اسلامی معاشرہ  ہی مثالی معاشرہ ہے(قسط:02)


اسلامی معاشرہ ہی مثالی معاشرہ ہے: (قسط:02)


اللہ پاک نے اسلامی تعلیمات میں وہ جامعیّت رکھی ہے کہ صدیاں گُزر جانے کے بعد بھی مسلمان اس کے محتاج ہیں۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے زمین پر رہنے والے افراد کی رَہنمائی سے لے کر آج کے ترقّی یافتہ کہلانے والے زمانے تک اسلامی تعلیمات کامل و اکمل طور پر رَہبر و رَہنما ہیں۔ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی تعلیمات جس طرح صدیوں پہلے تِریاق کا کام کیا کرتی تھیں آج بھی اُسی طرح پُراثر اور شِفا بخش ہیں۔ لوگ جیسے جیسے زمانۂ نبوّت سے دور اور قِیامت کے قریب ہوتے جا رہے ہیں معاشرے میں جھوٹ، غیبت، چغلی، دوغلا پن، لعن طعن کرنا، گالم گلوچ، بلاوجہ ستانا،دل دُکھانا، بغض و عِناد، حسد، بلاوجہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں پڑنا، مسلمانوں کو حقیر سمجھنا، خودغرضی، بے راہ روی، ملاوٹ، دھوکا، فساد، لڑائی، مار کٹائی جیسی خرابیاں پروان چڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان خرابیوں میں بعض کا تعلّق اگرچہ فردِ واحد کے ساتھ ہے لیکن ان میں بہت سی وہ ہیں کہ جو معاشرے کے سکون، اطمینان، چین، قرار اور اَمْن و سلامتی کو تباہ و برباد کر رہی ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اور اپنے پیارے دینِ اسلام کی طرف رُجوع کریں، اسلامی تعلیمات کو معاشرے میں عام کریں، اپنے خالق و مالک کے بھیجے ہوئے آفاقی اُصولوں کو اپنائیں، اپنے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے طریقوں کو حرزِ جاں بنائیں تو ہمارا معاشرہ بھی حقیقی مدنی معاشرے کی تصویر بن سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام جس معاشرے کو پسند کرتا اور جس کی تعلیم دیتا ہے وہ ایسا مثالی معاشرہ ہے کہ جس میں عدل و انصاف قائم ہو، لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، سچّائی، امانت، دیانت اور تحمل و برداشت عام ہو، کمزوروں کی مدد کو دینی و اخلاقی فریضہ سمجھا جائے، اختلافِ رائے کا پوری فَراخدلی کے ساتھ احتِرام کیا جائے،بڑوں کا اَدب اور چھوٹوں پر شفقت کا معمول ہو، دینی تعلیم کا رواج ہو، اسلامی تہذیب کو شعار بنایا جائے، صفائی، نظم و ضبط اور قانون کی پاسداری معمول ہو، خاندانی نظام مضبوط ہو اور باہمی تعاون کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں۔ ہر فرد اپنے کردار، اخلاق اور ذمّہ داریوں میں سنجیدہ ہو کر پورے معاشرے کی بھلائی میں اپنا کِردار اَدا کرے۔نمونے کے طور پر یہاں صرف چند تعلیمات ذکر کی جاتی ہیں تاکہ ہمیں ان کی اہمیّت کا احسا س ہو اور ہم انہیں عملی طور پر اپنانے والے بن جائیں۔

بھلا کریں مسلمانوں کا:

مسلمانوں کے کام آنا،کسی کی مشکل آسان کرنا،کسی کی جائز سفارش کرنا، کسی کو قرض دینا،کسی کے گھر کا سامان لا دینا، پوشیدہ طور پر کسی کی مدد کرنا وغیرہ ایسی نیکیاں ہیں جن پر اَجر و ثواب بھی ہے اور ان میں معاشرے کا حُسن و خوبصورتی بھی پوشیدہ ہے۔ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: جو اپنے بھائی کی مددکرنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ اس کی پوشیدہ مدد کرے تو اللہ کریم دنیا وآخرت میں اس کی مدد فرمائے گا۔ ([1])کسی مسافر کو لفٹ دے کر اس کے لیے آسانی کر دینا، پیٹرول ختم ہوجانے والے بائیک سوار کو ٹو (Tow)کر کے پیٹرول پمپ تک پہنچا دینا،نابینا،بُز ُرگ یا بچّے کو سڑک پار کروا دینا یہ تو صرف چند مثالیں ہیں ورنہ ایسی بے شمار نیکیاں ہیں کہ جنہیں کرکے ہم نہ صرف ثواب کما سکتے ہیں بلکہ اپنے معاشرے کو امن سلامتی بھائی چارے اور خیر خواہی کا مثالی اور قابلِ تقلید نمونہ بنا سکتے ہیں۔

جائز سفارش پر ثواب:

اسلام تجھ پر ہماری جان قربان! کیا پاکیزہ تعلیم ہے، ایک مسلمان دوسرے کا خیر خواہ ہو،اُس کا بھلا چاہے، دوسروں کے کام آئے،کسی کے کام کو بنانے کے لیے یا کسی کو جائز نوکری پر لگوانے کے لیے،کسی کی جان بچانے کے لیے جائز سفارش کرے تو اس پر بھی اَجر پائے جیسا کہ حضرت سَمُرہ بن جُندب  رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ زبان کا صدقہ ہے۔ صحابۂ کرام  علیہمُ الرضوان  نے عرض کی: یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  زبان کا صدقہ کیا ہے ؟فرمایا : تمہاری وہ سفارش جس سے کسی قیدی کو رہائی دِلادو، کسی کا خون گرنے سے بچا لواور کوئی بھلائی اپنے بھائی کی طرف بڑھا دواوراس سے کوئی مصیبت دُور کردو۔([2])

مسلمان فائدے میں ہے:

کیا بات ہے اسلام کی پیاری تعلیمات کی!ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے کام آنے کے لیے گھر سے نکل پڑا یہیں سے یہ ثواب کمانے والا ہو گیا، اب کام بنا دے تو بھی فائدہ ہی فائدہ اور اگر اپنے مسلمان بھائی کا کام تو نہ کرسکا البتہ کوشش ضَرور کی ہے تو یہ بھی رائیگاں نہیں جائے گا اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجَت رَوائی کے لیے چلتا ہے اللہ پاک ہر قدم کے بدلے اس کے نامۂ اَعمال میں ستّر نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے ستّر گُناہ مُعاف کر دیتا ہے، اگر وہ حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہوجائے تو وہ گُناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے ابھی پیدا ہوا ہو اور اگر وہ اسی درمیان فوت ہوجائے تو بِلاحساب جنّت میں جائے گا۔([3])

اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال:

معاشرے میں اُخُوّت، بھائی چارہ،سکون،چین،اطمینان لانے والے کام اللہ اور رسول کو کس قدر پسند ہیں اس روایت سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:یا رسولَ اللہ! اَيُّ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَى اللّٰهِ، وَاَيُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَى اللّٰهِ؟ یعنی اللہ کریم کو کون سے لوگ سب سے زیادہ محبوب ہیں؟ اور کون سا عمل اللہ پاک کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: اَحَبُّ النَّاسِ اِلَى اللّٰهِ اَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ یعنی اللہ کریم کو سب سے محبوب وہ آدمی ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔ وَاَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللَّهِ اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ یعنی تو کسی مسلمان کو خوشی پہنچائے، اَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً یا اس کی کوئی تکلیف دُور کر دے، اَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا یا اس کا قرض اَدا کر دے، اَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا یا اس کی بھوک دُور کر دے،وَلَئِنْ اَمْشِي مَعَ اَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ اَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ اور اگر میں اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اس کی ضَرورت پوری کرنے کے لیے چلوں تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں مدینہ طیبہ کی مسجد میں ایک مہینا اعتکاف کروں، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهٗ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهٗ اور جو آدمی اپنا غصہ روک لے اللہ پاک اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے، وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهٗ وَلَوْ شَاءَ اَنْ يُمْضِيَهُ اَمْضَاهُ؛ مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهٗ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ اور جو کوئی اپنے غصّے کو پی لے جبکہ اُسے نافذ کر سکتا تھا تو اللہ پاک قِیامت کے دن اس کا دل اُمّید سے بھر دے گا، وَمَنْ مَشٰى مَعَ اَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى يُثَبِّتَهَا لَهٗ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهٗ يَوْمَ تَزُولُ الْاَقْدَامُ اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی ضَرورت پوری کرنے اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ اس کا کام پورا کر دیا، تو قِیامت کے دن جب قدم ڈگمگا جائیں گے اللہ پاک اس کے قدموں کو مضبوطی عطا فرمائے گا۔([4])

کیا ہر کام میں مدد کریں؟

اسلامی تعلیمات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے اَجر وثواب کو جان کر ذہن بنتا ہے کہ مسلمانوں کی مدد کی جائے تاکہ معاشرے میں باہمی اُلفت و محبّت کی فضا قائم ہو، لیکن کیا ہر کام میں ہر کسی کی مدد کرنی چاہیے؟ یہ جاننا بے حد ضَروری ہے کہاں مدد کرنی ہے اور کس کام میں مدد گار نہیں بننا اس تقسیم کو اللہ کریم یوں بیان فرماتا ہے:

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گُناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سبحٰن اللہ ! یہ آیتِ کریمہ اپنی معنوی وُسعت اور جامعیّت میں اپنی مثال آپ ہے، کیونکہ اس میں تعاون کرنے اور نہ کرنے کا ایک معیار مقرّر کر دیا گیا ہے۔ پہلے حصّے میں ’’ نیکی اور پرہیزگاری ‘‘ کے کاموں میں باہمی مدد کرنے کی ترغیب ہے اس تعاون کا دائرہ کار بہت وسیع ہے جس میں علمِ دین کی اشاعت، دین کی تعلیم و تربیَت، دعوتِ اسلام کی ترویج، خیر کے کاموں میں مالی اور عملی مدد، اصلاحِ معاشرہ کی کوششیں اور فلاحِ عامہ کی سرگرمیاں سب شامل ہیں۔علمِ دین کی خدمت، درس و تدریس، دینی کتابت اور اسلامی تعلیمات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے باہمی تعاون اسی قراٰنی حکم پر عمل کی بہترین مثالیں ہیں۔ اسی طرح نیکی کا حکم دینا، بُرائی سے روکنا، اخلاقی و فکری بگاڑ کی اصلاح کی کوشش کرنا اور معاشرتی فلاح کے منصوبوں میں شرکت کرنا سب ’’نیکی اور پرہیزگاری میں تعاون ‘‘ کے روشن نمونے ہیں۔

آیت کے دوسرے حصّے میں ’’ گُناہ اور زیادتی ‘‘ کے کاموں میں باہمی تعاون کو بالکل ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ کام جس میں گُناہ اور ظُلم و زیادتی کا پہلو پایا جائے اس میں مدد گار بننا، تعاون کرنا اپنے آپ کو جہنّم میں جھونکنے کے مُترادِف ہے، اسی ممانعت میں ہر وہ چیز آتی ہے جو ظلم، فساد، دھوکا، فریب، حق تلفی، رشوت لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، کسی بے قُصور کو ظلم کا نشانہ بنانا، ظالموں کی مدد کرنا، ناجائز و حرام کاروبار کا حصّہ بننا، برائی کے مراکز میں ملازمت اختیار کرنا یا ایسی سرگرمیوں کا حصّہ بننا جن سے دین اور معاشرے کو نقصان پہنچے، لہٰذا ضَروری ہے کہ مسلمان قراٰن کے اس بنیادی اُصول کو اپنا شعار بنائیں،نیکی اور تقویٰ میں باہمی تعاون کو مضبوط کریں اور گُناہ اور زیادتی کے ہر راستے سے دور رہیں۔ یہی وہ اُصول ہے جو فرد کو صالح، معاشرے کو مضبوط اور اُمّت کو باوقار بناتا ہے۔اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کہ اسی میں دنیا کی ترقّی، بھلائی اور سکون و اطمینان پوشیدہ ہے اور اسی میں آخِرت کی کامیابی کا راز ہے۔



([1])مجمع الزوائد،7/527، حدیث:12139

([2])شعب الایمان،6/124،حدیث: 7683

([3])الترغیب والترہیب، 3/317،حدیث:4022

([4])معجم صغیر،2/106،حدیث:861

([5])پ6،المآئدۃ:2


Share