حلم و بردباری کی نبوی تعلیمات


حلم و بُردباری کی نبوی تعلیمات

ابو صفی محمد علی

(درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فيضان عثمان غنى کراچی)

حلم و بردباری ایسا وصف ہے جو انسان کے باطِن کی پختگی اور روح کی بلندی کا پتا دیتا ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیبہ میں حلم و بردباری اس شان سے جلوہ گر ہے کہ دشمنوں کے رویے بدل گئے، دل فتح ہو گئے اور سخت مزاج لوگ بھی اخلاقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے جھک گئے۔ احادیثِ مبارکہ میں ہم مسلمانوں کو بھی انہی اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔آئیے! اسی مناسبت سے 4 فرامینِ نبوی پڑھیے:

(1)حقیقی طاقت کا معیار: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے طاقت کا معیار بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، اِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ یعنی طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصّے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔(بخاری،4/130،حدیث:6114)

(2)حلم اللہ کو محبوب ہے: حلم کوئی معمولی اخلاقی وَصف نہیں بلکہ وہ صفت ہے جو بندے کو اللہ کی محبّت کے قریب کر دیتی ہے۔رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اشج عبدُالقیس رضی الله عنہ سے فرمایا: اِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْاَنَاةُ یعنی تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: حلم اور بردباری۔(مسلم،ص38، حدیث:117)

(3)غصے پر قابو کی تلقین: ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لَا تَغْضَبْ یعنی غصّہ نہ کیا کرو۔ اس نے بار بار پوچھا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر مرتبہ یہی ارشاد فرمایا: غصّہ نہ کرو۔(بخاری،4/130،حدیث:6116)

یہ مختصر مگر جامع وصیّت دراصل حلم و بردباری کی اساس ہے، کیونکہ غصّہ وہ چنگاری ہے جو عقل، دین اور تعلّقات سب کو جلا دیتی ہے۔

(4)درگزر اور بلندیِ درجات: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس غلط فہمی کو دور فرمایا کہ حلم و معاف اور دَرگُزر، انسان کے لیے ذلّت و کمزوری نہیں بلکہ عزّت کی بلندی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ، اِلَّا عِزًّا یعنی اللہ تعالیٰ کسی بندے کو معاف کرنے کے سبب ہی عزّت میں اضافہ فرماتا ہے۔ (مسلم،ص1071،حدیث:6592)

حلم و بردباری کی یہ نبوی تعلیمات انسان کے کردار کو نکھارتی اور معاشرے کو اَمن و سکون عطا کرتی ہیں۔ جو شخص حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اسوۂ حسنہ کو اپنا لیتا ہے، وہ سختیوں، اختلافات اور غلبے میں بھی عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہی وہ اخلاقی حُسن ہے جو دلوں کو مسخر کرتا اور دشمنوں کو بھی دوست بنا لیتا ہے۔ ایسے کردار کو دیکھ کر ہی اہلِ نظر رشک کرتے ہیں، کیونکہ یہ وہ روشنی ہے جو براہِ راست چراغِ نبوّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے لی گئی ہے۔

اللہ پاک ہمیں احادیثِ طیبہ پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share