حج سے واپسی پر!
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری
حج، ارکان ِ اسلام میں سے ایک بنیادی رُکن اور اَہَم عبادت ہے، ہر سال لاکھوں مسلمان ایک جیسے لباس میں رنگ ونَسل کا فرق مٹا کر سَرزمین ِحَرم پر اِتّفاق و اِتّحاد کی عظیم مثال قائم کرتے ہیں۔دوران ِ حج ان حاجیوں پر ایسی کرم نوازیاں ہوتی ہیں کہ ان فضائل کو سن کر ہر ایک کے دل میں اس مُقَدّس مقام کی زِیارت کا ارمان مچلنے لگتا ہے۔
حاجی کو چاہیے کہ وہ دورانِ حج اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے خوب دُعائیں کرے،بِالخصوص یہ دعا لازمی کرے کہ یا اللہ پاک اس حج کومیرے لیے حجِ مَبْرُور یعنی مقبول حج بنادے۔ حجِ مبرور کی بڑی فضیلت و اہمیت ہے۔
نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حجِ مقبول کا ثواب جنّت سے کم نہیں۔ عرض کی گئی:مقبول سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ایسا حج جس میں کھانا کھلایا جائے اور اچّھی گفتگو کی جائے۔ ([1])
مزید فرمایا: حج ِمقبول کی جزا جنّت ہی ہے،صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی:یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! حج ِمقبول کیا ہے؟ اِرْشاد فرمایا:ایسا حج جس میں (بھوکے کو) کھانا کِھلانا اور سَلام کو عام کرنا ہو۔([2])
مقبول حج کا مفہوم وسیع ہےحجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:منقول ہے، قَبولِیَّت ِ حج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ حاجی جن نافرمانیوں میں پہلےمبتلا تھا، انہیں چھوڑ دے اور اپنے بُرے دوستوں کو چھوڑ کر نیکوں کی صحبت اختیار کرے،کھیل کُود اور غفلت کی مجالس کو چھوڑ کر ذِکْر وفِکْر اور بیداری کی محافل اختیار کرے۔([3])
اعلیٰ حضرت،امامِ اَہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حجِ مَبْرُور(حجِ مقبول)کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھاہوکر پلٹے۔([4])
حضرت حسن بَصری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حجِ مقبول وہ ہے جس کے بعد حاجی دنیا سے بے رغبت اورآخِرت میں رغبت رکھنے والا ہوکر رہے،یا حجِ مقبول وہ ہے جو حاجی کا دل نَرم کردے کہ اُس کے دل میں سَوز اور آنکھوں میں تَری رہے۔ ([5])
حجِ مقبول وہ حج ہے کہ جو حَلال کمائی اور صحیح طریقے سے ادا کیا جائے،اِخلاص کے ساتھ ہو اور مرتے دم تک کوئی ایسی حَرکت نہ ہو، جس سے حج باطِل ہوجائےیعنی مقبول کا بدلہ صرف دُنیاوی غذا اور گُناہوں کی معافی یا دوزخ سے نَجات یا عذاب میں کمی کی صورت میں نہ ہوگابلکہ جنّت ضَرورملے گی۔([6])
حاجی دورانِ حج نمازِ باجماعت کی پابندی، تلاوتِ قراٰن، ذکر و اَذکار، درود وسلام،صدقہ وخیرات،تقویٰ و پرہیزگاری جیسی کئی نیکیاں کرتا ہے اور اسے گناہوں سے توبہ کی توفیق بھی ملتی ہے۔ حج کے بعد وطن واپسی پر بھی یہی کیفیت اور ذوقِ عبادت باقی رہنا چاہیے کہ حجِ مقبول کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ”جس کے بعد حاجی مرتے دم تک گُناہوں سے بچے،حج برباد کرنے والا کوئی عمل نہ کرے۔“
شیطان کسی حاجی صاحب کو اس خوش فہمی میں مبتلا کرسکتا ہے کہ حج کی برکت سے بخشش توہوگئی لہٰذا اب حسبِ معمول حرام وحلال کی تمیز کیے بغیرزندگی بسر کرو۔ اگر کسی کی ایسی سوچ ہے تو اسے فوراً اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ۔
حج کے بعدعبادت کا شوق کیسے باقی رکھا جائے؟
حج كے بعد عبادت کا ذوق برقرار رکھنے کے لیے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجیے:
پہلا طریقہ(اطاعت کا ذہن بنائے)
دوران ِ حج جس طرح اللہ پاک كے ہرحکم کی شوق سے بجا آوری کی اسی طرح حج كے بعد یہ ذوق باقی رکھنے کے لیے حاجی کوچاہیے ہرحکمِ الٰہی کی اطاعت کا ذہن بنائے اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کی پابندی ،نماز اور دیگر عبادات کی ادائیگی میں اللہ پاک کی اطاعت کو پیشِ نظر رکھے، جب یہ ذہن بن جائے گا کہ مجھے اللہ پاک کی اطاعت کرنی ہے توچاہے حج ہو یا نماز ، زکوٰۃ ہو یا کوئی اور امرِ الٰہی ہم ہر حال اور وقت میں اللہ کی اطاعت کریں گے۔
دوسرا طریقہ(فضائل والی احادیث پر پختہ یقین رکھے)
حج سے واپسی کے بعدعبادت کے شوق کو برقرار رکھنے کے لیےحج کی فضیلت پرمشتمل احادیثِ مبارکہ پر پختہ یقین رکھے، بالخصوص یہ دوفرامین ِ مصطفےٰ کوہمیشہ ذہن میں رکھے(1) حاجی اپنے گھر والوں میں سے 400 (مسلمانوں) کی شفاعت کرے گا اور گُناہوں سے ایسا نکل جائے گا، جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔([7]) (2)حج کیا کرو کیو نکہ حج گناہوں کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کو دھودیتا ہے ۔([8])
جب یہ یقین ہوگا کہ حج کی برکت سے میرے گُناہ مُعاف ہوگئے ہیں اور نامَۂ اعمال سے گُناہوں کی سیاہی دُھل چکی ہے تو اب عبادت کی طرف اُس کا شوق اور میلان بڑھ جائے گا اور اس کا دل گُناہوں سے نفرت کرنے لگے گا ۔
تیسرا طریقہ (اچھی صحبت اختیار کرے)
حج سے واپسی کے بعد عبادت کاذوق برقرار رکھنے کے لیے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا بھی مفید ثابت ہوگا کیونکہ حج کےاَیّام حاجی ایسے لوگوں کے درمیان گُزارتا ہے جو ہر وقت عبادت وتلاوت میں مصروف رہتے ہیں، مقدّس مقامات پر دعا، نوافل اور ذکرودُرُود میں مصروف رہتے ہیں تو انہیں دیکھ کر عبادت کا شوق پیدا ہوا اور نیکیاں کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ حج سے واپسی پراگرایسے ہی اچھے لوگوں کی صحبت میسر آجائے تو عبادت کاشوق برقرار رہے گا۔حدیث شریف میں اچھے دوست کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ اچّھا ہم نشین وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں اللہ یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں اضافہ ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔([9])
لہٰذا بِالخصوص حاجی اور بِالعموم ہم سبھی کو اپنی دُنیا وآخرت بہتر بنانے کے لیے ایسے سنجیدہ اور سنّتوں کے پابند لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جن کی باتیں خوفِ خدااور عشقِ مصطَفےٰ میں اضافے کا باعِث بنیں اوروہ وقتاً فوقتاً ظاہری بُرائیوں اور باطِنی بیماریوں کی نشاندہی کرتے اور ان کا علاج تجویز فرماتے رہیں ۔
اَلحمدُ لِلّٰہ موجُودہ دَور میں عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول کی برکت سے راہِ راست سے بھٹکے ہوئے بے شمُار افراد سیدھی راہ پر آگئے۔
دعوتِ اسلامی نے مُعاشرے کی اِصلاح اورنوجوانوں کی علمی،عملی و اَخلاقی تربیَت کے لیے جو اِقدامات کیے ہیں اُن سے لوگوں کی ایک تعداد واقِف ہے۔آپ بھی اس دینی ماحول سے وابستہ رہیے اور عمل کا جذبہ بڑھائیے۔
چوتھا طریقہ(روزانہ نیک اعمال کا ہدف بنائے )
عبادت کا ذوق برقرار رکھنے کے لیے روزانہ نیک اعمال کا ایک ہدف بنائیں کہ مجھے دن بھر میں پانچوں نمازیں باجماعت پڑھنے کے ساتھ اتنی نفل عبادت بھی کرنی ہے، پھر اس پر عمل کے لیے کوشش بھی کریں کہ اس طرح کرنے سے بھی نیک اعمال کی طرف رغبت باقی رہے گی ۔
ہمارے بُزرگانِ دین بھی نیک اعمال کا ایک ہدف بنا لیا کرتے اور پھر اس پرعمل کی بھر پورکوشش فرماتے اور ہدف مکمل کرلینے کے بعدبھی خود کو عبادت وریاضت میں ہی مشغول رکھتےتھے۔
شیخِ طریقت،اَمِیرِ اہلِ سنّت، حضرت ِ علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادِری رضوِی دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ بھی اسلاف کی پیروی کرنے والی ایک عظیم شخصیت ہیں، آپ نے لوگوں کو اسلاف کی پیروی کا ذہن دیتے ہوئے”نیک اعمال“کا ایک عظیم نسخہ دیاہے جس کے ذریعے صبح ِصادق سے لے کر رات سونے تک نیکیاں کرنے کے کثیرمواقع ملتے ہیں۔ لہٰذا آپ بھی روزانہ نیک اعمال کا رسالہ پُر کیجیے اور اس پر عمل کی کوشش بھی کیجیے ان شآء اللہ نیکیوں میں رغبت پیدا ہوگی۔
پانچواں طریقہ(حج سے پہلے والی کیفیت اپنائے)
حاجی کوچاہیے کہ حج سے واپسی پر وہی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرے جو جانے سے پہلے تھی۔سفر حج سے پہلےحاجی کے دل میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے، اس کا دل محبتِ الٰہى سے سرشار ہوکر نیک اعمال کاحریص اورگناہوں سے کنارہ کش ہوجاتاہے ،اس کى ىہی کوشش ہوتى ہے کہ فضول گوئى، بے حىائى، بددىانتى جھوٹ، غىبت اور جھگڑے فساد سے بچتا ہے، حقوقُ اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوقُ العباد بھی ادا کرتا ہے، عزىز و اقارب سےان کی حق تلفیوں کى مُعافى مانگتا ہے تاکہ دربارِ خداوندى مىں حقوق العباد کا بوجھ ساتھ نہ جائے۔ حج سے واپس آنے کے بعد بھی حاجی کو چاہیے کہ اپنے اندر وہی کیفیت اور نیکیوں کی حرص پیدا کرے کیونکہ یہی حرص انسان کی بخشش ومغفرت کا ذریعہ اور جنَّت کے اعلیٰ درجات میں پہنچانے کا وسیلہ بنتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں اخلاص و استِقامت کے ساتھ عبادت و تلاوت کی سعادت نصیب فرمائے ۔


Comments