مقروض پر نرمی کی نبوی تعلیمات
مقروض سے حسنِ سلوک اور نرمی کا معاملہ کرنا اسلامی تعلیمات کا ایک نمایاں حصہ ہے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس عمل کی نہ صرف ترغیب دی بلکہ اس کی فضیلت اور اجرِ عظیم کو بھی بیان فرمایا۔ یہ معاملہ دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملات میں آسانی کی امید کا ذریعہ بنتا ہے۔
(1) قیامت کی سختیوں سے نجات کا ذریعہ:
نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ تعلیم دی کہ تنگدست مقروض کو مہلت دینا قیامت کی بڑی مشکلات سے نجات کا سبب بنے گا، چنانچہ حضور علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهُ اَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ اَوْ يَضَعْ عَنْهُ یعنی جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے، تو اسے چاہیے کہ وہ تنگدست (مقروض) کو (ادائیگی میں) مہلت دے یا اُس کا (کچھ یا پورا) قرض معاف کر دے۔
( مسلم،ص650، حدیث: 4000)
(2) اللہ کی طرف سے مغفرت کا حکم:
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک نیک بندے کا حال بیان فرمایا جس کی مغفرت صرف اس وجہ سے ہوئی کہ وہ مقروض سے نرمی کرتا تھا۔اللہ پاک نے اس سے پوچھا تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ فَقَالَ: يَا رَبِّ، آتَيْتَنِي مَالَکَ فَكُنْتُ اُبَايِعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ، فَكُنْتُ اَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ، وَاُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللَّهُ: اَنَا اَحَقُّ بِذَا مِنْکَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِيیعنی بندے نے عرض کیا:اے میرے رب! تُو نے مجھے مال دیا تھا، میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور میری عادت آسانی کرنے کی تھی، میں مالدار پر آسانی کرتا اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں (درگزر کرنے میں) تجھ سے زیادہ حقدار ہوں۔ میرے بندے سے درگزر کرو۔
(مسلم، ص650، حدیث: 3996)
(3) تقاضے میں نرمی پر رحمت کی دعا:
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صرف قرض معاف کرنے والے کو ہی نہیں، بلکہ اپنا حق مانگتے وقت نرمی برتنے والے کے لیے بھی رحمت کی دعا فرمائی: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا اِذَا بَاعَ، وَاِذَا اشْتَرَى، وَاِذَا اقْتَضَى یعنی اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور (اپنا قرض یا حق) مانگتے وقت نرمی برتنے والا ہو۔
(بخاری، 2/12، حدیث: 2076)
(4) پریشانیاں دور اور دعائیں مقبول :
اللہ پاک کے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:مَنْ اَرَادَ اَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ، وَاَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ، فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ یعنی جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشانیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے۔
(مجمع الزوائد، 4/ 239 ، حدیث: 6664)
نبوی تعلیمات کے مطابق مقروض سے نرمی برتنا محض اخلاقی رویہ نہیں، بلکہ اجر و ثواب اور رحمتِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مالی معاملات میں سختی کے بجائے آسانی پیدا کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرے۔
اللہ پاک ہمیں احادیث طیبات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments