چند قدیم مدارس و جامعات (قسط:01)


چند قدیم مدارس و جامعات


مَدَارسِ اسلامیہ کو اسلام کے قلعے کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ اسلامی تعلیمات نسل دَر نسل منتقل کرنے کے اہم مراکز ہیں، ان ہی کے ذریعے اسلامی علوم و فنون کی نشر واشاعت کا سلسلہ آغازِ اسلام سے جاری ہے، اپنی اصل کے اعتبار سے مدرسہ کسی عمارت اور بلڈنگ کا نام نہیں بلکہ ایک استاذ اور شاگرد کے رابطے کا نام ہے، جہاں استاذ اور شاگرد تعلیمِ دین کے لئے مل بیٹھیں وہی جگہ مدرسہ کہلاتی ہے۔

روئے زمیں پر مَدَارسِ اسلامیہ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی تاریخ، چونکہ اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی طرف وحیِ الٰہی کی ابتدا

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)

(ترجَمۂ کنزُالایمان:پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سے کی گئی، اس لئے تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروعِ اسلام سے کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا، بعض صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  ایمان لانے والے نئے مسلمانوں کو مختلف گھروں میں قراٰن اور تعلیماتِ اسلامیہ کا انفرادی طور پر درس دیتے تھے۔

یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ تاریخِ اسلام میں پہلی بار باضابطہ اس مبارک عمل کی ابتدا مسجدِ نبوی سے ہوتی ہے، جب ستر صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  مسجدِ نبوی کے چبوترے پر قراٰن کی تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع کرتے ہیں، یہ چبوترہ دن کے وقت ایک درس گاہ اور رات میں ان علمِ دین کے طالبوں کی اقامت گاہ تھا، عربی میں چبوترے کو صُفَّہ کہتے ہیں اس لئے اسلام کا یہ پہلا مدرسہ ”صُفَّہ“ کے نام سے مشہور ہوا، اور اس میں پڑھنے والے ”اَصحابِ صُفَّہ“ کہلائے۔

اس کے بعد یہ سلسلہ صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  کے اسلام کی خاطر مختلف جہتوں میں سفر کرنے کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتا رہا، یہاں تک کہ حضرت سیّدُنا عمر بن عبد العزیز  رحمۃُ اللہ علیہ  نے فقہا اور علما کو مساجد میں مجالسِ علم قائم کرنے کا فرمان جاری کیا، اس لئے مکۂ معظمہ اور مدینۂ منوّرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ، بصرہ، دمشق اور فُسطاط جیسے اسلامی شہروں میں تعلیم و تعلم کے مراکز قائم کئے گئے۔

دورِ صحابہ کے بعد مشہور درس گاہوں میں کوفہ میں امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃُ اللہ علیہ  کی درس گاہ اور مدینہ میں امام مالک  رحمۃُ اللہ علیہ  کی درس گاہ مرجعِ خلائق تھیں، امامِ اعظم  رحمۃُ اللہ علیہ  کی بارگاہ میں افغانستان سے لے کر دِمَشق و حِمص تک کے طلبہ علمی پیاس بجھانے آتے تھے تو امام مالک  رحمۃُ اللہ علیہ  سے فیض یاب ہونے کے لئے بُخارا و سَمَرقَند اور تِیُونَس و قُرطُبہ سے تشنگانِ علم جوق در جوق حاضر ہوتے تھے، حضرات تابعین اور ان کے بعد کے اَدْوار میں اس سلسلے نے اس قدر فروغ پایا کہ دمشق میں جامع بنی اُمَیَّہ اور قاہرہ مصر میں جامع ابنِ طُولُون جیسے اہم علم و فن کے مراکز وجود میں آئے جہاں جلیلُ القدر علما باضابطہ طلبہ کو مختلف علوم کا درس دیتے تھے۔آگے چل کر اسی علم دوستی اور سرکاری سرپرستی کے نتیجے میں علمائے کرام نے کائناتِ ارضی کے گوشہ گوشہ میں اشاعتِ علم کے مراکز قائم کئے، صرف دمشق جیسے شہر میں 150 اور قاہرہ میں 75 مدارس موجود تھے اور اس وقت سے جو یہ سلسلہ شروع ہوا تھا آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی دنیا کے کم و بیش ہر ملک میں رائج ہے۔

قدیم زمانہ میں درس وتعلیم کے لئے الگ سے مستقل عمارتیں نہیں تھیں بلکہ اس کام کے لئے زیادہ تر مساجد سے کام لیا جاتا تھا جہاں باقاعدہ مجلسیں لگائی جاتیں اور لوگ ان مبارک حلقوں میں حصولِ تعلیم کے لئے شرکت کرتے تھے۔

اسلامی مدارس و جامعات باضابطہ طور پر کب وجود میں آئے اس سلسلے میں مؤرخین کی آراء مختلف ہیں، کچھ لوگ یہ سہرا مَلِک شاہ سلجوق کے وزیر نظامُ المَلِک طُوسی کے سر سجاتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے 459ہجری میں بغداد میں مدرسہ نظامیہ قائم کیا، مگر کچھ مؤرخین جیسے علّامہ تقی الدّین سبکی اور علّامہ جلالُ الدّین سُیوطی اس کا رد کرتے ہیں، کیونکہ چوتھی صدی ہجری کے اَواخر میں مدارس کے لئے علیحدہ اور مستقل عمارت بنانے کی ابتدا نیشاپور میں ہوئی، یہاں پہلا مدرسہ نیشاپور کے ناصر اَلدَّوْلَہ ابوالحسن (سالِ وفات:378ھ) نے امام محمد بن حسین فُورَک کے لئے بنایا، یوں ہی سلطان محمود غزنوی نے متھرا کی فتح سے جاکر410ھ میں ایک عالیشان مدرسہ بنوایا، دمشق میں چوتھی صدی کے آخر میں امیر شجاع اَلدَّوْلَہ صادِر بن عبد اللہ نے 391ھ میں حنفیوں کا مدرسہ صادِرِیَّہ قائم کیا، اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے بے شمار مشہور و معروف مدارس و جامعات نظر آتے ہیں، یہاں 10ویں صدی ہجری کے ایک بزرگ عبد القادر بن محمد النعیمی الدمشقی کی کتاب ”الدارس فی تاریخ المدارس“ میں مذکور صرف دارُ القرآن، دارُ الحدیث اور مدارس کے نام ملاحظہ کیجئے:

چند قدیم دُوَرُالقرآن الکریم:

دارُ القرآن الخَیضَریہ، دارُ القرآن الکریم الجَزرِیہ،دارُ القرآن الکریم الرَشَائیہ، دارُ القرآن الکریم السَنْجَاریہ، دارُ القرآن الکریم الصَابُونیہ۔

چند قدیم دُوَرُالحدیث الشریف:

دارُ الحدیث الاَشرفیہ البَرانیہ، دارُ الحدیث البَھَائیہ، دارُ الحدیث الحِمصِیہ، دارُ الحدیث السَامِرِیہ، دارُ الحدیث الفَاضِلِیہ، دارُ الحدیث النُورِیہ، دارُ الحدیث النَفِیسِیہ، دارُ الحدیث النَاصِرِیہ۔

چند قدیم دورالقرآن والحدیث:

دارُ القرآن و الحدیث التنکزیہ، دارُ القرآن و الحدیث الصَبابِیہ، دارُ القرآن و الحدیث المَعبَدِیہ۔

احناف کے چند قدیم مدارس:

المدرسۃُ الاَسَدِیہ، المدرسۃُ الاِقبالِیہ، المدرسۃُ الآمَدِیہ، المدرسۃُ البَدَرِیہ، المدرسۃُ البَلْخِیہ، المدرسۃُ التاجِیہ، المدرسۃُ الجلالِیہ، المدرسۃُ الجَمالِیہ، المدرسۃُ الرَیحانِیہ۔

شوافع کےچند قدیم مدارس:

المدرسۃُ الاَصفَہانِیہ، المدرسۃُ الاَمجَدِیہ، المدرسۃُ الاَمِینِیہ، المدرسۃُ التَقوِیہ، المدرسۃُ الحَلبِیہ، المدرسۃ الخَلِیلِیَہ، المدرسۃُ الشَرِیفِیہ، المدرسۃ الصالحیہ۔

مالکیہ کے قدیم مدارس:

الزَاوِیۃُ المَالِکِیہ، المدرسۃُ الصَلاحِیہ۔

حنابلہ کے قدیم مدارس:

المدرسۃُ الجَوزِیۃ، المدرسۃُ الجَاموسیہ، المدرسۃ الحنبليۃ الشريفیۃ، المدرسۃ الصاحِبِیۃ، المدرسۃ الصَدْرِیۃ، المدرسۃُ العالِمۃ، المدرسۃ المِسمارِیۃ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مدرس مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی


Share