اعتکاف کی روحانیت میں روکاٹیں اور ان کا حل

فیضان رمضان

اعتکاف کی روحانیت میں رکاوٹیں اور ان کا حل

*مولانا ابوالنور راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2026ء


اللہ پاک نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کی سنتِ مبارکہ کو امتِ محمدیہ کے لیے خاص تحفہ بنایا ہے۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جب بندہ دنیا کی ہر مصروفیت سے الگ ہو کر اپنے ربِّ کریم کے گھر میں قیام کرتا ہے، اس کی رضا کی تلاش میں راتیں گزارتا ہے اور اپنے گناہوں سے توبہ کر کے نیا انسان بن کر نکلتا ہے۔ اعتکاف محض مسجد میں بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ روحانی تربیت  کا ایک عملی مرحلہ ہے، یہ نفس کی اصلاح کا ذریعہ ہے اور یہ اللہ پاک سے تعلق مضبوط کرنے کا سنہری موقع ہے۔

حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ہر سال اعتکاف فرمایا اور اس کی فضیلت و عظمت کو واضح فرمایا۔ صحابۂ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  اعتکاف کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ سارا سال اس کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جن میں شب قدر کی تلاش کی جاتی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

اعتکاف کے  مقاصد

(1)اعتکاف کا ایک مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے خالقِ حقیقی سے اپنا ٹوٹا ہوا تعلق دوبارہ مضبوط کرے۔ سارا سال ہم دنیا کی بھاگ دوڑ میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ اللہ پاک کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نماز بھی ادا کرتے ہیں تو دل کہیں اور لگا ہوتا ہے۔ قراٰن پاک کی تلاوت بھی کرتے ہیں تو صرف زبان حرکت کر رہی ہوتی ہے، دل اس میں کم ہی  شامل ہوتا ہے۔

(2)اعتکاف میں جب بندہ دس دن کے لیے دنیا سے کٹ جاتا ہے تو اسے اپنے رب کو پکارنے  کا موقع ملتا ہے۔ تہجد کی نماز میں اللہ پاک کے حضور گریہ و زاری کا موقع ملتا ہے۔ قراٰن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے معانی پر غور کرنے کا وقت ملتا ہے۔ ذکر و اذکار میں مشغول ہو کر دل کو پاکیزگی ملتی ہے۔

(3)اعتکاف نفس کی تربیت کا سنہری موقع ہے۔ جب انسان دس دن کے لیے دنیاوی آسائشوں سے دور ہو جاتا ہے، آرام دہ بستر چھوڑ کر مسجد کے فرش پر سونے لگتا ہے،  سادہ کھانے پر قناعت کرتا ہے تو اس کا نفس تربیت پاتا ہے۔ نفس کو سمجھ آجاتی ہے کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور یہ دنیا تو چند روزہ ہے۔

(4)اعتکاف میں بندہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا سیکھتا ہے۔ فضول باتوں سے بچنا سیکھتا ہے۔ غیبت، چغلی، جھوٹ اور زبان کے دیگر گناہوں سے محفوظ رہنے کی مشق کرتا ہے۔ آنکھوں کو نامحرم سے بچانے کی عادت پڑتی ہے۔ یہ دس دن نفس کی ایسی تربیت کے ہیں کہ اگر صحیح طریقے سے گزارے جائیں تو انسان نیا انسان بن کر نکلتا ہے۔

(5)رمضان المبارک گناہوں کی معافی کا مہینا بھی ہے اور اعتکاف اس معافی کو حاصل کرنے کا خاص ذریعہ ہے۔ جب بندہ مسجد میں بیٹھ کر اپنے گناہوں کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی غلطیوں کو یاد کرتا ہے اور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ پاک اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

(6)اعتکاف میں انسان کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا جائزہ لے۔ دیکھے کہ کن کن گناہوں میں مبتلا رہا ہے۔ کن لوگوں کے حقوق غصب کیے ہیں۔ کن سے معافی مانگنی ہے۔ اور آئندہ کی زندگی کو کیسے بہتر بنانا ہے۔ یہ خلوت نشینی اور تنہائی انسان کو اپنی اصلاح کا موقع فراہم کرتی ہے۔

(7)اعتکاف کا ایک اہم مقصد شبِ قدر کی تلاش ہے۔ یہ وہ رات ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا کہ اس رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری، 1 / 661، حدیث:  2018)

افسوسناک حقیقت: مقاصد کا حصول کیوں نہیں ہوتا؟

افسوس کہ آج بہت سے لوگ اعتکاف تو کرتے ہیں لیکن اعتکاف کے اصل مقاصد حاصل نہیں کر پاتے۔ دس دن مسجد میں گزار دیتے ہیں لیکن دل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ زندگی میں کوئی اصلاح نہیں ہوتی۔ اعتکاف سے پہلے جیسے تھے اعتکاف کے بعد بھی ویسے ہی رہتے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں؟ آئیے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں:

موبائل فون کا بے دریغ استعمال:

آج کے دور کی سب سے بڑی آفت موبائل فون  کا بے ضرورت  و بلا جواز استعمال ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس نے انسان کو اللہ پاک سے دور کر دیا ہے۔ اعتکاف میں بھی اکثر لوگ اپنا موبائل ساتھ رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اسے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ کوئی ہر تھوڑی دیر بعد واٹس ایپ چیک کر رہا ہے۔ کوئی فیس بک اسکرول کر رہا ہے۔ کوئی یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ رہا ہے۔

موبائل فون کی وجہ سے اعتکاف کے قیمتی لمحات ضائع ہو جاتے ہیں۔ جو وقت قراٰن پاک کی تلاوت میں گزرنا چاہیے وہ موبائل پر فضول باتیں کرنے میں گزر جاتا ہے۔ جو وقت ذکر و اذکار میں گزرنا چاہیے وہ سوشل میڈیا پر ضائع ہو جاتا ہے۔

دوستوں سے خوش گپیاں اور فضول باتیں:

اعتکاف میں کئی لوگ ملاقات کے لیے آنے والے اپنے دوستوں یا رشتے داروں کے ساتھ گروپ بنا کر بیٹھتے ہیں۔ اور پھر سارا وقت فضول باتوں میں گزر جاتا ہے۔ دنیا بھر کی باتیں، سیاست کی باتیں، کاروبار کی باتیں، کرکٹ کی باتیں۔ جیسے کوئی پارٹی میں بیٹھے ہیں۔یہ ملاقاتیں معتکف کے قیمتی وقت کو ضائع کرتی ہیں اور اس کی توجہ عبادت سے ہٹا دیتی ہیں۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اعتکاف میں ہر بات کا حساب ہو گا۔ مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا گناہ ہے۔ اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  نقل فرماتے ہیں کہ جو مسجد میں دنیا کی بات کرے، اللہ پاک اس کے 40 برس کے عمل اکارت فرما دے۔(فتاویٰ رضویہ، 16 / 311)

کھانوں کی فکر اور منصوبے:

بعض لوگوں کی پوری توجہ کھانوں پر رہتی ہے۔ سحری میں کیا کھایا جائے، افطار میں کیا کھایا جائے۔ دوست باہر سے کباب سموسے لے آتے ہیں تو کھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ گویا اعتکاف میں آنے کا مقصد ہی کھانا پینا ہے۔ اعتکاف میں تو کھانے کی طرف کم توجہ دینی چاہیے۔ جو کچھ مل جائے اسی پر قناعت کرنی چاہیے۔ نفس کو تربیت دینی چاہیے کہ دنیا کی لذتوں کی ضرورت نہیں۔

گھر والوں سے رابطے اور مطالبے:

بعض لوگ اعتکاف میں تو بیٹھے ہوتے ہیں لیکن گھر والوں سے ہر وقت غیر ضروری رابطے میں رہتے ہیں۔ دن میں کئی بار فون کرتے ہیں۔ گھر کے معاملات میں ہدایات دیتے رہتے ہیں۔ اہلِ خانہ کو کام بتاتے رہتے ہیں۔ بعض تو گھر والوں سے مطالبے بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ چیز لے آؤ، وہ چیز لے آؤ۔ فلاں کھانا بھجوا دو، فلاں کپڑے بھجوا دو۔  اعتکاف میں بیٹھے ہیں لیکن ذہن پوری طرح گھر میں لگا ہوا ہے۔اعتکاف کا مقصد ہی یہ ہے کہ دنیاوی معاملات سے الگ ہو جائیں اور صرف اللہ پاک کی طرف متوجہ ہوں۔ لیکن جب گھر والوں سے غیر ضروری رابطے میں رہیں گے تو یہ مقصد کیسے حاصل ہو گا؟

نیند اور سستی کا غلبہ:

بعض لوگ اعتکاف میں سارا دن بھی سوتے رہتے ہیں۔ رات کو تہجد کے وقت بھی نہیں اٹھتے۔ نماز کے بعد فوراً سو جاتے ہیں۔ گویا اعتکاف ان کے لیے آرام اور نیند کا موقع بن گیا ہے۔یہ اعتکاف کے مقصد کے بالکل خلاف ہے۔ اعتکاف میں تو رات کو زیادہ عبادت کرنی چاہیے اور دن میں بھی عبادت، ذکر، تلاوت میں مصروف رہنا چاہیے۔ ضرورت کے مطابق نیند لی جا سکتی ہے لیکن زیادہ تر وقت عبادت میں گزرنا چاہیے۔

اعتکاف کے رُوحانی فوائد کیسے حاصل کریں؟

اب سوال یہ ہے کہ ان رکاوٹوں کو کیسے دور کریں اور اعتکاف کے حقیقی فوائد کیسے حاصل کریں؟ آئیے عملی تجاویز پر نظر ڈالتے ہیں:

*اعتکاف میں داخل ہوتے وقت یہ عہد کر لیں کہ دس دن موبائل استعمال نہیں کریں گے۔ اگر کسی انتہائی ضروری بات کے لیے گھر والوں سے رابطہ کرنا ضروری ہو تو کرلیں لیکن صرف ضرورت کی حد تک ہی کریں۔

*اعتکاف میں دوستوں کے گروپ سے الگ رہیں۔ فضول باتوں سے پرہیز کریں۔ جب بھی بات کرنی ہو تو ضرورت کی بات کریں اور وہ بھی آہستہ آواز میں۔

*اعتکاف سے پہلے ایک ہدف بنا لیں کہ دس دن میں کیا کرنا ہے۔ کتنی بار قراٰن ختم کرنا ہے؟ کون کون سی دعائیں یاد کرنی ہیں؟ کون سی کتاب پڑھنی ہے؟  کتنے نوافل  پڑھنے ہیں؟

*یہ ہدف لکھ لیں اور ہر روز اس پر عمل کریں۔ رات کو سونے سے پہلے دیکھیں کہ آج کا منصوبہ کتنا پورا ہوا۔ کل کیا کرنا ہے۔ اس طرح وقت کا صحیح استعمال ہو گا اور برکت نصیب ہو گی۔

*دعوتِ اسلامی کے اعتکاف میں جو بھی مدنی مذاکرہ، درس یا بیان ہو اس میں ضرور شرکت کریں۔ بلکہ پہلی صف میں بیٹھ کر توجہ سے سنیں۔ نوٹس بنائیں۔ جو باتیں سمجھ میں نہ آئیں بعد میں پوچھ لیں۔

*اعتکاف کی برکت رات کی عبادت میں بھی ہے۔ خاص طور پر تہجد کی نماز کا بہت زیادہ اہتمام کریں۔ ہر رات تہجد کے لیے ضرور اٹھیں۔  قراٰن پاک کی تلاوت کریں۔ دعائیں مانگیں۔

*آخری عشرے کی طاق راتوں میں تو پوری رات جاگیں۔ یہ سمجھ کر عبادت کریں کہ شاید یہی شبِ قدر ہو۔ اگر واقعی شبِ قدر مل گئی تو پوری زندگی کامیاب ہو جائے گی۔

*اعتکاف میں یہ بھی سوچیں کہ اعتکاف کے بعد کی زندگی کیسے گزارنی ہے۔ اپنے اخلاق کیسے بہتر بنانے ہیں۔  یہ سب لکھ لیں اور عہد کریں کہ اعتکاف کے بعد اس پر عمل کریں گے۔

پیارے اسلامی بھائیو! اعتکاف محض مسجد میں بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ روحانی تربیت  کا ایک مکمل اور جامع نظام ہے، اور دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں اسی جامع تربیت کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مبارک اعتکاف میں باقاعدہ جدولِ وقت کے مطابق تہجد کے لیے بیداری کا اہتمام ہوتا ہے، نمازوں میں سنتوں اور نوافل کی پابندی کا ذہن دیا جاتا ہے، تلاوتِ قراٰنِ پاک کی تعلیم دی جاتی ہے، نماز، طہارت، روزہ اور دیگر ضروری شرعی مسائل کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے، اخلاقیات اور دیگر کئی اہم اسلامی پہلوؤں پر  بیانات اور مدنی حلقے منعقد ہوتے ہیں، اور خاص طور پر روزانہ بعدِ عصر اور بعدِ تراویح شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا مدنی مذاکرہ ہوتا ہے جس میں مختلف دینی سوالات کے شافی جوابات ملتے ہیں۔ لہٰذا آپ بھی دعوتِ اسلامی کے اجتماعی اعتکاف میں شرکت کریں اور اپنی دینی و روحانی زندگی کو سنوارنے کا یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔اللہ پاک ہم سب کو اعتکاف کی صحیح معنوں میں سعادت نصیب فرمائے اور ہمیں اس کے تمام فوائد و برکات سے مالامال فرمائے۔ آمین!

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share