2]) ظلم اس شخص پر کیا جاتا ہے جو عموماً بدلہ لینےپر قادر نہیں ہوتا۔ جنہوں نے دنیا ہی میں توبہ کرکے تقویٰ کا نور حاصل کرلیا ان سے ظلم کے اندھیرے زائل ہوجاتے ہیں۔([3])

ظلم کا معنیٰ ہے: وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِه کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا۔([4]) جبکہ شریعت میں ظلم سے مراد یہ ہے کہ کسی کا حق مارنا، کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا، کسی کو بِغیر قُصُور کے سزا دینا۔([5])

ظلم کی جدیدصورتیں

 مختلف ادوار میں ظلم کی مختلف صورتیں رائج رہی ہیں،آج کے دور میں بھی ظلم کے مختلف انداز اپنائے جاتے ہیں جن پر شرعی گرفت ہوتی ہے۔ ذیل میں موجودہ دور کی نمایاں صورتوں کی جھلک پیش کی جا رہی ہے:

(1)گھریلو ظلم (Domestic Abuse):

بیوی بچوں پر جسمانی تشدد کرنا یا ذہنی اذیت دینا جیسے انہیں حقیر قرار دینا *بوڑھے والدین کی بے قدری کرنا *چھوٹے بہن بھائیوں کو تکلیف دہ حد تک جھاڑنا۔ یہ ظلم اکثر گھر کی چار دیواری میں چھپ جاتا ہے، اس لیے اس کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

(2)معاشی ظلم (Economic Exploitation):

*مزدور کو پوری اجرت نہ دینا*طے شدہ کام کے علاوہ اور زائد کام لینا  اور اجرت نہ دینا*مزدور کا کام کم کرنا اور تنخوا ہ پوری لینا *سودی نظام کے ذریعے ضرورت مندوں کا استحصال کرنا۔ کرپشن اور بدعنوانی کرنا۔ غربت کو بڑھانے اور طبقاتی فرق کو گہرا کرنے میں یہ ظلم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

(3)معاشرتی ظلم (Social Injustice):

*ذات پات یا نسل کی بنیاد پر مختلف معاملات میں امتیاز برتنا *حقوق العباد پامال کرنا۔ یہ ظلم انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے اور معاشرے میں نفرت کو جنم دیتا ہے۔

(4)ڈیجیٹل دور کا ظلم:

سوشل میڈیا نے جہاں سہولت دی ہے، وہیں ظلم کی نئی راہیں بھی کھولی ہیں جیسےسائبر بُلنگ *آن لائن ہراساں کرنا بالخصوص خواتین کو!*جھوٹی خبریں پھیلاکرسوسائٹی میں تشویش پھیلانا*ذاتی معلومات کا غلط استعمال کرکےلوگوں کو بدنام کرناوغیرہ۔

(5)بھکاریوں کے ظلم:

 فی زمانہ بھیک منگوانے والے ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ چنانچہ بھکاریوں کے ظلم کی مختلف صورتیں رائج ہیں۔

کم سن بچوں کو اغوا کرکے دور دراز علاقوں میں لے جایا جاتا ہے جہاں ان بچوں کو کوئی پہچان نہ سکے۔دوسری جانب بچوں کے ماں باپ صدمے سے نڈھال تلاش کررہے ہوتے ہیں۔ بھکاری ان بچوں کے ہاتھ پاؤں وغیرہ توڑ کر بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ وہ بچے اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ والدین بھی ان کو نہیں پہچان سکتے۔اب سوشل میڈیا یوزرز جہاں دنیا جہان کی اچھی بری چیزیں دیکھتے ہیں اگر یہ مثبت کام کردیں کہ ایسے گمشدہ بچے جہاں نظر آئیں ان کی پوسٹ بنا کر ٹک ٹاک،فیس بک اور واٹس اپ گروپوں میں شیئر کردی تو دکھی والدین کو ان کا بچہ جلدی مل جائے گا۔اس طرح کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں کہ گمشدہ بچے اپنے والدین سے مل گئے۔یہ سوشل میڈیا یوزرز اِن شآء اللہ ثواب کے حقدار ہوں گے۔ایسے بھکاری بھی اپنے ظلم اور دیگر گناہوں سے سچی توبہ کرلیں تو قیامت کے اندھیرے سے بچ سکتے ہیں۔

(6)دوا ساز کمپنیوں /لیب والوں کے ظلم:

دوا ساز کمپنیاں غریب مریضوں پر ظلم کے نئے نئے طریقے اختیار کرتی ہیں جن میں لالچی ڈاکٹرز برابر کے حصے دار ہیں۔غیر ضروی اور مہنگی دوائیں لکھنا،مہنگے مہنگے لیب ٹیسٹ کروانااور مریضوں سے رقم اڑانے کے لیے دیگر طریقےاستعمال کرنا۔ہاں! خوفِ خدا رکھنے والے ڈاکٹروں کی بھی کمی نہیں،اللہ ایسوں کی کثرت کرے۔

(7)وکیلوں کے ظلم:

وکلا بھی ظلم کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں۔قانونی پیچیدگیاں بیان کر کے خوامخوہ کیس لمبا کرنا اور تگڑی فیسیں کھری کرنا،جھوٹی گواہیاں دلوا کر فریق مخالف کو پریشان کرنا۔بہر حال اچھے وکیلوں کی بھی کمی نہیں ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر!

(8)حقیقی مستحقین کا حق مارنے والے ظالم:

 زکوٰۃ کا جھوٹا مستحق بن کر اصل حقداروں کا حق مارنا۔

(9)جانورو ں پر ظلم:

قربانی کے دنوں میں بے زبان جانوروں کو تکلیف دینے کے کئی مناظربھی دیکھنے میں آتے ہیں، مثلاً: (۱) چھوٹی گاڑی میں بڑا جانور، یا کم جگہ میں کئی کئی جانور یوں دھکیل دئیے جاتے ہیں کہ وہ تھک جانے کی صورت میں بیٹھ بھی نہیں سکتے۔منڈی میں پہنچنے والے جانوروں کو گاڑی سے اُتارنے یا چڑھانے کے لیے مناسب جگہ کا انتظام نہیں ہوتا  تو اپنی آسانی کے لیے گاڑی سے چھلانگ لگوادی جاتی ہے جس سے کئی جانور زخمی ہوجاتے ہیں اور قربانی کے قابل بھی نہیں رہتے۔(۲)منڈی میں خرچہ بچانے کے لیے بھی بےزبان جانوروں کو بھوکا رکھا جاتا ہے، ایک مرتبہ کسی نے اونٹ خریدا تو بیچنے والے نے اس کے کان میں کہا کہ یہ کئی دن سے بھوکا ہے اسے چارہ کھلا دینا۔(۳)جب جانور منڈی سےخرید کر گھر لایا جاتا ہے تو اُتارتے وقت بچے اور بڑے شوروغوغا کر کے جانور کو پریشان کرتے اور اس کے اُچھلنے کودنے سے لطف اُٹھاتے ہیں۔ جس سے بعض اوقات تو جانور ڈر کر بھاگ جاتاہے، کسی کو زخمی کردیتا ہےیا گڑھے وغیرہ میں گر کر اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھتا ہے۔ (۴)ذبح شدہ جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی پاؤں کاٹنا یا کھال اتارنا شروع کردیتے ہیں یا بکرے کی گردن چٹخا دیتے ہیں یا تڑپتی گائے کی گردن کی کھال اُدھیڑ کر چُھری گھونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں اور بلا وجہ تکلیف پہنچاتے ہیں۔

جانوروں پر ظلم کرنے والے سنبھل جائیں کہ بروز قیامت اس کا حساب کیونکر دے سکیں گے؟بے زَبان جانوروں کو بِلاوجہ تکلیف دینے والوں کو ڈر جانا چاہئے کہیں مرنے کے بعد عذاب کے لیے یِہی جانور مُسَلط نہ کر دیا جائے۔ امام احمد بن حجر مکی شافعی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظلم کیا یا اسے بھوکا رکھا۔ اس پر درج ذَیل حدیث ِ پاک دَلالت کرتی ہے۔چُنانچِہ رَحمت ِ عالَم،نورِ مُجَسَّم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے جہنَّم میں ایک عورت کو اس حال میں دیکھا کہ وہ لٹکی ہوئی ہے اور ایک بلّی اُس کے چہرے اور سینے کو نوچ رہی ہے اور اسے ویسے ہی عذاب دے رہی ہے جیسے اس(عورت) نے دنیا میں قید کر کے اور بھوکا رکھ کراسے تکلیف دی تھی۔ اس روایت کا حکم تمام جانوروں کے حق میں عام ہے۔([6])

اللہ پاک ہمیں انسانوں اور جانوروں دونوں پر ظلم کرنے سے بچائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* استاذ المدرسین، مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])بخاری، 2/127، حدیث:2447

([2])دیکھئے: نزہۃ القاری، 3/668

([3])دیکھئے: کشف المشکل، 2/560

([4])التعریفات للجر جانی، ص102

([5])مراٰۃ المناجیح، 6/669

([6])الزواجر عن اقتراف الکبائر،2/174


Share