صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

بزرگوں کو یاد رکھئے

ذُوالحجۃِ الحرام اسلامی سال کا بارھواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وصال یا عرس ہے، ان میں سے116کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ذُوالحجۃِ الحرام 1438ھ تا 1446ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان:

*شہدائے جنگ مَرْجِ راہِط:

 ذُوالقعدہ64ھ کو مروانی فوج نے حضرت ضحّاک بن قَیس فِہْری  رضی اللہ عنہ  کی فوج پر حملہ کیا، 20دن جنگ جاری رہی، بالآخِر 15ذوالحجہ64ھ کو مروانی فوج غالب آئی اورحضرت ضحّاک  رضی اللہ عنہ  دیگر صحابۂ کرام مثلاً حضرت ربیعہ بن غاز جُرَشی، حضرت زمل بن عمرو عزری اور حضرت معن بن یزید سلمی  رضی اللہ عنہم وغیرہ کے ہمراہ شہید ہوگئے۔ ([1])

(1)حضرت سعد بن خولہ قرشی عامری  رضی اللہ عنہ  قبیلہ بنی عامر بن لؤی کے فرزند تھے یا اس کے حلیف تھے اور اصل میں فارسی (عجمی) تھے،یہ اَلسَّابِقُونَ الْاَوّلُون میں شامل، قدیمُ الاسلام، حبشہ و مدینہ کی جانب ہجرت کرنے والے، غزوۂ بدر، احد، خندق اور صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے، ان کی وفات حجۃ الوداع (ذوالحجہ10ھ) میں ہوئی، حضرت سُبَیْعَہ بنتِ حارث اسلمیہ  رضی اللہ عنہا آپ کی زوجہ تھیں۔([2])

اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام:

(2)شیخ الصوفیہ حضرت ابوعبدُاللہ احمد بن عطاء روذباری رحمۃُ اللہ علیہ مشہور ولی اللہ حضرت ابوعلی روذباری کے بھانجے، ولی، محدّث، قاری، عالمِ دین اور اعلیٰ اخلاق و شمائل کے مالک تھے، فقر میں آپ کا مقام بہت بلند ہے۔ آپ نے ذوالحجہ 369ھ کو صور (Tyre, Lebanon) میں وصال فرمایا۔([3])

(3)نواب الاولیاء حضرت پیر مخدوم موسیٰ نواب سہروردی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 584ھ کو کوٹ کروڑ ضلع لیہ، پنجاب میں ہوئی اور 25ذوالحجہ 667ھ کو وصال فرمایا، مزار سرواہی شریف، سنجرپور، تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یارخان میں ہے۔ آپ شیخ الاسلام شیخ بہاؤالدّین زکریا ملتانی کے مرید و خلیفہ، مخدوم عبدالرشید حقانی کے بھائی ہیں۔([4])

(4)کثیرُالفیض حضرت خواجہ حافظ احمد یسوی نقشبندی کشمیری رحمۃُ اللہ علیہ ولیِ کامل، صاحبِ کرامت، کثیرالمریدین اور منبعِ انوار و تجلیات ہیں۔ وصال 3ذوالحجہ1114ھ یا 1116ھ کو کشمیر میں فرمایا۔([5])

(5)حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 14رمضان 1142ھ کو بستی چوٹالہ، مہارشریف، چشتیاں ضلع بہاولنگر میں ہوئی۔ آپ کھرل خاندان سے تعلّق رکھتے تھے، آپ نے علمِ دین مہارشریف، لاہور اور دہلی سے حاصل کیا۔ دہلی میں فخرجہاں، محب النبی حضرت خواجہ فخرالدّین دہلوی چشتی نظامی سے بیعت اور خلافت حاصل کی، مہار شریف آکر خانقاہ کی بنیاد رکھی، خواجہ سلیمان تونسوی آپ کے ہی مرید و خلیفہ ہیں،آپ کا وصال 3ذوالحجہ1205ھ کو ہوا، مزار مبارک مہارشریف میں مرجعِ عام و خاص ہے۔([6])

(6)حضرت خواجہ حافظ دوست محمد للّٰہی رحمۃُ اللہ علیہ بانی خانقاہ للّٰہی خواجہ غلام نبی للّٰہی کے صاحبزادے، حافظِ قراٰن، عالمِ دین، عارف باللہ اور والدِ گرامی کے جانشین تھے، پیدائش 1266ھ اور وصال 18ذوالحجہ1318ھ کو ہوا، والد کے پہلو میں تدفین کی گئی۔([7])

(7)حضرت سخی ابراہیم جیلانی وجڑی والا رحمۃُ اللہ علیہ حضور غوث الاعظم کی اولاد سے ہیں،آپ بڑے سخی، فیاض اور صاحب نظر تھے، آپ کے پاس آنے والے حاجت مند خالی ہاتھ نہ جاتے، آپ کو گنجے کا گھوٹ یعنی گنجو پہاڑ کا دولہا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا عرس 9ذوالجہ کو ہوتا ہے، مزار گنجو ٹکر پہاڑ، نورائی شریف، حیدرآباد، سندھ میں ہے۔([8])

علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام:

(8)امام و محدث شیخ ابوعبدالملک بکر بن مضر مصری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 100ھ اور وفات 9ذوالحجہ174ھ کو ہوئی۔ صحابی حضرت شرحبیل بن حسنہ کے غلاموں سے تھے، آپ علم وعمل کے جامع، عبادت گُزار، صدوق، ثقہ اور حجّت تھے۔ کئی محدثین نے آپ سے احادیث راویت کی ہیں۔([9])

(9)امام ابویمان حکم بن نافع حِمصی بُہرانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 138ھ اور وصال ماہِ ذوالحجۃ الحرام 222ھ کو حِمص میں ہوا۔آپ نے جلیل القدر ائمہ احادیث سے سماعت کرکے محدِّثِ کبیر کے منصب پر فائز ہوئے،آپ کے تلامذہ میں امام بخاری، امام یحییٰ بن معین اورامام عثمان بن سعید دارمی جیسے محدثین شامل ہیں۔([10])

(10)قدوۃُ المسلمین امام ابوعبداللہ محمد بن رافع قشیری نیشاپوری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش170ھ کے بعد ہوئی اور طویل عمر پاکر آپ کا وصال ذوالحجۃالحرام 245ھ میں ہوا، امام محمد بن یحییٰ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ استاذالمحدثین، جلیل القدر اور بارعب تھے۔ امام ابوبکر محمد بن نعیم مدنی نے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا تو قراٰنِ پاک کی تلاوت کررہے تھے۔([11])

(11)جلالُ الملّت و الدین،حضرت علّامہ ابومحمد عمر بن محمد خبازی رحمۃُ اللہ علیہ بہت بڑے فقیہ، جامع اصول و فروع، صاحبِ عبادت و تقویٰ اور عارف باللہ تھے۔ آپ نے مدرسہ خاتونیہ دمشق میں 25ذوالحجہ691ھ کو وفات پائی۔ آپ کی تصنیف کردہ کتب میں المغنی فی اصول فقہ مشہور ہے۔([12])

(12)شیخ محمد فاضل شہید گجراتی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش تقریباً 1084ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ عالمِ کبیر، بہترین تاجر، اسلامی شاعر، شارح کتب تھے۔ آپ کی شہادت 24یا25 ذوالحجہ1129ھ کو ہوئی۔ تدفین مسجد بی بی جی، احمد آباد، گجرات، ہند میں کی گئی۔ چھ کتب میں معدن الفضائل فی شرح الشمائل الترمذی اہم ہے۔([13])

(13)فاضلِ بریلی شریف استاذُالعلماء حضرت مولانا محمد عبداللہ چشتی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت 1340ھ کو لنگرانہ چک (نزد محمدی شریف، ضلع جھنگ) میں ہوئی اور وصال 25ذوالحجۃ الحرام 1393ھ کو سیال شریف (ضلع سرگودھا) میں ہوا، آپ درسِ نظامی کے استاذ، شیخُ الاسلام خواجہ قمرُالدّین سیالوی کے مرید اور محدثِ اعظم پاکستان کے شاگرد تھے۔([14])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])اسد الغابۃ، 3/49، 2/256، 307-الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، 6/151- البدایۃ والنہایۃ، 5/757تا760

([2])الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 2/153- طبقات ابن سعد، 3/311-معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، 2/406

([3])طبقات الصوفیہ، ص370

([4])ویکیپیڈیا، مضمون: پیر موسیٰ نواب

([5])خزینۃ الاصفیاء،3/225

([6])انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام،4/97تا101

([7])تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص139

([8])تذکرہ اولیائے سندھ، ص325، 326

([9])تذکرۃ الحفاظ للذہبی، 1/176

([10])تاریخ کبیر للبخاری، 2/328، 329- تہذیب الکمال، 3/63تا 67-اسامی شیوخ البخاری للصغانی،ص99

([11])سیر اعلام النبلاء،10/166تا168

([12])تاریخ الاسلام للذہبی، 52/115-البدایۃ والنہایۃ، 9/220

([13])معدن الفضائل،ص25تا28

([14])تذکرہ اکابر اہلسنت، ص270


Share