ہڈیوں پر دستِ مصطفےٰ ﷺ


ہڈیوں پر دستِ مصطفے

پیارے بچّو! ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کے آخِری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ ان معجزات میں کبھی بھوکوں کے لیے کھانا بڑھ جاتا ہے تو کبھی اللہ پاک مُردہ کو بھی زندہ فرما دیتا ہے۔ آئیے! آج ہم ایک ایسے ہی حیرت انگیز معجزے کے بارے میں سنتے ہیں۔

   حضرتِ سیِّدُنا جابِر  رضی اللہ عنہ  ایک بار حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو چہرۂ  مصطفےٰ پر بھوک کے آثار دیکھے،  انہوں  نے گھر آکر اپنی زوجہ سے فرمایا کہ میں نے چہرۂ مصطفٰے  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے آثار بدلے ہوئے دیکھے  ہیں غالباً بھوک سے، تو کیا گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ان کی زوجہ نے عرض کی: یہ ایک بکری  ہے اور تھوڑے سے جَو، بہرحال بکری ذَبح کردی گئی ، جَو پیس کر روٹیاں پکاکرسالن میں بھگوکر ثَرِید تیّار کیا گیا۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  ثَرید کا برتن بارگاہِ رسالت میں لائے اور پیش کردیا۔

    رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: جابر! جاؤ دوسرے صحابہ کو بُلا لاؤ ۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں  کہ میں صحابۂ کرام   رضی اللہ عنہم کو  بُلا لایا تو حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : تھوڑے تھوڑے افراد کو کھانے کے لیے اندر بھیجتے جاؤ،چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کہ جب چند افراد کھانا تناول فرما کر رخصت ہوتے تودوسرے داخل ہوجاتے، جب سب کھانا کھاچکے تو حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے بکری کی جمع شدہ ہڈّیوں پر اپنا دستِ مبارَک رکھ کر کچھ پڑھا تو دیکھتے ہی دیکھتے بکری کان جھاڑتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی۔حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  سے فرمایا: لو یہ اپنی بکری لے لو۔ حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  کہتے  ہیں کہ میں بکری لےکر گھر پہنچا تو زوجہ نے بکری دیکھ کر حیرت سے کہا:   یہ کیا! یہ بکری واپس کیسے آگئی؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم!یہ وُہی بکری ہے جو ہم نے ذَبح کی تھی۔  حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اللہ پاک سے دُعا کی تو اللہ پاک نے اسے ہمارے لیے دوبارہ زندہ کردیاہے۔(دیکھئے: الخصائص الکبری 2 / 112)

پیارے بچّو! اس مبارک واقعے سے ہمیں کئی پیاری باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:

*انسان کو چاہیے کہ اپنی محبوب ہستیوں  اور بُزرگوں کی حالت پر نظر رکھے تاکہ اگر کبھی ان کی خدمت کا موقع ملے تو  یہ سعادت حاصل کرسکے۔

*انسان کے پاس اگرچہ وسائل و ذرائع کم ہوں مگر اسے چاہیے کہ اپنی گنجائش کے مطابق دوسروں کی مدد کے جذبات دل میں ضَرور رکھے اور موقع پر پریشان حالوں کے کام آئے۔

*گھر کے معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو زندگی میں سہولت اور گھر میں بَرَکت رہتی ہے۔

*مہمان نوازی اور کھانا کھلانا اسلام کے عمدہ اوصاف ہیں ،ہمیں چاہیے کہ خوش دلی سے مہمان نوازی کیا کریں۔

*صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم اپنے نبی سے بے پناہ محبّت کرتے تھے اور آپ کی معمولی سی تکلیف بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔

*حضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنے صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم کے بہت خیر خواہ تھے، بھوک پیاس یا کسی بھی قسم کے پریشان کن لمحات میں انہیں تنہا نہ چھوڑتے بلکہ ان کی پریشانی دُور فرمایا کرتے تھے۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share