بلی کی خرید و فروخت کا حکم اور حدیث پاک کی شرح


(1)بلی کی خرید و فروخت کا حکم اور حدیث پاک کی شرح

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بلی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟ہم نے سنا ہے کہ حدیث پاک میں بلی کی قیمت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: بلی کی خرید و فروخت کرنا، جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ رہی بات ان احادیث کریمہ کی جن میں بلی کی قیمت کھانے سے منع فرمایا گیا ہے ان کے محدثینِ کرام نے چند جوابات دیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

پہلا جواب: جس بلی کی خریدو فروخت ممنوع ہے وہ غیر نافع بلی ہے جیسے وحشی بلی۔

دوسرا جواب: یہ ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی کہ جب بلی کو ناپاک جانور قرار دیا گیا تھا بعد میں جب اس کے جوٹھے کی پاکی کا حکم دیا گیا تو اس کی قیمت حلا ل ہوگئی۔

تیسرا جواب: یہاں جو ممانعت کی گئی ہے وہ تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے یعنی اس کا فروخت کرنا، جائز تو ہے مگر غیر مناسب ہے، یہ جانور تو یونہی بطورِ ہبہ دے دینا چاہیے۔

حضرت سیدنا جابر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”نهى رسول الله  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  عن اكل الهرة وثمنها“ یعنی:رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔(ابن ماجہ،3/285)

مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  اس کی شرح میں فرماتے ہیں:”یا تو کتے بلی سے مراد غیر نافع کتے بلی ہیں جیسے دیوانہ کتا، وحشی بلی کہ اگر اسے باندھ کر رکھو تو چوہوں کا شکار نہ کرسکے اور اگر کھول دو تو بھاگ جائے اور یا مطلقًا کتا بلی مراد ہے اور نہی کراہت تنزیہی کے لیے ہے یعنی ان کا فروخت کرنا غیر مناسب ہے،یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ دے دینا چاہئیں۔“ (مراٰة المناجيح،4/254)

صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی  علیہ الرَّحمہ  لکھتے ہیں: ”کُتا، بلی، ہاتھی، چیتا، باز، شکرا، بہری، ان سب کی بیع جائز ہے۔“ (بہارِ شریعت،2/809)

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)بلیوٹوتھ والا آئینہ بیچنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم شیشوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں، آج کل مارکیٹ میں Bluetooth Mirror بھی فروخت ہوتے ہیں جو کہ موبائل فون سے Connect ہوجاتے ہیں،نیز اس میں لائٹ کی سہولت اور اینٹی فاگ(Anti Fog) کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے، عام طور پرلوگ نہاتے وقت Bluetooth کو میوزک سننے اور دیگر گناہوں بھری چیزیں سننے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کیا ان کو بیچنا جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: پوچھی گئی صورت میں کسٹمر کا Bluetooth Mirror کو خرید کر اسے گناہ کے کاموں میں استعمال کرنا متعین نہیں، اس کے دیگر جائز استعمالات بھی موجود ہیں نیز Bluetooth استعمال کرنے والے کے لئے بھی اسے میوزک وغیرہ کے علاوہ جائز چیزوں میں استعمال کرنا ممکن ہےمثلاً کوئی آنے والی کسی ضروری فون کال کو اس اسپیکر کے ذریعے سن سکتا ہے اگرچہ بیت الخلا میں کلام کرنا بہت معیوب بات ہے لیکن ایسا کرنا گناہ نہیں ہے۔

 لہٰذا اس شیشے کو فروخت کرنا ایسا ہی ہے جیسےچھری چاقو وغیرہ فروخت کرنا، استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے جائز کاموں میں استعمال کرے یا ناجائز کاموں میں، جس طرح استعمال کرے گا اس کا ذمہ بھی اسی پر ہوگا۔

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)کمیٹی تاخیر سے دینے پر جرمانے کی شرط لگانا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلےکے بارے میں کہ زید اپنے پاس کمیٹی ڈالنا چاہتا ہے،اس نے ممبران کو وقت پر قسط دینے کا پابند بنانے کے لیے تحریری طور پریہ شرط رکھی ہے کہ اگر کوئی ممبر مقررہ تاریخ (مثلاً دس تاریخ) کے بعد اپنی قسط ادا کرے گا تو اسے ہر دن کے حساب سے دو سو روپے بطورِ جرمانہ دینا ہوگاتمام ممبران کو اس تحریر پر دستخط بھی کرنے ہوں گے۔البتہ زید کی نیت یہ ہے کہ وہ حقیقت میں کسی سے جرمانہ نہیں لے گا بلکہ یہ شرط محض ممبران کو وقت پر کمیٹی کی قسط اداکرنےکی ترغیب دینے کے لیے لگائی گئی ہے۔ کیا اس طرح کی شرط لگاناجبکہ جرمانہ لینے کا کوئی ارادہ نہ ہو توشرعاً جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: پوچھی گئی صورت میں کمیٹی ممبران پر تاخیر سے کمیٹی جمع کروانے پر اضافی رقم لینے کی شرط لگانا، جائز نہیں اگرچہ زید کی نیت اضافی رقم لینے کی نہ ہو۔

اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کمیٹی کی رقم جمع کروانے والے کی دو صورتیں بنتی ہیں :

(1)ایک صورت یہ ہے کہ اس کی کمیٹی نکلی نہیں ہے، ایسی صورت میں تاخیر سے جمع کر وانے پر اضافی رقم لینے کی شرط مالی جرمانہ ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔

(2)دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے کچھ کمیٹیاں بھریں اور کمیٹی نکل آئی،ایسی صورت میں جو اس کو اضافی رقم ملی ہے وہ اس پر قرض ہے، اب جو قسطیں ادا کر رہا ہے، وہ اپنا قرض اتار رہا ہے، ایسی صورت میں تاخیر سے کمیٹی جمع کروانے پر اضافی پیسے لینے کی شرط سود ہے کہ یہ قرض پر مشروط اضافی نفع لینا ہے اور سود حرام و گناہ ہے۔

اب چونکہ کمیٹی کی قسط تاخیر سے جمع کروانے والے پر اضافی رقم کی شرط لگانے کی صورت میں سود اور مالی جرمانہ دونوں کا احتمال موجود ہے اور دونوں غیر شرعی عمل ہیں۔ لہٰذا زید کا اس طرح کی شرط لگانا اور باقی افراد کا یہ غیر شرعی کام کرنے پر رضا مندی ظاہر کر نا حرام فعل ہےاگرچہ زید کی نیت اضافی رقم وصول کرنے کی نہ ہو۔

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی


Share