مطالعہ تفسیر کی ضرورت و اہمیت


مطالعۂ تفسیر کی ضرورت و اہمیت


اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   پر قراٰنِ مجید کو نازل فرمایا تا کہ آپ   علیہ السّلام   اس کے ذریعے لوگوں کو اللہ پاک کے احکامات بتائیں۔ یاد رہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص قراٰنِ کریم کو سمجھنے کے لیے عربی سیکھ لے اور قراٰن کو سمجھنے کا دعویٰ کرے بلکہ اس کے لیے قراٰن کی تفسیر کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے بلکہ جن کی زبان ہی عربی ہے انہیں بھی بغیر تفسیر پڑھے قراٰن کے درست معانی اور اس کی باریکیاں سمجھنا بہت ہی زیادہ مشکل ہے کیونکہ قراٰنِ پاک اپنے دامن میں کئی علوم کو لیے ہوئے ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو علم حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو اسے چاہیے قراٰن میں خوب غور وخوض کرے کیونکہ قراٰنِ پاک میں اگلوں پچھلوں کا علم موجود ہے۔(شعب الایمان ، 2332، حدیث: 1960 )

امام جلال الدین سیوطی شافعی  رحمۃُ اللہ علیہ  تفسیر کی ضرورت واہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جس زمانے میں قراٰن نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے بڑے بڑے ماہرین موجود تھے وہ اس کے ظاہر اور اسکے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و فکر کرنے اور نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں جیسے جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی۔

(پ7، الانعام: 82)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 توصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمت میں عرض کی: ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا :اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔(دیکھیے:الاتقان ، 2/1192، 1193 )

تو ہم تو اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لغت ( Language )کے اسرار و رموز اور اسکے مراتب معلوم نہیں ہو سکتے۔

تفسیرِ قراٰن کے مطالعے کے سات فوائد

(1) ناسخ و منسوخ کی پہچان:

یعنی کس حکم پر اب بھی عمل ہے اور کس حکم پر عمل منسوخ ہو چکا ہے۔

(2) غلط فہمیوں سے بچاؤ:

صرف ترجمہ پڑھنے سے بندہ غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے جبکہ تفسیر کے مطالعے سے ان غلط فہمیوں سے بچا جاسکتا ہے۔

(3) درست معنیٰ ومفہوم کی پہچان:

ایک لفظ جو قراٰنِ پاک میں کئی جگہ استعمال ہوا تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہو گا کہ کس جگہ وہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔

(4) کسی بھی عقیدے یا حکم کی تفصیل:

قراٰنِ کریم میں کئی احکام مثلاً نماز روزہ وغیرہ مجملاً بیان ہوئے جن کی تفصیل تفسیر سے معلوم ہو گی۔

(5) شانِ نزول کا علم:

کونسی آیت کس موقع پر نازل ہوئی اس کا ادراک بھی تفسیر کے مطالعے سے ہو گا۔

(6) اُمتوں کے احوال کی تفصیل:

قراٰنِ پاک میں کئی امتوں کا ذکر اجمالاً آیا ہے جن کی تفصیل تفسیر کے مطالعے سے پتا چلے گی۔

(7) انبیاِئے کرام کی سیرت:

 قراٰنِ پاک میں کئی انبیا کا ذکر ہے ان انبیائے کرام کی سیرت تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہو گی۔

ان فوائد سے بھی پتا چلتا ہے کہ تفسیرِ قراٰن کے مطالعے کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور مذکورہ فوائد اور ان کے علاوہ اور بہت سارے فوائد حاصل کرنے کے لیے قراٰنِ کریم کی تفسیر کا مطالعہ کرنا چاہیے جبکہ کئی لوگ صرف قراٰن کا ترجمہ پڑھ کر تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ دورِ حاضر میں اُردو زبان میں آسان اور عام فہم تفسیر، تفسیر خزائن العرفان اور تفسیرِ صراط الجنان کا مطالعہ مفید رہے گا۔

اللہ پاک ہمیں تفسیرِ قراٰن کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین


Share