حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہما
کم عمری میں جن خوش نصیب شخصیات کو اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابی ہونے کا شَرف ملا اُن میں حضرت عبدُاللہ بن سائب رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں، آئیے! ان کے بچپن کی مختصر سیرت پڑھ کر اپنے دِلوں کو محبتِ صحابۂ کرام سے روشن کرتے ہیں:
مختصر تعارف:
آپ کا شمار کم سِن صحابہ میں ہوتا ہے، آپ صحابیِ رسول حضرت سائب بن ابو سائب کے بیٹے اور قاریِ مکہ ہیں، آپ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ ([1])
تعدادِ روایات:
آپ سے 7احادیثِ مبارکہ مروی ہیں۔([2])
حُضور کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی:
ایک روایت میں آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں مکۂ مکرمہ میں فجر کی نماز پڑھائی، سورۂ مؤمنون شروع کی حتّٰی کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون یا حضرت عیسیٰ کا ذکر آیا تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کھانسی آگئی اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رکوع فرما دیا۔([3])
مشہور مفسّر حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی فتح مکہ کے دن آپ ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فجر کی نماز میں) قرأت زیادہ کرنا چاہتے تھے مگر درمیان میں کھانسی آجانے کی وجہ سے رکوع فرما دیا کہ اگر امام کو دورانِ نماز میں کوئی حادثہ پیش آجائے جس سے وہ دراز قرأت نہ کرسکے تو رُکوع کردے۔([4])
وصال:
آپ رضی اللہ عنہ نے 70ہجری کے بعد مکۂ مکرّمہ میں صحابیِ رسول حضرت عبدُاللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت سے پہلے وفات پائی۔([5])
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments