طبقاتِ معاشرہ کی تربیت اور اسلام
دینِ اسلام نے تربیَت کا ایک ایسا جامع نظام دیاہے جو ہر عمر، ہر حیثیت اور ہر کردار کے انسان کو مقصدِ حیات، اخلاق و کردار، اور اللہ سے تعلّق کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
(1)بچّوں کی تربیَت:
اسلامی تعلیمات میں بچوں کی تربیت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے، کیونکہ نونہال ہی مستقبل کے معمار اور اُمت کے امین ہوتے ہیں۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بچوں کی تربیت میں نہایت حکمت، نرمی اور ان کی فطرت و ذہنی سطح کے مطابق انداز اختِیار فرمایا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ عملی مثال پیش فرمائی۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انداز یہ تھا کہ آپ ان کی سمجھ کے مطابق ان کی تربیت فرماتےاور سکھاتے تھے۔ ایک مرتبہ (بچپن میں) حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے صدقے کی کھجوروں میں سے ايک کھجور اپنے منہ میں رکھ لی توآپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فوراً فرمايا:”کخ کخ“یعنی اس کوپھینک دیں۔ ([1])
امام محمدغزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حالانکہ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی فصاحت اس بات سے عاجز نہ تھی کہ آپ یوں فرماتے”یہ کھجور پھینک دو، یہ حرام ہے“ لیکن آپ جانتے تھے کہ بچہ یہ کلام سمجھ نہ سکے گا لہٰذا فصاحت کو چھوڑ کربچّے کی سمجھ کے مطابق کلام فرمایا۔([2])
(2) خواتین کی تربیت:
اسلام میں خواتین کی تعلیم و تربیت کو وہی اہمیّت دی گئی ہے جو مردوں کو حاصل ہے۔ دینِ اسلام نے عورت کو معاشرے کا ایک فعّال اور باعزّت رُکن قرار دیا ہے، اور اس کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کو اُمّت کی اصلاح کا لازمی جزو بنایا ہے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواتین کی دینی تعلیم و تربیَت کے لیے ایسا منظم اور رَحمت بھرا نظام قائم فرمایا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام عورت کی ترقّی، علم و فہم، اور کردار سازی کا علمبردار ہے۔
دورِ نبوی میں خواتین کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیَت کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےجس طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت فرمائی، اسی طرح صحابیات رضی اللہ عنہن کی روحانی، اخلاقی اور علمی تربیَت کا بھی خصوصی خیال رکھا۔ آپ نے خواتین کو دین سیکھنے اور سکھانے کے مواقع فراہم کیے اور ان کی فکری و عملی رہنمائی فرمائی تاکہ وہ بھی دینِ اسلام کی فہم و بصیرت سے بہرہ مند ہوسکیں۔ ایک عورت نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکرعرض کی:مرد حضرات تو آپ کی بارگا ہ میں حاضری دے کرآپ کے ارشادات سن لیتے ہیں،ہمیں بھی ایک دن عطا فرمادیں جس میں آپ ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ پاک نے آپ کو سکھایا ہے۔ ارشاد فرمایا: تم فلاں دن فلاں مقام پر جمع ہوجایا کرو! چنانچہ وہ عورتیں جمع ہوگئیں۔رسولُ اﷲ نے انہیں اللہ کے سکھائے ہوئے (احکامات) میں سے کچھ سکھایا۔([3]) اسی طرح ایک موقع پر آپ نے تعلیمِ نسواں کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جس کی ایک بیٹی ہو وہ اسے اچھے آداب سکھائے، اچھی تعلیم دلائے اور جونعمتیں اللہ پاک نے اسے دی ہیں ان میں سے خوب خرچ کرے تو یہ بیٹی اس کے لیےجہنّم سے رُکاوٹ بن جائے گی۔([4])
(3)جوانوں کی تربیَت
اسلام نے نوجوانوں کی تربیَت کو نہایت اَہم اور بنیادی حیثیت دی ہے، کیونکہ نوجوانی وہ دور ہے جب انسان کی صلاحیتیں، ارادے اور توانائیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔اگر اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس طاقت کا استِعمال کیا جائے تو نوجوان کل کے باکِردار مسلمان، سچّے عاشقانِ رسول اور دین کے مضبوط داعی بن سکتے ہیں۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو ہمیشہ خصوصی اہمیّت دی۔ آپ نے موقع محل کےمطابق ان کی اخلاقی، روحانی اورعملی رہنمائی فرمائی، تاکہ وہ معاشرے میں مثالی کردار ادا کر سکیں۔ حضرت علی،شیرِ خدا رضی اللہ عنہ جنہوں نے بچپن سے ہی نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تربیت میں وقت گزارا، اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ وہ کم سنی میں ہی دولتِ اسلام سے مشرّف ہوئے اور پھر ساری زندگی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زیرِ سایہ رہ کر دین کی خدمت کرتے رہے۔
اسی طرح حجۃ الوداع کے موقعے پرحضرت فَضْل بن عباس رضی اللہ عنہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ اتنے میں قبیلہ خَثْعَم کی ایک عورت آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس عورت کو دیکھنے لگے اور وہ عورت بھی انہیں دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فضل کا چہرہ دوسری طرف موڑ دیا (تاکہ وہ عورت کو نہ دیکھیں)۔ ([5])
ایک اور واقعے میں ایک نوجوان نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زنا کی اجازت مانگتا ہے، تو آپ نے سختی کے بجائے محبت، حکمت اور دلیل سے اس کی اصلاح فرمائی۔([6])یہ تمام مثالیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حضور نے نوجوانوں کے جوش کو دبایا نہیں، بلکہ اسے درست سمت میں پروان چڑھایا۔ آج بھی اگر نوجوانوں کی تربیت سیرتِ نبوی کی بنیاد پر کی جائے، تو وہ گمراہی کے راستوں سے بچ کر دین و ملّت کے بہترین خادم بن سکتے ہیں۔
(4)حکمران و ذمّہ داران کی تربیَت:
اسلام ایک ایسا کامل نظام ہے کہ حکومت و قیادت کے اُصول بھی سکھاتا ہے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ واضح فرمایا کہ قیادت دراصل امانت ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی۔ لہٰذا اسلام میں حکمرانوں اور ذمّہ داران کی تربیت نہایت اہمیت رکھتی ہے تاکہ وہ اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی بھلائی اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بنائیں۔
اسلام سکھاتا ہے کہ حکمرانوں اور ذمہ داروں کو چاہیےکہ وہ عدل، امانت، مشورہ، اور رعایا کی خیر خواہی کو اپنا شعار بنائیں۔ ان کے کردار میں خوفِ خدا، عاجزی، اور جواب دہی کا احساس ہونا چاہیے، تاکہ وہ اقتدار کو خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائیں،فخر و غرور کا نہیں۔نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ صرف خود عدل و انصاف پر مبنی حکومت قائم کی بلکہ اپنے خلفاء، گورنروں اور قاضیوں کو بھی اسی کا حکم دیا۔آئیے ! اس کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عامل (سرکاری نمائندے )کی تربیت کرتے ہوئے یہ سکھایا کہ عوامی منصب کے دوران ملنے والا مال یا تحفہ تمہاری ملکیت نہیں بلکہ امانت ہوتاہے، اور اسے دیانت داری سے بیتُ المال میں جمع کروانا چاہیے۔([7])
اسی طرح نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تربیت یافتہ صحابۂ کرام بھی نبوی اصولوں کی بنیاد پر اپنے عہدہ و منصب کو پوری ذمہ داری سے نبھایا کرتے تھے،جیساکہ ایک مصری شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میں نے حضرت عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے دوڑ میں سبقت حاصل کی، تو اس نے مجھے کوڑے مارے اورکہا: تو مجھے شکست دیتا ہے؟ میں دو کریموں کا بیٹا ہوں۔حضرت عمر نے فوراً عمرو بن عاص اور ان کے بیٹے کو مدینہ طلب کیا۔جب وہ آئے،تو حضرت عمر نے اس مصری کو کوڑا دے کر فرمایا: ”مارو اسے!“ مصری نے اسے خوب مارا، حضرت عمر فرماتے رہے:دو کریموں کے بیٹے کواور مارو!پھر حضرت عمر نے فرمایا:یہ کوڑا عَمرو بن عاص کے سر پر بھی مارو!لیکن مصری نے کہا کہ میرا بدلہ پورا ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا:تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا، حالانکہ ان کی مائیں تو انہیں آزاد جنا کرتی تھیں؟حضرت عَمرو بن عاص نے عرض کیا کہ مجھے اس واقعے کا علم نہ تھا۔([8])
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں، ظالم چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز ہواس سے ظلم کا بدلہ ہر حال میں لیا جائے گا۔
(5)غیر مسلموں کو دعوت واخلاق کے ذریعے تربیت :
اسلام صرف مسلمانوں کی تربیت نہیں کرتا بلکہ غیر مسلموں تک بھی دعوتِ دین کے ذریعے حق کی پہچان اور اخلاقی روشنی پہنچانااس کامشن ہے۔ غیرمسلموں سے خیرخواہی،حسنِ سلوک، اور بہترین اخلاق کے ساتھ پیش آنا اسلامی تربیت کا اہم حصہ ہے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت میں ہمیں اس کی کئی روشن مثالیں نظر آتی ہیں کہ آپ نے اپنی نرم مزاجی، عدل، اور اپنے اخلاق ِ حسنہ سے کافروں کے دل جیت لیے اور وہ بھی دامنِ اسلام سے وابستہ ہوگئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments