صحت کا خزانہ
سردیاں رُخصت ہو چکی تھیں لیکن موسم ایسا تھا کہ جیسے ابھی گرمیاں باقاعدہ شروع نہیں ہوئیں، یعنی ٹھنڈا میٹھا موسم جس میں دوپہر کے وقت تو زائد کپڑے جسم پر بوجھ محسوس ہونے لگتے لیکن صبح اور شام کے وقت ان کے پہنے بنا گزارا بھی نہیں تھا۔ موسم کی ہلکی پھلکی تبدیلی کے ساتھ ساتھ شاید بریک میں بھاگ دوڑ کا اثر بھی تھا کہ بچّوں نے کلاس روم میں ہلکی رفتار میں پنکھا چلایا ہوا تھا اور اپنی اپنی کرسیوں پر تھکے تھکے سے بیٹھے تھے۔ سر بلال حسبِ عادت مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوئے اور سلام و دُعا کے بعد وائٹ بورڈ کی طرف بڑھتے ہوئے آج کے سبق کا عنوان لکھا: روزے کی اہمیّت (ہماری صحّت مند زندگی کے لیے)۔
دراصل رمضانُ المبارَک کی آمد کی وجہ سے پرنسپل صاحب نے پیریڈ کا شیڈول عارضی طور پر تبدیل کیا تھا اسی لیے اب سر بلال کا لیکچر بریک کے فوراً بعد ہوتا تھا۔
بچّو! کل میں نَمازِ عصر اَدا کرنے کے بعد وہیں مسجد میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ رمضانِ کریم شروع ہوتے ہی اچانک ہم مسلمانوں میں کیسی بڑی تبدیلی آ جاتی ہے۔
سارا سال مسجدوں میں دوسری صف بھی بھر نہیں پاتی، لیکن رمضان میں ہال سے لے کر مسجدوں کے صحن تک بھر جاتے ہیں۔
سارا سال بُز ُرگ ہی سر ڈھانپے دکھائی دیتےہیں لیکن اس ماہ میں نوجوان لڑکے بھی سروں پر ٹوپیاں اور بعض عمامے سجائے ہاتھوں میں تسبیح پکڑے نظر آتے ہیں۔
پہلے تو اِدھر امام صاحب نے سلام پھیرا اُدھر ہم باہری دروازے کی طرف لپکے لیکن اس ماہ میں نَمازوں کے بعد وہیں بیٹھے تلاوت میں مصروف ہو جاتے ہیں، بےشک یہ سب اللہ پاک کی رَحمت کے ساتھ ساتھ رمضانُ المبارَک کا فیضان ہے۔
سر آج کے سبق میں ہم کیا سیکھنے جا رہے ہیں؟ سر بلال اپنی گفتگو مکمل کر چکے تو معاویہ نے جلدی سے پوچھا کیونکہ اسے عنوان بہت دلچسپ لگ رہا تھا۔
جی جی بیٹا لیکن پہلے چھوٹی سی ایکٹیویٹی کر لیتے ہیں تاکہ کچھ دہرائی بھی ہو جائے اور آپ لوگوں کی تھکاوٹ بھی دُور ہو جائے تو ذرا مجھے بتائیے کہ ہمیں روزہ کیوں رکھنا چاہیے؟
اُسید رضا: روزہ رکھنے سے اللہ پاک راضی ہوتاہے،
ثوبان: روزہ گُناہوں سے بچاتا ہے،
صائم: روزے سے بھوکوں اور ضَرورت مندوں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
انس رضا: روزہ گُناہوں کی مُعافی کا سبب ہے۔
سربلال کی اجازت ملنے پر بچّوں نے باری باری روزے کی اہمیّت کے متعلّق ساری باتیں سنادیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً سربلال سے ہی سیکھی تھیں جنہیں سن کر سر بلال بھی خوش تھے کہ بچّے نہ صرف توجّہ سے سنتے ہیں بلکہ یاد بھی رکھتے ہیں۔
اُسید رضا نے ہاتھ اٹھایا: لیکن سر، کیا روزہ رکھنے سے ہماری صحّت پر بھی اثر پڑتا ہے؟ معاویہ کی طرح اُسید رضا کا ذہن بھی آج کے عنوان کے گرد گھوم رہا تھا۔
سر بلال نے جواب دیا: جی بالکل اُسید بیٹا! آپ نے دیکھا ہوگا ہمارے گھروں میں جو گاڑی یا موٹر سائیکل ہوتی ہے کچھ مہینوں کے وقفے سے ہمارے پاپا یا بڑے بھائی اسے ورکشاپ پر لے جاتے ہیں جہاں اس کی ٹیوننگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی بہترہو جاتی ہے اسی طرح روزے میں بھوکا پیاسا رہنا ہمارے جسمانی نِظام کو بہتر کرتا ہے۔ سال کے گیارہ مہینوں میں جسم کے اندرموجود مختلف خلیوں (Cells) میں فاسد مادے پیدا ہوجاتے ہیں، روزے کی بَرَکت سے یہ فاسد مادے نکل جاتے ہیں اور خلیے اپنے آپ کو مَرمّت (Repair) کر لیتے ہیں۔
سرمیرے پاپا بتا رہے تھے کہ روزہ دل کی بیماری کے ساتھ ساتھ شوگر کے مریض کے لیے بھی بہت مفید ہے، سر بلال کی گفتگو میں وقفہ آیا تو ثوبان رضا نے ہاتھ کھڑا کر دیا تھا اور اجازت ملنے پر کہا۔
سر بلال:بالکل بیٹا ایسا ہی ہے بلکہ اس کے علاوہ بلڈ پریشر اور جگر کی بیماری کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اور آپ سب کو ایک اَہَم بات بتاؤں بچّو! سائنس تو ان سب فوائد تک آج پہنچی ہے ناں لیکن ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا صُوْمُوْا تَصِحُّوْا یعنی روزہ رکھو صحّت مند ہوجاؤ گے۔ (معجمِ اوسط ، 6 / 146 ، حديث : 8312) تو بچّو روزے کے اتنے سارے فائدےجان کر آپ خوش تو ہوئے ہوں گے مگر یاد رکھئے! ہمیں ہر نیک اور اچّھا کام اللہ پاک کی خاطر کرنا چاہیے باقی رہے دنیاوی فائدے تو وہ اللہ چاہے گا تو مل ہی جائیں گے۔
دو جہاں کی نعمتیں ملتی ہیں روزہ دار کو
جو نہیں رکھتا ہے روزہ وہ بڑا نادان ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی
Comments