صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

اپنے بزرگوں کو یاد رکھئے

رَمَضانُ المُبارَک اسلامی سال کا نواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے118کا مختصر ذِکْر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ رَمَضانُ المبارَک 1438ھ تا 1446ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے، مزید12کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان

(1)حضرت عَوف، حضرت مُعَوِّذ اور حضرت مُعاذ بن حارث خَزْرَجی انصاری رضی اللہ عنہم تینوں بھائی بنونجار سے تعلّق رکھتے تھے، اپنی والدہ کی نسبت سے اِبنِ عَفْراء سے معروف تھے۔ 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو ہونے والے غزوۂ بدر میں حضرت عَوف رضی اللہ عنہ نے اللہ پاک کی پسندیدہ حالت کے مطابق زِرہ اُتار کر، ننگے سر ہوکر بہادری کے ساتھ جہاد کیا اور شہید ہوگئے۔ ([1])

(2)حضرت مُعَوِّذ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں اپنے بھائی حضرت مُعاذ کے ساتھ مل کر دشمنِ اسلام ابوجہل پر اس تیزی سے حملہ کیا کہ اس کا کام تمام ہوگیا۔ اس کے بعد یہ بھی بےجگری سے لڑتے ہوئے درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے۔([2])

(3)حضرت یزید بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر کے موقع پر ہاتھ میں موجود کھجوروں کو پھینکا اور جہاد میں شریک ہوئے اور لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرماگئے۔([3])

اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام

(4)حضرت شیخ  عبدُاللہ رضا ثانی حسنی  رحمۃُ اللہ علیہ  کثرتِ عبادت، زُہد اور تنہائی میں مشہور تھے، آپ عالم، صالح، شاعر اور راوی حدیث تھے، نیکی کی دعوت بہت دیا کرتے تھے، آپ کی پیدائش بصرہ میں 150ھ کے بعد ہوئی اور 15رمضان 247ھ کو مکّہ مکرّمہ میں وصال فرمایا۔([4])

(5)حضرت باوا میراں شاہ سیّد احمد محمدی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش بیجاپور، ریاست کرناٹک، ہند میں ہوئی، دہلی میں اسلامی علوم و فنون میں مہارت حاصل کرکے دورِ جہانگیری میں قاضی القضاۃ مقرّر ہوئے، کچھ عرصہ بعد سجدۂ تعظیمی سے انکار کر کے اجمیر شریف، بغداد شریف اور مدینہ شریف میں مجاہدات میں مصروف ہوئے، مستقل قیام بھیرہ شریف ضلع سرگودھا میں فرمایا، وصال18رمضان1092ھ کو فرمایا، مزار مرجع خلائق ہے۔([5])

(6)بھورے میاں خواجہ کمالُ الدّین خان مجددی رامپوری  رحمۃُ اللہ علیہ  مشہور ولیُّ اللہ حضرت شاہ درگاہی مجددی رامپوری کے مرید و خلیفہ تھے۔ دن رات ذکر و فکر میں رہتے۔ آپ کا وصال 4رمضان 1284ھ کو ہوا۔ محلّہ پل پختہ رامپور میں تدفین کی گئی۔ کچھ عرصے بعد گنبد دار مزار تعمیر ہوا۔([6])

(7)حضرت خواجہ شاہ محمد امام علی  چشتی قادری  رحمۃُ اللہ علیہ  کی ولادت خاندان  سلطانُ التارکین صوفی حمیدُالدّین ناگوری میں ہوئی اور وصال 10رمضان1282ھ کو ہوا ، مزار جھنجھنو  (Jhunjhunu)، راجستھان ہند میں ہے۔ آپ خواجہ عبدُاللہ غلام بھیک کوڑہائی چشتی کے مرید و خلیفہ اور خواجہ عبدالغفور اخوند قادری کے خلیفہ، کثیر الفیض تھے۔([7])

(8)روحانی بُز ُرگ خواجہ پیر سائیں محمد رکنُ الدّین نقشبندی قادری  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش کم و بیش 1930ء کشمیر کے مذہبی گھرانے میں ہوئی، کچھ عرصہ ملازمت کی پھر ذکر و فکر اور مجاہدات میں مصروف ہوئے، پیر سیّد حیدر شاہ قلندر پاک شریف ضلع کوٹلی سے بیعت و خلافت پائی، انہو ں نے جو مساجد و مدارس قائم کئے ان کی تعداد34 ہے۔وصال 11رمضان 1421ھ کو وصال فرمایا۔مزار رُکن آباد شریف، سیکٹر ایف ون،میرپور کشمیر میں ہے۔([8])

علمائے اسلام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام

(9)شیخ الحنفیہ،حضرت امام ابو عبدُاللہ محمد بن احمد کبیر بخاری حنفی  رحمۃُ اللہ علیہ  ماوراءُ النَّہر کے رہنے والے تھے،انہوں نے اپنے والدِگرامی علّامہ ابوحَفص کبیر سے تعلیم حاصل کی اور عالم ماوراءُ النہر کے درجے پر فائز ہوئے، آپ ثقہ عالمِ دین و امام، زہد و تقویٰ کے جامع اور قراٰن و سنّت کے پابند تھے، علما کی ایک تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔ آپ کا وصال رمضان 264ھ میں ہوا۔([9])

(10)حضرت امام عبیدُاللہ بن یحییٰ لیثی مالکی اُندلسی  رحمۃُ اللہ علیہ  کی پیدائش اُندلس کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی، والد گرامی سے عُلوم اسلامی حاصل کئے، والد صاحب کی وفات کے بعد حرمینِ طیبین اور مِصر کا سَفَر کیا اور وہاں کے علما سے استفادہ کیا، واپس آکر مسند تدریس پر فائز ہوئے،کثیر علما نے استفادہ کیا، آپ جیّد عالمِ اُندلسی، فقیہ مالکی، مسند قرطبہ، ذہین و فطین، جود و سخاوت کے مالک، کثیر الصدقات و احسانات، صاحب ثروت و وقار اور مرجعِ خاص و عام تھے، رمضان 298ھ کو وصال فرمایا۔([10])

(11)شیخ ابوالعباس محمد بن احمد بن محبوب محبوبی مروزی  رحمۃُ اللہ علیہ  نے ابتدائی تعلیم و تربیَت مقامی علما سے حاصل کی، علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے بعد 265ھ میں آپ تِرمذ (صوبہ سرخان دریا، ازبکستان) تشریف لے گئے وہاں حضرت امام ترمذی کی صحبت میں رہ کر جامع ترمذی کی سماعت کرکے اجازت حاصل کی، آپ عالم فاضل، محدّث، مسند اور شیخ البلد تھے۔ آپ کا وصال رمضان346ھ میں ہوا۔([11])

(12)شیخُ القرّاء حضرت علّامہ امام ابو داؤد سلیمان بن ابوقاسم نَجاح اُمَوی  رحمۃُ اللہ علیہ  کے والد اندلس کے حاکم مؤید باللہ ہشام ثانی بن حکم کے آزاد کردہ غلام تھے،آپ کی پیدائش 413ھ میں قرطبہ میں ہوئی، پھر آپ دانِیَہ اور بَلَنْسِیَہ منتقل ہو گئے، یہاں کے جیّد علما سے علم حاصل کر کے آپ اپنے وقت کے شیخ و امامُ القرّاء اور مفسّر قراٰن بن گئے، نیکی، دین، علم اور بُزرگی میں آپ کا مرتبہ بہت بلند تھا، آپ کا وصال 16رمضان 496ھ میں ہوا۔([12])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)



([1])الاصابہ، 4/614

([2])الاصابہ، 4/614-6/152

([3])الاصابہ، 6/511

([4])اتحاف الاکابر، ص157، ویکیپیڈیا،مضمون: عبد الله الرضا بن موسى الجون

([5])کتبہ مزار،نوائے وقت،2،اپریل 2021ء

([6])تذکرہ کاملان رامپور، ص86، 87

([7])تذکرۃ الانساب، ص79

([8])روزنامہ جموں و کشمیر، مظفرآباد، اتوار، 14مئی2023ء

([9])سیراعلام النبلاء،8/458-10/415، 416

([10])سیر اعلام النبلاء، 11/72 -الوافی بالوفیات، 19/277

([11])سیر اعلام النبلاء، 12/160-العبر فی خبر من غبر، 2/74- الوافی بالوفيات، 2/31

([12])سیراعلام النبلاء، 14/216-اعلام للزرکلی، 3/137- غایۃ النہایۃ، 1/287-معرفۃ القراء، 2/862، رقم:572


Share