ازواجِ مطہرات اور رمضان المبارک
رمضان المبارک کا مہینا مسلمانوں کے لیے بہت اہم ہے جس میں وہ عبادت، پرہیزگاری اور نیکی میں معمول سے بڑھ کر کوشش کرتے ہیں۔ خصوصاً خواتین کا گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ فرائض و نوافل کی ادائیگی کا بھرپور اہتمام قابلِ تحسین ہے۔ اگر بیتِ نبوی کی بات کی جائے تو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے گھر میں رمضان کا استقبال، عبادات کا اہتمام اور اس کی ساعتوں کا بھرپور استعمال ایک خاص شان رکھتا تھا۔ ازواجِ مطہرات کا ذوقِ عبادت، علمی جستجو اور خیر کے کاموں میں سبقت بالخصوص خواتینِ امت کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
ازواجِ مطہرات کی علمی و فقہی تربیت
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علم و فقہ کے بلند مقام پر تھیں، آپ نے رمضان کی عظیم رات لیلۃالقدر کے بارے میں براہِ راست نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے رہنمائی طلب کی جو رمضان کے لمحات کو انمول بنانے کی شدید خواہش کا ثبوت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یارسول اللہ! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃالقدر ہے تو میں کیا دعا کروں؟ فرمایا: یہ دعا: اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔ ([1]) اس حدیث میں دعا کی تعلیم بھی ہے اور گھرانہ نبوت میں علمی مذاکرات کا ثبوت بھی۔
اسی طرح روزے کے اوقات کی وضاحت میں بھی ازواجِ مطہرات کا اہم کردار ہے، جیساکہ وقتِ سحر کی حد بندی سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان كرده روايت كے مطابق سحری کا اختتامی وقت طلوعِ فجر تک ہے۔([2])
اس تربیتِ نبوی میں ہمارے لیے تعلیم ہے کہ اپنے ساتھ اہلِ خانہ کو بھی عبادات و دینی تعلیمات سے وابستہ رکھیں۔
خیر کے کاموں میں ترغیب اور عبادت کے لیے بیداری
اچھے سربراہِ خانہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو غفلت میں نہ پڑنے دے بلکہ نیکی پر آمادہ کرے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رمضان کے آخری عشرے میں اس کا خاص اہتمام فرماتے؛ خود مشغولِ عبادت رہتے اور اپنی ازواج کو بھی بیدار کرتے۔([3])یقیناً اس سے اہلِ خانہ کے لیے فکرمندی ظاہر ہوتی ہے۔ جیساکہ حضرت عائشہ نےرمضان کے آخری عشرے میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شب بیداری و کمربستگی،اہلِ خانہ کو جگانے اور لیلۃالقدر کی تلاش کی ترغیب کو روایت کیا ہے۔([4])جس سے واضح ہے کہ ازدواجی، معاشرتی اور تبلیغی عظیم ذمہ داریوں کے باوجود آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اہلِ خانہ کی تعلیم و تربیت کو کبھی ثانوی حیثیت نہیں دی۔اس طرزِ نبوی کو اگر ”گھر والوں کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچانے والے“ حکمِ قراٰنی کا عملی نمونہ قرار دیا جائے تو بے جا نہیں۔
اعتکاف اور ازواجِ مطہرات کا ذوقِ عبادت
اعتکاف بندے کو دنیا سے لاتعلق کرکے بارگاہِ الٰہی سے مستقل وابستہ کرنے والی اہم عبادت ہے، حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دیکھا دیکھی ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف میں دلچسپی رکھتیں اور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اجازت طلب کرتیں، جیساکہ ایک بار حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اعتکاف کا ارادہ ظاہر فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لیے بھی اور اُمُّ المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر ان کے لیےبھی حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اعتکاف کی اجازت مانگی([5]) ایک روایت میں ہے کہ ان دونوں کی دیکھا دیکھی اُمُّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا نے بھی آخری عشرہ کے اعتکاف کے لیے اپنا خیمہ لگا لیا تھا([6])
اس سے ان پاک ہستیوں کے پاکیزہ جذبۂ عبادت اور قربِ الٰہی کے معاملات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی خواہش واضح ہے، اگرچہ کسی شرعی مصلحت کے تحت اس خاص موقع پر نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خیمے ہٹوا دیے تھے اور اس سال اعتکاف نہیں کیا تھا، لیکن ازواج کے جذبے کی حوصلہ افزائی فرمائی اور انہیں شرعی حدود سکھائیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد بھی ازواجِ مطہرات نےاعتکاف کا معمول جاری رکھا جیسا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے وصالِ ظاہری تک رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے، پھر ان کے بعد ان کی ازواج نے اعتکاف کیا۔([7])
اُمہاتُ المومنین کی رمضان المبارک کی ان مصروفیات کا جائزہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ ایک مثالی اسلامی گھرانہ وہ ہے جہاں رمضان المبارک کی سرگرمیاں روایتی سحری و افطاری تک محدود نہ ہوں بلکہ اللہ سے تعلق جوڑنے، علم حاصل کرنے اور ایک دوسرے کو نیکی کی ترغیب دینے کا بھرپور سلسلہ جاری رکھا جائے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لیلۃ القدر کی جو دعا سکھائی:”اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي “، یہ امت کے لیے ایک تحفہ ہے۔ یہ دعا سکھاتی ہے کہ عبادت کا حاصل عاجزی اور اللہ کی مغفرت کا طلبگار ہونا ہے۔
آج کی خواتین کے لیے ازواجِ مطہرات کاطرزِ عبادت بہترین نمونۂ عمل ہے۔ جس طرح انہوں نے گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود علمِ دین سیکھا، راتوں کو عبادت کے لیے قیام کیا، اور اعتکاف جیسی مشقت طلب عبادت کا شوق رکھا، اسی طرح آج بھی خواتین کو چاہیے کہ وہ رمضان کو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں کو ”بیتِ نبوی“ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں، جہاں قراٰن کی تلاوت ہو، شرعی مسائل کی تعلیم و تعلم ہو اور راتوں کو اٹھ کر اللہ کے حضور گڑگڑانے کا اہتمام ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments