(1)نماز میں وسوسے آتے ہوں توکیا کریں؟
سوال: نماز میں وسوسے آتے ہوں توکیا کِیاجائے؟
جواب: نماز شروع کرنے سے پہلے اُلٹے کندھے کی طرف تین مرتبہ اس طرح تُھتکاریں کہ نہ تھوک اُڑے، نہ آواز بُلند ہو، پھر لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھ لیں نیز نماز میں جہاں دیکھنا مستحب ہے وہاں نظر رکھیں مثلاً قیام میں سجدے کی جگہ پر، رکوع میں پشتِ قدم یعنی پاؤں کے اوپری حصے پر، سجدے میں ناک کی طرف، التحیات میں گود میں، اس طرح اِنْ شَآءَ اللہ الکریم وسوسوں سے نجات حاصل ہوگی۔(مدنی مذاکرہ، 11 ربیع الاول شریف1442ھ)
(2)حضرات ابراہیم و اسماعیل علیہما السّلام کے القابات
سوال: حضرت اِبراہىم علیہ السّلام اور حضرت اِسماعىل علیہ السّلام کے القابات بتا دیجئے۔
جواب: حضرت اِبراہىم علیہ السّلام کا لقب خَلِیْلُ اللہ اور حضرت اِسماعىل علیہ السّلام کا لقب ذَبِیْحُ اللہ ہے۔ حضرت اِبراہىم علیہ السّلام کا ایک لقب اَبُوالانبیاء اور مہمان نواز ہونے کی وجہ سے اَبُو الضَّیْفَان بھی ہے مگر خَلِیْلُ اللہ لقب زیادہ مشہور ہے۔(مدنی مذاکرہ، 16رمضان المبارک1441ھ)
(3)قربانی کرنے والے کی نیکیاں
سُوال: قربانى کرنے والے کو کتنى نىکىاں ملتى ہىں؟
جواب: قربانى کرنے والے کو قربانى کے جانور کے ہر بال کے بدلے مىں اىک نىکى ملتى ہے۔
(دیکھئے: ترمذی، 3/162، حدیث: 1498-مدنی مذاکرہ، یکم ذوالحجۃ الحرام 1441ھ)
(4)قربانی کے جانوروں کو چادر پہنانا کیسا؟
سوال: کیا قربانی کے جانوروں کو چادر پہنانے سے ثواب ملے گا؟
جواب: جی ہاں! قربانی کے جانور کو تعظیم کی نیت سے خوبصورت چادر پہنانے سے ثواب ملے گا۔ اگر بغیر کسی نیت کے چادر پہنائی یا وہ جانور قربانی کا نہ ہو تب بھی جائز ہے۔(مدنی مذاکرہ، 6ذوالحجۃ الحرام 1441ھ)
(5)وہیل چیئر مسجد میں لانا کیسا؟
سُوال: بعض لوگ Wheel chair (معذوروں کی کرسی) مسجد میں لے کر آتے ہیں اور وہی Wheel chair باہر بھی گھوم رہی ہوتی ہے۔ اس بارے میں کىا احتىاطىں کرنی چاہئیں؟
جواب: جب یقینی معلومات ہو کہ یہ ناپاک پانی سے گزری ہے اور پاک نہیں کی گئی تب تو مسجد میں نہ لائی جائے۔اگر اس میں کوئی مَیل کچیل نظر آرہا ہے جس سے مسجد کا فرش آلودہ ہوسکتا ہو تو بھی نہ لائیں۔ اگر خشک ہوتو اُس کا دَار و مَدار عُرف پر ہے، جیسے لوگ حرمین شریفین میں Wheel chair لے جاتے ہىں، کیونکہ وہاں کا عُرف ہے۔ جب یہ پاک ہو تو اسے دھونے کا حکم نہیں دے سکتے کہ معذور آدمى Wheel chair کىسے دھوئے گا! ناپاک پہىے تو مسجدِ نبوى شرىف کے فَرش پر گھمانے کی اِجازت نہیں ملے گی۔ ہاں! اگر ناپاک نہىں ہیں اور ناپاک ہونے کا پتا بھی نہىں ہےتو پاک ہے۔ سُوال کرنے والے نے ہوسکتا ہے حرمین شریفین کا منظر دیکھا ہواور اُسی کے بارے میں پوچھا ہو،کیونکہ ہمارے ىہاں Wheel chairپر غالباً کسى کو مسجدنہیں لے جاتے، میں نے کبھى کسی کو نہیں دىکھا۔
(دیکھئے: مدنی مذاکرہ، 6 ربیع الاول شریف1442ھ)
(6)مُعافی مانگنے کا اَنداز کیسا ہونا چاہیے؟
سُوال: مُعافی مانگنے کا اَنداز کیسا ہونا چاہیے؟ اگر کسی نے دِل سے اپنے حقوق مُعاف نہ کیے ہوں تو کیا پھر بھی ہماری مُعافی ہو جائے گی؟
جواب: اگر کسی کی مخصوص مُعاملے میں حق تلفی کی گئی اور اس سے مُعافی مانگی گئی اور اس نے مُعاف کردیا تو مُعافی ہو جائے گی،اب اس کا دِل چیر کر دیکھنے کی ضَرورت نہیں۔ہم خواہ مخواہ یہ وَسوسہ کیوں پالیں کہ اس نے دِل سے مُعاف نہیں کیا، ہاں مُعافی اِس اَنداز سے مانگی جائے جیسا مُعافی مانگنے کا حق ہے۔یہ نہیں کہ اس کو مزید تکلیف دےکر مُعافی کا مُطالبہ کیا جائے مثلاً مُعاف کرتے ہو یا نہیں؟اب کیا تمہارے پیر پکڑوں؟ وغیرہ۔ جس نے سب کے سامنے کسی کو بے عزت کیا تھا تو اسے چاہیے کہ سب کے سامنے مُعافی مانگے، یہ نہیں کہ کان میں ہلکے سے Sorry بول دیا۔ جس سے مُعافی مانگی جا رہی ہے اس کو بھی محسوس ہو کہ مجھ سے واقِعی مُعافی مانگی گئی ہے۔(مدنی مذاکرہ، 9محرم الحرام 1440ھ)
(7)قُرب ِ اِلٰہی کا بہترین ذَریعہ
سوال: اللہ پاک کا قُرب حاصل کرنے کے لیے کونسا وَظیفہ زیادہ پڑھنا چاہئے؟
جواب: پانچ وقت کی نماز پڑھنی چاہئے، قُرب ِ اِلٰہی حاصل کرنے کا اِس سے بہتر کوئی اور ذَریعہ نہیں ہے۔ فرض، واجب اور سنَّت نمازیں پڑھئے پھر نوافل پڑھ کر اللہ پاک کا قُرب (یعنی نزدیکی) حاصل کیجئے۔ اگر کوئی شخص فرض نمازیں نہ پڑھے مگر نوافل پڑھے تو وہ نوافل قُرب کا ذَریعہ کیسے بنیں گے! حدیثِ پاک میں بھی اِس طرح کا اِرشاد موجود ہے کہ بندہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل پڑھتا رہے تو پھر اسے اللہ پاک کا قُرب حاصل ہوجاتا ہے۔([1]) لہٰذا فرض نماز ہى نہىں بلکہ فرائض عبادات کے ذَرىعے قُرب حاصل کرنا یعنی جس پر روزہ فرض ہے وہ روزہ رکھتا ہو اور جس پر زکوٰۃ فرض ہے تو وہ زکوٰۃ کی اَدائیگی بھی کرتا ہو وغیرہ۔(مدنی مذاکرہ، پہلی ربیع الاول 1442ھ)
(8)چشمے کی مچھلی کھانا کیسا؟
سُوال: بعض علاقوں میں کہا جاتا ہے کہ چشمے کی مچھلی کھانا جائز نہیں تو کیا چشمے کی مچھلی حلال ہے؟
جواب: جو پانی قدرتی طور پر زمین اور پہاڑوں سے اُبلتا ہے اسے چشمہ یا پانی کا سوتا کہا جاتا ہے اور گجراتی زبان میں اسے ”جَھرڑاں“ کہتے ہیں۔ بہرحال چشمے کی مچھلی حلال ہے، اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔جو چشمے کی مچھلی کو حرام کہتے ہیں وہ غَلَط فہمی اور معلومات کی کمی کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہوں گے۔ (مدنی مذاکرہ، 24ذوالقعدۃ الحرام 1440ھ)
([1])حدىثِ قُدسى مىں ہے:جس نے مىرے کسی وَلى سے عداوت کى اس سے مىرا اِعلانِ جنگ ہے، بندہ کسی شے سے اس قدر قُرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض سے کرتا ہے اور نوافل کے ذَریعے سے ہمیشہ قُرب حاصل کرتا رہتا ہے ىہاں تک کہ مىں اُس بندے کو اپنا محبوب(یعنی پیارا) بنا لىتا ہوں اور جب مىں اسے اپنا محبوب بنا لىتا ہوں تو میں اُس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کى آنکھىں بن جاتا ہوں جس سے وہ دىکھتا ہے۔ جب وہ مجھ سے کسی چیز کا سُوال کرتا ہے تو میں اُسے عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو مىں اسے پناہ دىتا ہوں۔(دیکھئے:بخاری، 4/248، حدیث:6502)
Comments