حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کے 10 اوصاف


حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کے 10 اوصاف

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ ان عظیم ہستیوں میں ایک نام عثمان بن عفان  رضی اللہ عنہ  کا ہے۔ آپ اسلام کے تیسرے خلیفہ، جلیل القدر صحابی اور ان خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی۔ یوں تو آپ کے سینکڑوں اوصاف ہیں جن کو احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہے البتہ دس منتخب اوصاف ملاحظہ کیجیے:

(1)پیکرِ حیا:

”شرم و حیا“حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کی ذات پاک کا استعارہ اور پہچان ہے۔ آپ اس امت میں سب سے زیادہ باحیا ہیں یہاں تک کہ فرشتے بھی آپ سے حیا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابوقِلابہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا:میری اُمّت میں حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ صادق، عثمان ہیں۔([1])ایک اور طویل حدیث شریف میں ہے کہ حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: میں اس شخص سے کیسے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاکرتے ہیں۔([2])

آپ کی شرم وحیا کا یہ عالَم تھا کہ آپ غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرتے تھے۔([3])

(2)بے مثال سخاوت:

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  انتہائی سخی اور فیاض تھے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جب مسلمانوں کو مالی مشکلات کا سامنا تھا تو آپ نے کھلے دل سے مدد کی۔غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے 950 اُونٹ، 50گھوڑے اور 1000 اشرفیاں پیش کیں، پھر بعد میں 10 ہزار اشرفیا ں مزید پیش کیں۔([4])اسی طرح مدینہ میں مسلمانوں کے لیے پانی کی کمی تھی تو آپ نے بئرِ رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔ عہدِ صدیقی میں ایک بار قحط پڑگیا تو جناب عثمانِ غنی نے کھانے پینے کی اشیاء سے لَدے ہوئے ایک ہزار اونٹ مسلمانوں پر صدقہ کردیئے۔

(3)عبادت گزاری اور تقویٰ:

عبادت گزار ایسے تھے کہ دن میں نفلی روزہ رکھا کرتے اور صرف رات کے ابتدائی حصے میں آرام کرتے پھر اُٹھ کر ساری رات عبادت میں مصروف رہتے۔([5])قراٰن کے عاشق ایسے کہ ایک رکعت میں ختمِ قراٰن کرلیتے تھے۔([6])جس وقت آپ کو شہید کیا گیا اُس وقت بھی قراٰن کی تلاوت فرمارہے تھے۔([7])تقویٰ اور فکرِ آخرت ایسی تھی کہ عَشَرۂ مُبَشَّرہ (دس جنتی صحابہ) میں شامل ہونے اور دنیا ہی میں کئی بار مالکِ جنّت رسولِ مکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی زبان اقدس سے جنّت کی بشارت پانے کے باوجود جب کسی قبرکے پاس کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا سے اِس قَدَر روتے کہ آنسوؤں سے داڑھی تَر ہو جاتی۔([8])

(4)جامع القراٰن:

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کا ایک عظیم ترین کارنامہ ”جمعِ قراٰن اور تحفّظِ قراٰن“ ہے، اسی بنا پر آپ کو ”جامع القراٰن“ کہا جاتا ہے۔ آپ کے دورِ مبارک میں اسلام دور دراز علاقوں تک پھیل چکا تھا، مختلف قبائل اور اقوام کے اپنی طرز اور لب و لہجے میں قراٰن پڑھنے سے ایک نئی صورتحال پیدا ہورہی تھی،حضرتِ سیّدنا عثمانِ غنی  رضی اللہ عنہ  نے قراٰنِ مجید کی حفاظت اورامت ِ مُسْلِمہ کو اِختلاف سے بچاتے ہوئے حضرت صدیق اکبر کا جمع کیا ہوا نسخہ حضرتِ سیّدتُنا حفصہ  رضی اللہ عنہا کے گھر سے منگوا کر اس سے کئی نسخے تیار کروائے اورانہیں اسلامی ریاست میں پھیلادیا۔ یوں پوری اُمَّت کو قراٰنِ مجید کے ایک نسخے پر جمع فرما دیا۔([9])اس اقدام کی بدولت قراٰن آج تک ایک ہی شکل میں محفوظ ہے۔ اسی نسخے کو تاریخ میں ”مصحفِ عثمانی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

(5)ذوالنورین:

یہ آپ کا ایسا وصف ہے کہ آپ کے علاوہ دُنیا میں کسی کو بھی نہیں ملا کہ آنحضرت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں۔آپ کے علاوہ دنیا میں کسی بھی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں۔ اسی لیے آپ کو ذوالنّورین بھی کہا جاتا ہے۔

(6)خدمتِ خلق:

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ کی شخصیت ”خدمتِ خلق“ کا وہ روشن مینار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔ جب مسلمان مدینہ ہجرت کرکے آئے تواُنہیں وہاں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک یہودی بہت مہنگے داموں پانی پیچا کرتا تھا، آپ نے وہ رومہ نامی کنواں 35ہزار درہم میں خرید وقف کر دیا۔([10])نیز آپ  رضی اللہ عنہ  ہر جمعہ کو غلام آزاد کیا کرتے، اگر کسی جمعہ ناغہ ہوجاتا تو اگلے جمعہ دو غلام آزاد کرتے تھے۔([11])

(7)صبر و استقامت:

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کا صبر و استقامت بھی تاریخِ اسلام کا ایک بےمثال باب ہے۔ حضرت عثمان غنی کے چچا حکم بن ابی العاص نے قبولِ اسلام کی وجہ سے آپ کو رسیوں سے جکڑ دیا اور سخت تشددکرتے ہوئے دینِ اسلام چھوڑنے کا کہا تو آپ نے اُسے صاف صاف کہہ دیا: میں دینِ اسلام کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ ہی کبھی اس سے جد ا ہوں گا۔([12])آپ نے پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ اپنا گھر بار، مال و دولت اور کاروبار سب کچھ اللہ کی خاطر چھوڑ دینا اور اجنبی علاقوں میں قیام کرنا آپ کے صبر و رضا کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ خلافت کے آخری ایام میں باغیوں نے مدینہ منورہ کا گھیراؤ کر لیا۔ آپ کے پاس طاقت تھی، جانثار صحابہ اور غلام لڑنے کے لیے تیار تھے، لیکن آپ نے سختی سے منع کر دیا کہ ”میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے شہرِ رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میں خون کا ایک قطرہ بھی گرے۔“ باغیوں نے آپ کے گھر کا پانی بند کر دیا (وہی عثمان جنہوں نے مدینہ کو پانی پلانے کے لیے کنواں خریدا تھا، آج پیاسے تھے)۔ آپ نے اس تکلیف کو خاموشی اور صبر سے برداشت کیا یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے۔

(8)سادگی:

حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ عرب کے امیر ترین تاجر ہونے کے باوجود انتہا درجے کے سادہ اور منکسر المزاج تھے۔ آپ سادہ لباس زیبِ تن فرماتے تھے۔([13])کھانے میں سادگی ایسی کہ لوگوں کو امیروں والا کھانا کھلاتے اور خود گھر جا کر سِرکہ اور زیتون پر گُزارہ کرتے۔([14])

(9)عاجزی و انکساری:

خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ  رضی اللہ عنہ  کی زندگی میں کوئی پروٹوکول یا شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ نہیں تھا۔ آپ کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت ایران سے لے کر افریقہ تک پھیل چکی تھی، لیکن آپ کا طرزِ زندگی وہی رہا جو مکہ کے ایک سادہ مسلمان کا تھا۔ آپ کئی بار مسجدِ نبوی کے کچے فرش پر آرام فرمالیتے تھے، جس کی وجہ سے آپ کے پہلو پر کنکریوں کے نشان پڑ جاتے۔بعض اوقات مٹی کی ڈھیری کاتکیہ بناکر سوجاتے۔

(10)نفیس طبیعت کے مالک:

آپ  رضی اللہ عنہ طبعاً ہی سچے، ایماندار اور نفیس طبیعت کے مالک تھے۔آپ  رضی اللہ عنہ  نے زمانۂ جاہلیت میں بھی نہ کبھی شراب پی، نہ بدکاری کے قریب گئے،نہ کبھی چوری کی نہ گانا گایا اور نہ ہی کبھی جھوٹ بولا۔([15])

 حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  کی سیرت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اقتدار، دولت اور مقام کے باوجود عاجزی، تقویٰ اور خدمتِ خلق کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت اور امت کی فلاح کے لیے وقف کردی۔آج کے دور میں جب معاشرہ مختلف اخلاقی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال بن سکتی ہے۔ اگر ہم ان کی حیا، سخاوت، صبر اور عدل جیسے اوصاف کو اپنی زندگی میں اپنالیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار شعبہ دعوتِ اسلامی کے شب وروز، المدینۃ العلمیۃ کراچی



([1])مصنف ابن ابی شیبہ، 17/77،حدیث:32691

([2])مسلم،ص1004، حدیث: 6209

([3])مسند امام احمد، 1/160، حدیث: 543

([4])مراٰۃ المناجیح، 8/395

([5])الزھد لامام احمد،ص156،رقم:688

([6])معجم کبیر،1/87،حدیث: 130

([7])معجم ابن الاعرابی، ص370

([8])ترمذی، 4/138، حدیث:2315

([9])دیکھیے:سنن کبریٰ للبیہقی،2/61، حدیث:2374

([10])معجم کبیر، 2/41، حدیث:1226

([11])تاریخ ابن عساکر، 39/28

([12])تاریخ ابن عساکر، 39/26ملخصاً

([13])دیکھئے: معرفۃ الصحابہ، 1/79

([14])الزھدلامام احمد، ص 155،رقم: 684

([15])الریاض النضرۃ،2/33،تاریخ ابن عساکر، 39/27، 225


Share