تواضع کا قراٰنی بیان


تواضع کا قراٰنی بیان


تواضع کا لغوی معنیٰ: عاجزی و انکساری کرنا ہے۔ منہاج العابدین میں ہے: تواضع کا اصطلاحی معنیٰ:اپنے کو حقیر اور کمتر سمجھنا۔ (منہاج العابدین، ص81)

تواضع ایسی صفت ہے کہ جس کے ذریعے انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی پا سکتا ہے۔ قراٰن و حدیث میں تواضع کرنے والے کی پذیرائی کی گئی ہے۔ اللہ پاک بھی تواضع کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور ان لوگوں کے لیے آخرت میں اچھے انعام کا وعدہ فرمایا، جبکہ اس کے مقابل تکبر کی مذمت بیان کی گئی۔ قراٰنِ پاک میں تواضع کا ذکر مختلف اعتبار سے ہے جو کہ درج ذیل ہے :

(1) مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ:

 قراٰنِ پاک میں ایک مقام پر ایمان والوں اور والیوں کی کئی صفات بیان کی گئی ہیں، ان صفات میں تواضع کرنے والوں اور والیوں کا بھی ذکر فرمایا اور آخر میں ان سب صفات والوں کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کی بشارت بھی سنائی چنانچہ اللہ پاک سورۂ احزاب کی آیت نمبر 35 میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ

‏ ترجَمۂ کنزُالایمان:اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں۔

(پ22، الاحزاب: 35)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

آیت کے آخر میں فرمایا :

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجَمۂ کنزُالایمان: ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

(پ22، الاحزاب: 35)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(2) خوشخبری کی نوید :

ایک مقام پر اللہ پاک نے تواضع کرنے والوں کی صفات بیان کیں اور حضور علیہ السّلام کو حکم فرمایا کہ آپ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۳۵)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو افتاد پڑے اس کے سہنے والے اور نماز برپا (قائم) رکھنے والے اور ہمارے دئیے سے خرچ کرتے ہیں۔

(پ17، الحج: 34، 35)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کی تفسیر میں ہے: یعنی عاجزی کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ا س کی ہیبت و جلال سے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف ان کے اَعضا سے ظاہر ہونے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو مصیبت و مشقت پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز کو ا س کے اوقات میں قائم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔(صراط الجنان، 6/443)

(3) عاجزی کا حکم:

انسان پیدا ہونے سے لے کر بڑے ہونے تک والدین کا محتاج ہوتا ہے۔ بچے پر والدین کے اتنے احسانات ہیں کہ وہ زندگی بھر بھی ان کا بدلہ ادا نہیں کرسکتا ۔ اللہ پاک نے بچوں کو والدین سے عاجزی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے۔

(پ15، بنیٓ اسراءیل: 24)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(4) عاجزی کے ساتھ چلنے کا حکم :

اللہ پاک نے مسلمانوں کو حکم ارشاد فرمایا کہ جب وہ زمین میں چلیں تو عاجزی و انکسار کے ساتھ چلیں نہ کہ تکبر کے  انداز میں ارشاد ربانی ہے :

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-

ترجَمۂ کنزُالایمان : اور زمین میں اتراتا نہ چل۔

(پ15، بنیٓ اسراءیل: 37)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بلکہ اللہ پاک نے آہستہ اور عاجزی کے ساتھ چلنے والوں کو اپنا بندہ فرمایا :

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔

(پ19، الفرقان: 63)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ پاک ہمیں بھی عاجزی و انکسار جیسی عمدہ صفات سے نوازے اور تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


Share