جس نے دھوکا دیا


جس نے دھوکا دیا!

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا  یعنی جس نے ہمیں  دھوکا دیا، وہ ہم میں  سے نہیں ۔ ([1])

پیارے بچو! کسی چیز کی(اصلی)حالت کو پوشیدہ رکھنا دھوکا ہے۔([2])دھوکے کو فریب، دغا، مکاری اور مکر وغیرہ بھی کہتے ہیں۔

پیارے بچو! اللہ کے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے کچھ بُرے کاموں پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”وہ ہم میں سے نہیں“  اس کا مطلب کیا ہے؟ اسے بیان کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  لکھتے ہیں: یعنی وہ ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری اُمت   سے نہیں کیونکہ گُناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ۔([3])

دھوکا  دینا  گناہ کا کام  ہے اور اللہ پاک اور رسولِ کریم  علیہ السّلام  کو یہ بہت ناپسند ہے۔ اس بُری عادت سے معاشرے میں بے برکتی آتی ہے۔ فریب دینے والا دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل ہوتا ہے۔ قیامت کے دن ایسا  شخص  ذلیل و خوار ہوگا، مکاری اور چالبازی مؤمن کی شان نہیں۔ جو شخص دوسروں کو دھوکا دیتا ہے، لوگ اس پر بھروسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں، دوست  اس کا  ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور آخرکار اس کی عزت بھی جاتی رہتی ہے۔

ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے  دھوکے سے سختی سے منع فرمایا ہے، ایک بار کا واقعہ ہے  کہ  نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   بازار سے گزرے  اورایک اناج کے  ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے اناج گیلا تھا۔ آپ نے اس اناج والے سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے بتایا کہ اناج پر بارش پڑ گئی تھی۔ پیارے نبی  علیہ السّلام  نے   فرمایا کہ تم نے گیلا اناج اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ سکتے؟ (اور دھوکا نہ کھاتے۔)  ([4])

پیارے بچو! امتحانات میں نقل کرنا، اپنی ڈیلی رپورٹ والی کاپی میں خود ہی امی ابو کے دستخط  کر لینا، امی نے کوئی سامان لانے کے لیے  پیسے دیے  تو بقیہ بچنے والے پیسے چھپا لینا، یہ سب دھوکا ہے۔

اچھے بچو! پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی تعلیمات پر عمل کریں، کبھی کسی کو دھوکا نہ دیں، اس حدیث پاک کو یاد کرلیں ، اپنے بھائی بہنوں اور دوستوں کو بھی یہ حدیث سنائیں اور انہیں بھی اس برے کام سے منع کریں۔

اللہ پاک ہمیں دھوکا دہی اور ہر گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])مسلم، ص64، حدیث:283

([2])فیض القدیر،6/240،تحت الحدیث:8879

([3])مراٰ ۃ المناجیح،6/560

([4])دیکھیے:مسلم، 64، حدیث: 284


Share