پڑوسیوں سے حسنِ سلوک
بچپن میں اولاد اُس موم کی طرح ہوتی ہے جسے ہر سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہےاسی لیے اولاد کی تربیَت کا بہترین اور سنہرا وقت ان کا بچپن ہوتا ہے۔ بِالخصوص بیٹیاں جو صرف اپنی اکیلی ذات تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے ساتھ کئی زندگیاں جُڑی ہوتی ہیں، ایک بیٹی کی اچّھی اور بہترین تربیَت ہوگی تو ہی وہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کا سبب بنے گی۔
بیٹیوں کی تربیت میں جو اہم جہات شامل ہیں ان میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تربیت بھی ہے۔
سب سے پہلے تو اپنی بیٹیوں کو سکھائیں کہ پڑوسی/ہمسائے یہ وہ قریبی لوگ ہیں جن کے ساتھ روزمرّہ زندگی میں میل جول ہوتا ہے اور ان کے حقوق (جیسے بیماری میں عیادت، خوشی غمی میں شرکت) اسلام اور معاشرتی اقدار میں بہت اَہم ہیں۔ بیٹی کو بتائیں کہ یہ حکم ہمیں اپنے پاک پروردگار کی بارگاہ سے ملا ہے۔ ترجَمۂ کنز الایمان:اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بےشک اللہ کو خوش(پسند) نہیں آتا کوئی اِترانے والا بڑائی مارنے والا۔([1]) اس آیتِ مقدّسہ کے تحت تفسیراتِ احمدیہ میں ہے کہ قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہوا ور دُور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جو محلّہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو یا جو پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی وہ قریب کا ہمسایہ ہے اور وہ جو صرف پڑوسی ہو، رشتہ دار نہ ہو وہ دُور کا ہمسایہ یا جو پڑوسی بھی ہو اور مسلمان بھی وہ قریب کا ہمسایہ اور وہ جو صرف پڑوسی ہو مسلمان نہ ہو وہ دُور کا ہمسایہ ہے۔([2])
پڑوسی کےحقوق:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ فرمان ہی پڑوسی کے حقوق واضح کردیتا ہے، آپ نے فرمایا:تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے؟ (پھر خود ہی ارشاد فرمایا:) کہ جب وہ تم سے مدد مانگے مدد کرو اور جب قرض مانگے قرض دو اور جب مُحتاج ہو تو اسے دو اور جب بیمار ہو عیادت کرو اور جب اسے خیر پہنچے تو مبارَک باد دو اور جب مُصیبت پہنچے تو تعزیت کرو اور مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ اور بغیر اجازت اپنی عمارت بُلند نہ کروکہ اس کی ہوا روک دو اور اپنی ہانڈی سے اس کو ایذا نہ دو، مگر اس میں سے کچھ اسے بھی دو اور میوے خریدو تو اس کے پاس بھی ہدیہ کرو اور اگر ہدیہ نہ کرنا ہو تو چُھپا کر مکان میں لاؤ اور تمہارے بچّے اسے لے کر باہر نہ نکلیں کہ پڑوسی کے بچّوں کو رنج ہوگا۔ تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے؟ قسم ہے اس کی جس کےقبضۂ قدرت میں میری جان ہے! مکمل طور پر پڑوسی کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہیں، وہی ہیں جن پر اللہ کی مہربانی ہے۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑوسیوں کے مُتَعَلِّق مسلسل وَصیّت فرماتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے گُمان کیا کہ پڑوسی کو وارث کردیں گے۔ پھر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: پڑوسی تین قسم کے ہیں، بعض کے تین حق ہیں، بعض کے دو اور بعض کا ایک حق ہے۔ جو پڑوسی مسلم ہو اور رشتہ دار ہو،اس کے 3 حق ہیں۔حقِ جوار(یعنی پڑوس)، حقِ اسلام اور حقِ قَرابت۔ مسلم پڑوسی کے دو حق ہیں، حقِ جوار اور حقِ اسلام اور کافر پڑوسی کا صرف ایک حق جوار ہے۔([3])
بیٹیوں کو درج ذیل باتوں کی تربیت لازمی دیں
*بیٹی کو سکھایا جائے کہ جب بھی گھر میں کوئی اچھی چیز یا کھانا پکے، تو اس میں سے ہمسایوں کا حصہ ضرور نکالے، چاہے وہ چیز تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، یہ عمل باہمی محبت کو بڑھاتا ہے اور حسد و کینہ جیسے جذبات کا خاتمہ کرتا ہے۔
*بیٹیوں کو اس بات کی تربیت دی جائے کہ وہ پڑوس میں ہونے والی خوشی اور غمی دونوں میں پیش پیش رہیں۔ اگر پڑوس میں خواتین یا ان کے بچے بیمار ہوں تو ان کی عیادت کرنا، اور اگر کوئی پریشانی ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرنا ایک بہترین اسلامی صفت ہے جو بیٹی کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔
*بیٹی کو سکھایا جائے کہ پڑوسی کی عزت اور راز کی حفاظت کرنا اس کی ذمہ داری ہے، تاکہ معاشرے میں اعتماد کی فضا قائم ہو۔ ہمسایوں کے گھر کے اندرونی معاملات یا ان کے عیبوں پر نظر نہ رکھی جائے اور نہ ہی ان کی غیبت کی جائے۔
*پڑوسی کو قول یا فعل سے تکلیف نہ دینا ایمان کی علامت ہے۔ بیٹی کو تربیت دی جائے کہ وہ ایسی باتوں سے بچے جس سے ہمسایوں کو اذیت ہو، جیسے گھر کا کچرا ان کے دروازے کے سامنے پھینکنا، اونچی آواز میں باتیں کرنا یا ان کی رازداری (Privacy) میں مخل ہونا۔
*بیٹی کو بچپن ہی سے یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ جب بھی وہ کسی پڑوسن سے ملے، چاہے وہ عمر میں بڑی ہوں یا چھوٹی، سلام میں پہل کرے۔ چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں نرمی رکھ کر بات کرنا صدقہ ہے، اور یہ رویہ پڑوس میں اس کی عزت اور محبت کو مستحکم کرتا ہے۔
*پڑوسی کے چھوٹے بچوں کے ساتھ شفقت و نرمی برتنے کا ذہن دیا جائے۔
*عموماً پڑوس میں چھوٹی موٹی چیزوں (جیسے نمک، چینی یا برتن) کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ بیٹی کو سکھایا جائے کہ اگر کوئی پڑوسی کچھ مانگنے آئے تو تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ خوش دلی سے ان کی ضرورت پوری کرے۔ اسے یہ بھی سمجھایا جائے کہ اگر کسی سے کوئی چیز ادھار لی ہے تو اسے بروقت اور بہتر حالت میں واپس کرے۔
*ایک ذمہ دار بیٹی کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کے گھر سے اُٹھنے والی آوازیں ہمسایوں کے آرام میں مخل نہ ہوں۔ خاص طور پر سوتے وقت، بیماری کی صورت میں یا امتحانات کے دنوں میں شور نہ کرنا اور ٹی وی وغیرہ کی آواز دھیمی رکھنا پڑوسی کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔
*تربیت کا سب سے مشکل لیکن اعلیٰ ترین پہلو یہ ہے کہ اگر کسی پڑوسن کا رویہ نامناسب ہو، تو بیٹی کو تحمل اور برداشت سکھائی جائے۔ اسے سمجھایا جائے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق برائی کا جواب خاموشی یا نیکی سے دینا دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔
*والدین خود ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ کبھی کبھار بیٹی کے ہاتھ سے ہمسایوں کے گھر کھانا یا تحفہ بھجوائیں تاکہ اس کی جھجھک ختم ہو۔ ہفتے میں ایک بار اس سے پوچھیں کہ آج اس نے اپنے پڑوسیوں کے لیے کیا اچھا کام کیا۔
بہترین دینی تربیَت کے لیے ہر ہفتے بعد نمازِ عشا مدنی مذاکرہ دیکھتے رہیں۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پڑوسیوں کے حقوق اور حسنِ سلوک کے تمام احکام کے ساتھ ساتھ غیرمحرم سے پردہ بھی ہے، بیٹیوں کو پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تربیت میں یہ ضرور سکھائیں کہ پڑوسی خواتین ہی کے ساتھ مربوط رہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن


Comments