اسلام یتیموں کا رکھوالا (قسط:01)
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری
اسلام کی عظیم خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اسلام کمزوروں کو تحفّظ فراہم کرتا ہے جیسا کہ یتیم معاشرے میں کمزور سمجھا جانے والا طبقہ ہے اور یتیم قدیم زمانے سے ہی مظلوم رہے ہیں۔ اسلام سے قبل لوگ ان کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے،ان کی زمین و جائیداد پر قبضہ جما لیتے، انہیں بنیادی ضَروریات سے محروم کر دیا کرتے تھے۔
زمانہ جاہلیت میں لوگ یتیم لڑکیوں کے ساتھ طرح طرح کے ظلم کرتے،ان سے نکاح کرتے تو نہ مہر ادا کرتے اور نہ ان کی دیگر ضَروریات پوری کرتے تھے۔ایک ظلم یہ بھی کیا کرتے کہ اپنی زیرِ کفالت یتیم لڑکیوں سے اُن کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے حالانکہ اُن کی طرف انہیں کوئی رغبت نہیں ہوتی تھی، نکاح اس لیے کر لیتے کہ اس یتیم کو ملنے والا وراثت کا مال کسی دوسرے کو نہ دینا پڑے، پھر اُن یتیم لڑکیوں کے حقوق پورے نہ کرتے اور اُن کے مال کا وارث بننے کے لیے اُن کے مرنے کا انتظار کرتے رہتے۔ اس برائی اور ظلم کو اسلام نے ختم کیاہے اور قرآن کریم میں اس کی ممانعت نازل ہوئی ہے۔([1])دوسری صورت یہ بھی ہوتی کہ اگر یتیم بچی خوش شکل و خوبصورت نہ ہوتی تو اس کا نکاح کسی اور سے اس لیے نہیں کرتے تھے کہ اس بچّی کا مال اسے دینا پڑے گا۔یہ رویہ بھی رائج تھا کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتوں سے شادیاں کرتے جب اُن کا بوجھ نہ اٹھا سکتے تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے۔([2])
یتیموں کے سرپرست بوٹی دے کر بکرے کی فکر میں رہتے۔ یتیم کا عمدہ مال خود لے لیتے اور اس کی جگہ اپنا ردی اور گھٹیا مال رکھ دیتے۔ یتیم کے بکریوں کے ریوڑ میں سے موٹی تازی بکری لے لی اور بدلے میں دُبلی پتلی دےدی۔ کھرا درہم نکال لیا اور اس کی جگہ کھوٹا درہم یتیم کے مال میں رکھ دیا اور کہتے کہ درہم کے عوض درہم ہوگیا اور بکری کے بدلے بکری ہو گئی۔
اسلام وہ دینِ رحمت ہے جس نے یتیموں کو صرف ہمدردی کا مستحق قرار نہیں دیا بلکہ ان کے حقوق کو باقاعدہ شرعی تحفّظ عطا فرمایا۔ قراٰنِ کریم نے بار بار یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کے مال کی حفاظت اور ان کی عزّت و تکریم کا حکم دے کر یہ واضح کر دیا کہ اسلام محض دعویٰ نہیں کرتا بلکہ عملی طور پر یتیموں کا رکھوالا ہے۔
یتیم کو عزّت نہ دینا باعثِ ذِلَّت:
قراٰنِ کریم میں ذلّت کے اسباب میں سے ایک سبب یتیموں کو عزّت نہ دینا قرار دیا گیا ہے:
كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷)
ترجَمۂ کنزُ العِرفان: ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزّت نہیں کرتے۔ ([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں ہے: تم میں سے اللہ پاک کی بارگاہ میں جو ذلیل ہے وہ وہ نہیں جو مال کی کمی کا شکار ہے بلکہ اللہ پاک کے ہاں تمہاری ذلّت کاسبب یہ ہے کہ تم یتیم کی عزّت نہیں کرتے اور دولت مند ہونے کے باوُجود اُن کے ساتھ اچھے سُلوک نہیں کرتے اور انہیں اُن کے حقوق نہیں دیتے جن کے وہ وارث ہیں۔ اُمَیَّہ بن خَلَف کے پاس قُدامہ بن مظعون یتیم تھے وہ انہیں ان کا حق نہیں دیتا تھا، اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔ ([4])
یتیموں کا مال بدلنے والوں کی مذمت:
جو لوگ یتیموں کا مال دبالیتے تھے یا ان کا اچھا مال رکھ لیتے اور گھٹیا مال دے دیتے تھے، ان کے رد میں اللہ کریم نے فرمایا:
وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ ۪- وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا(۲)
ترجَمۂ کنزُ العِرفان: اور یتیموں کو ان کے مال دیدو اور پاکیزہ مال کے بدلے گندا مال نہ لواور ان کے مالوں کو اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
قبیلہ غطفان کے ایک آدمی کی نگرانی میں اُس کے یتیم بھتیجے کا بہت زیادہ مال تھا، جب وہ یتیم بالغ ہوا تو اس نے اپنا مال طلب کیا، چچا نے دینے سے انکار کردیا،یہ معاملہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں پہنچا تو اِس پر یہ آیت نازل ہوئی جسے سن کر اُس شخص نے یتیم کا مال اُس کے حوالے کردیا اور کہا کہ ہم اللہ و رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کرتے ہیں اور گناہ کبیرہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔([6])
یتیم اور قراٰنِ کریم:
قراٰن پاک میں یتیم اور اس کی جمع کے الفاظ بیس سے زیادہ بار آئے ہیں جن میں یتیموں کے حقوق، احکام، حسن سلوک، مال کی حفاظت، اس میں خُرد بُرد نہ کرنے کے احکام، ان کا مال ناحق کھانے کی وعید،ان کی کفالت اور ان کے ساتھ انصاف کرنے کی تاکید کی گئی ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْۚ-وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْاؕ-
ترجَمۂ کنز الایمان: تو ان کے مال انہیں سپرد کر دو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں۔([7])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ایک مقام پر یوں فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰)
ترجَمۂ کنز الایمان: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ)میں جائیں گے۔([8])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے:
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّه۪ٗ-وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس راہ سے جوسب سے بھلی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔۔۔
Comments