خوف خدا کی نبوی ترغیبات


خوف خدا کی نبوی ترغیبات

محمد فیضان علی عطاری

(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد)

خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر، جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ الله پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔(خوف خدا، ص14)

خوفِ خدا ایمان کی روح اور تقویٰ کی اصل ہے۔ یہ وہ باطنی کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی، اطاعت پر آمادہ کرتی اور الله پاک کے قُرب کی طرف لے جاتی ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی تعلیمات اور ارشادات کے ذریعے خوفِ خدا کی عظیم اہمیت سے آگاہ فرمایا اور اسے اُخروی نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسی مناسبت سے 4احادیث پڑھیے:

(1)خوفِ خدا اور عرش کا سایہ

قیامت کے دن جہاں ہر طرف نفسی نفسی کے عالم میں ہر کوئی پریشان ہوگا، وہاں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لیے خاص انعام ہوگا، حدیث میں 7ایسے افراد کا ذکر ہوا جنہیں عرش کا سایہ نصیب ہوگا جب اور کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں سے خوفِ خدا رکھنے والے کے متعلق رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: رَجُلٌ ذَكَرَ الله فِی خَلَاءِ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ یعنی ایسا شخص جس نے الله پاک کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے(اسے بھی بروز قیامت عرش کا سایہ ملے گا)۔(بخاری،4/337، حدیث: 6806)

(2)خوفِ خدا نجات کا ذریعہ

پیارے آقا جانِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خوفِ خدا کو بندے کی نجات کا قوی ذریعہ قرار دیا ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ خَافَ اَدْلَجَ، ومَنْ اَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ،اَلَا اِنَّ ‏سِلْعَةَ الله غَالِيَةٌ، اَلَا اِنَّ سِلْعَةَ الله الجَنَّةُ یعنی جسے خوف ہوتا ہے وہ اول وقت ہی میں سفر پر نکل پڑتا ہے اور جو اول وقت ہی میں سفر کا آغاز کر دیتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ سُن لو کہ الله کا سامان بڑی قیمت والا ہے، جان لو کہ الله کا سامان جنت ہے۔(ترمذی، 4/204، حدیث: 2458)

اس حدیث مبارکہ میں خوفِ خدا کو منزلِ مقصود (رضائے الٰہی اور جنت)  تک پہنچنے کا محرک بتایا گیا ہے۔ جو بندہ الله پاک سے ڈرتا ہے، وہ سستی و کاہلی کو ترک کر کے اول ہی سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے۔

(3)حکمت کی اصل

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حکمت کی اصل بیان کرتے ہوئے فرمایا:رَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ الله یعنی حکمت کی اصل الله پاک کا خوف ہے۔(شعب الایمان، 1/470، حدیث: 744)

(4)میرے بعد بھی ڈرتے رہنا

صحابۂ کرام کو خوفِ خدا کی تعلیم دیتے ہوئے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی الله پاک سے بہت ڈرتے رہنا۔(احیاء العلوم،4/198)

موجودہ دور میں خوفِ خدا کی ضرورت

فی زمانہ جہاں انسان ظاہری ترقی کے عروج پر جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف باطنی زوال کا بھی شکار ہے۔ گناہ کو معمولی سمجھا جانے لگا ہے اور الله پاک کی پکڑ کو فراموش کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں خوفِ خدا کو اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف خدا ہی وہ قوت ہے جو انسان کو بے راہ روی سے بچا کر سیدھی راہ پر قائم رکھتی ہے۔

ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین! جو بندہ الله پاک سے ڈرتا ہے، وہ دنیا میں بھی محفوظ رہتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل میں خوفِ خدا کو زندہ رکھے، کیونکہ یہی خوف اصلاحِ نفس، حسنِ عمل اور نجاتِ ابدی کی کنجی ہے۔

الله پاک ہمیں پیارے آقا جانِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خوفِ خدا کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share