قطرہ قطرہ موتی
کلاس روم میں داخل ہوتے ہی سر بلال نے سلام اور حال احوال کے بعد بچّوں کو کل کے سبق کی دہرائی کرنے کا کہا اور خود وائٹ بورڈ کی طرف متوجّہ ہو گئے تھے۔ عموماً سر بلال صرف سیاہ اور نیلا مارکر ہی استِعمال کرتے تھے لیکن آج نیلے اور سیاہ کے ساتھ ساتھ سبز اور سرخ رنگ کے بورڈ مارکرز بھی سر بلال کی مٹّھی میں دکھائی دے رہے تھے۔
بچّوں پر ایک بھرپور نظر ڈالی کہ کہیں کوئی کتاب کی آڑ میں باتوں میں تو نہیں مگن اور پھر بلیک مارکر سے وائٹ بورڈ کی دائیں طرف ایک بڑا سا گول دائرہ بنا دیا اور پھر اس دائرے میں لائن کھینچ کر اسے دو خانوں میں بانٹ دیا تھا، بڑے والے خانے میں سرخ مارکر سے 97 فیصد جبکہ چھوٹے والے میں سبز مارکر سے 3 فیصد لکھ دیا تھا۔ پھر اس 3 فیصد والے خانے کو مزید دو حصّوں میں بانٹ کر چھوٹے والے خانے میں ایک 1 فیصد لکھ دیا۔
بچے جو سبق دہرا چکے تھے اور اب حیرانی اور دلچسپی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ وائٹ بورڈ کی طرف متوجّہ ہوچکے تھے، اب سر بلال نے وائٹ بورڈ کی دوسری طرف لکھا: آزادی کے وقت، اور اس کے سامنے پانچ بالٹیاں بنا دی تھیں۔ پھر نیچے 2026 لکھ کر اس کے آگے ایک بالٹی بنا دی اور سب سے نیچے 2040 لکھ کر اس کے آگے ایک گلاس بنا دیا تھا۔
تو بچّو آپ کو پتا ہے ناں یہ کون سا ہجری مہینا ہے؟ سر بلال وائٹ بورڈ سے فارغ ہو کر پوچھنے لگے۔
اُسید رضا: جی سر یہ حج اور قربانی کا مہینا ہے۔
سر جی اس مہینے میں تو ہم مزے مزے سے بکرے کی باربی کیو پارٹی کرتے ہیں، اس مہینے کو بھلا کیسے بھول سکتے ہیں، کامران نے کہا تو سبھی مسکرا پڑے۔
سر بلال: جی جی بچو یہ ذُوالحجۃ الحرام کا مہینا ہے جس میں مسلمان حج اور قربانی جیسی اَہم عبادات کرتے ہیں۔ اور آپ کو پتا ہے ناں جب بھی کوئی حج یا عمرہ کی عبادت کر کے واپس گھر لوٹتا ہے تو اپنوں کے لیے آبِ زم زم کا تحفہ لازمی لاتا ہے لیکن کیا آپ کو آب زم زم کی تاریخ پتا ہے؟ آج سے بہت سال پہلے اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت اسماعیل اپنے بچپنے میں اور ان کی والدہ ایک صحرا (Desert) میں تھے، خوراک اور پانی سب ختم ہو گیا تھا اب ننھے اسماعیل نے پیاس سے رونا شروع کیا تو ماں نے بے تابی سے اِدھر اُدھر پانی کی تلاش میں چکر لگانا شروع کیے، دوسری طرف ننھے اسماعیل نے زمین پر پاؤں مارنا شروع کر دیے اور وہیں سے اللہ پاک نے میٹھے پانی کا چشمہ جاری کر دیا، ماں نے یہ دیکھا تو چشمے کے اِرد گرد پتّھر لگا دیئے، اسی چشمے کا پانی آج بھی آبِ زم زم کے نام سے جانا جاتا ہے جسے ہر مسلمان انتہائی شوق اور ادب سے پیتا ہے۔ اور آپ کو پتا ہے اسی چشمے کی وجہ سے اس صحرا میں رفتہ رفتہ آبادی ہونا شروع ہو گئی اور وہیں پہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی آج تک ساری دنیا سے مسلمان اس کا حج کرنے جاتے ہیں۔
سر بلال نے کلاس میں بچوں کے درمیان چکر لگاتے ہوئے بات جاری رکھی: تو بچو پانی ایک ایسی نعمت ہے جو ہمیشہ سے انسان کی بنیادی ضَرورت رہی ہے اور صرف مکّہ پاک ہی نہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں جتنی بھی پرانی قومیں ہیں وہ پانی کے پاس ہی رہائش اختِیار کرتی تھیں جیسے دریائے فرات، نیل اور دریائے سندھ وغیرہ۔ لیکن بچو اتنی اہم بنیادی ضَرورت جس کی خاطر پہلے قبیلوں میں لڑائیاں بھی چِھڑ جاتی تھیں وہ آج کتنی آسانی سے ہمارے گھروں کے نل میں آجاتا ہے شاید اسی لیے ہمیں اس کی قدر و قیمت نہیں ہے چلیں پھر آج اس کی قدر و قیمت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب سر بلال وائٹ بورڈ کے پاس آ چکے تھے، بچو آپ کو پتا ہے اس وقت دنیا میں پانی کا جتنا ذخیرہ ہے اس کا اکثر یعنی ستانوے فیصد پانی تو ویسے ہی کھارا ہے یعنی پینے کے لائق ہی نہیں ہے، باقی رہا تین فیصد تو اس میں سے بھی دو فیصد تو برف یعنی گلیشیئرز کی صورت میں ہے یعنی صرف ایک فیصد پانی ایسا ہے جو ہمارے پینے لائق ہے۔
اب ہم آتے ہیں پاکستان کی طرف تو جب پاکستان بنا تھا تب ہمارے پاس پانی کا کتنا ذخیرہ تھا اور آج کتنا ہے اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں، آزادی کے بعد ہر پاکستانی کے پاس گویا پینے لائق پانی کی پانچ بالٹیاں تھیں، جو کم ہوتے ہوتے آج ایک بالٹی رہ گیا ہے لیکن اس سے بھی خطرناک صورتحال تو یہ ہے کہ اگر ہم مستقبل میں زندہ رہے یا ہماری آئندہ نسلوں کے لیے یہ بالٹی بھی کم ہو کر صرف ایک گلاس رہ جائے گی۔ یعنی جیسے آج ہم لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر پیٹرول وغیرہ ڈلواتے ہیں اللہ نہ کرے ایک ایسا دن آ سکتا ہے کہ پینے لائق پانی خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہوں گی اور ایسا بھی ہو سکتا ہے سونے Gold کی طرح اس کی قیمت اتنی زیادہ ہو کہ بہت سارے لوگ خرید ہی نہ پائیں۔
پھر سر بلال نے 2026 کے سامنے بنائی ہوئی بالٹی کے نیچےپانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے بنانا شروع کر دیئے اور ساتھ کہنے لگے: تو بچوجیسے مٹھی سے ریت پھسلتی ہے ناں ویسے ہی ہمارے ہاتھ سے پانی بھی نکلتا جا رہا ہے، ہاں ہم چاہیں تو اسے روک سکتے ہیں۔
وہ کیسے سر؟ کلاس مانیٹر معاویہ نے جلدی سے پوچھا۔
اگر ہم پانی سمجھداری سے استعمال کرنا شروع کر دیں جیسے برش کرتے، چہرے وغیرہ پر صابن لگاتے وقت پانی کا نل بند کرنا شروع کر دیں، گلاس جگ وغیرہ میں بچا ہوا پانی نہ پھینکیں، صحن، موٹر بائیک، گاڑی دھوتے ہوئے پانی ضرورت کے مطابق ہی استعمال کریں نہ کہ پائپ لگا کر نل کھلا چھوڑ دیں۔
یاد رکھیں بچو!پانی اللہ کی بہت پیاری نعمت ہے اور جب کوئی قوم نعمت کی قدر نہیں کرتی تو وہ نعمت اس سے چھینی بھی جا سکتی ہے، اور ایسا نہ ہو کہ ماضی کی طرح مستقبل Future میں بھی پانی پر جنگیں ہونے لگیں، آج وعدہ کریں کہ قطرے قطرے کی حفاظت کریں گےہم اپنی خاطر آئندوں نسلوں کی خاطر!!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی
Comments