تہمت وبہتان (Slander)
کسی مسلمان کا بُرائیوں اور گُناہوں میں مبتلا ہونا بلاشُبہ بُرا ہے لیکن کسی پر گُناہوں اور بُرائیوں کا جھوٹا اِلزام لگانااِس سے کہیں زیادہ بُرا ہے۔ ہمارے مُعاشرے میں جو برائیاں ناسُور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک تُہمت وبہتان یعنی جھوٹا اِلزام لگانا بھی ہے۔ مسلم شریف میں ہے:
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ، قَالَ:ذِكْرُكَ اَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ اَفَرَأَيْتَ اِنْ كَانَ فِي اَخِي مَا اَقُولُ؟ قَالَ: اِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَاِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
ترجمہ: سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستِفسار فرمایا:کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ عرض کی:اللہ اور اس کا رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا:تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذکرکرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی:اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟فرمایا:جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا۔([1])
حدیث پاک کی وضاحت
یہ فرمان بہت وسیع ہے۔جب سائل نے پوچھا کہ جو عیب میں بیان کر رہا ہوں اگر وہ عیب اس میں موجود ہو تو کیا تب بھی غیبت ہوگی؟ اس کے جواب میں حضورِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کچھ تو بیان کر رہا ہے اگر وہ تیرے بھائی میں موجود ہےتبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر وہ بات اُس میں نہ ہو جو تونے بیان کی تب تو تُو نے اُس پر بہتان لگادیا۔
اس فرمانِ عالی کی نفاست پر حکیمُ الامّت مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: سُبْحَانَ اللہ! کیا نفیس جواب ہے کہ غیبت سچّے عیب بیان کرنے کو کہتے ہیں اور بہتان جھوٹے عیب بیان کرنے کو۔غیبت ہوتا ہے سچ، مگر ہے حرام،اکثر گالیاں سچّی ہوتی ہیں مگر ہیں بے حیائی و حرام، ہر سچ حلال نہیں ہوتا،خُلاصہ یہ ہے کہ غیبت ایک گُناہ ہے بہتان دو گُناہ۔([2])
بہتان کی تعریف اور شرعی حکم
حضرت علّامہ علی القاری رحمۃُ اللہ علیہ نے بہتان کی تعریف ان الفاظ میں کی: وَهُوَ كَذِبٌ عَظِيمٌ يُبْهَتُ فِيهِ مَنْ يُقَالُ فِي حَقِّهِ بہتان ایسا بڑا جھوٹ ہے جسے سن کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔([3])
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرامِ قطعی ہے خصوصاً مَعَاذَ اﷲ اگر تہمتِ زنا ہو۔([4])
تہمت کی 5سزائیں
(1)سورۃُ النسآء میں ہے:
وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓــٴَـةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓــٴًـا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۱۱۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔ ([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(2)نبیِ رَحمت، شفیعِ امّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ پاک اس وقت تک رَدْغَۃُ الْخَبَال میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔([6]) رَدْغَۃُ الْخَبَال جہنم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنّمیوں کا خون اور پیپ جمع ہوگا۔([7])
(3)جھوٹے اِلزامات لگانےوالوں کا انجام جنابِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مناظر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا۔ میں نے جبرئیل علیہ السّلام سے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر بِلاوجہ اِلزامِ گُناہ لگانے والے ہیں۔([8])
(4)تمام نبیوں کےسردار،مدینےکے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے اِسْتِفْسَار فرمایا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے عرض کی: ہم میں مفلِس(یعنی غریب مسکین)وہ ہے جس کے پاس نہ دِرہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال۔ ارشاد فرمایا:میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے فُلاں کوگالی دی ہو گی،فُلاں پر تہمت لگائی ہو گی،فُلاں کا مال کھایا ہو گا،فُلاں کا خون بہایا ہو گا اور فُلاں کو مارا ہو گا۔ پس اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کا حصّہ دے دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمّے آنے والے حُقُوق پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اسے جہنّم میں پھینک دیا جائے گا۔([9])
(5)کسی عورت پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگانا زیادہ خطرناک ہے لیکن بعض بے باک (Brazen) لوگ یہ بھی کر گُزرتے ہیں اور اتنانہیں سوچتے کہ اس عورت اور اس کے گھر والوں پر کیا گزرے گی! جو کسی عورت پر زنا کا اِلزام لگائے اور چار گواہوں کی مدد سے اسے ثابت نہ کرسکے تواس کی شرعی سزا ”حدِّ قَذْف“ ہے یعنی سلطانِ اسلام یا قاضیِ شرع کے حکم سے اسے 80کوڑے مارے جائیں گے۔ اس کا اُخروی نقصان بھی سن لیجئے، چنانچہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ یعنی کسی پاک دامن عورت پر زِنا کی تُہمت لگانا سو سال کی نیکیوں کو برباد کرتا ہے۔([10]) فیضُ القدیر میں ہے: یعنی اگر بِالفرض وہ شخص سو سال تک زندہ رہ کر عبادت کرے تو بھی یہ بُہتان اس کے ان اعمال کو ضائع کردے گا۔([11])
تہمت کی 4حکایات
(1)بُزرگ پر چوری کی تہمت لگا دی:
مکّۂ مکرَّمہ میں ایک بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ آرام فرمارہے تھے۔ ان کے قریب ایک آدمی سویا ہواتھا جس کے پاس سکّوں کی تھیلی تھی۔ جب وہ بیدار ہوا توتھیلی غائب تھی۔ اس نے ان بزرگ پر چوری کی تہمت لگادی۔ انہوں نے پوچھا: تمہاری تھیلی میں کتنے سکے تھے ؟ اس نے سکے بتائے تو وہ بزرگ اس آدمی کواپنے گھر لے گئے اور سکّے اس کے حوالے کردئیے۔ بعدمیں اسے معلوم ہوا کہ دوستوں نے بطورِ شرارت سکّے چھپالیے تھے۔ وہ شخص اپنے دوستوں کے ساتھ ان بُزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سکّے لوٹاناچاہے تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور فرمایا: اسے رکھ لو! یہ تمہارے لیے حلال ہیں کیونکہ ہم جس مال کو راہِ خدا میں دیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے۔ جب ان لوگوں کا اِصرار بڑھا تو بُزگ نے اپنے بیٹے کو بلایا اور تھیلیوں میں رکھواکر تمام سکّے تقسیم کروادئیے۔([12])
(2)گورنر پر تہمت وبہتان لگانے کا انجام:
حضرت سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پرایک شخص نے تین جھوٹے الزامات لگائے:
(۱)یہ لشکرِ اسلام کے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوتے
(۲)مالِ غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے
(۳)مقدمات کا فیصلہ کرنے میں عدل سے کام نہیں لیتے۔
یہ سن کر حضرت سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: سنو! اللہ کی قسم!میں اس کے خلاف تین دعائیں کرتا ہوں: یااللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے، دکھانے اور سنانے کے لئے کھڑا ہوا ہے تو
(۱)اس کی عمر دراز فرمادے
(۲)اس کے فَقْر میں اِضافہ فرمادے اور
(۳)اسے فتنوں میں مبتلا فرما۔
جب کوئی اس سے اس کا حال پوچھتا تووہ کہا کرتا تھا: میں کیا بتاؤں؟ میں وہ بوڑھا ہوں جو فتنوں میں مبتلا ہوں کیونکہ مجھ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگ گئی ہے۔ حضرت عبدالملک بن عمیر تابعی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:اس دعا کا میں نے یہ اثر دیکھا کہ’’ ابو سَعدہ ‘‘نامی وہ شخص اس قدر بوڑھا ہوچکا تھا کہ بڑھاپے کی و جہ سے اس کی دونوں بھویں اس کی دونوں آنکھوں پر لٹک پڑی تھیں، وہ دربدر بھیک مانگ کر انتہائی فقیر ی اور محتاجی کی زندگی بسر کرتاتھا اور اس بڑھاپے میں بھی وہ راہ چلتی ہوئی جوان لڑکیوں کو چھیڑتااوران کے بدن میں چٹکیاں بھرتا رہتا تھا۔([13])
اس حکایت سے لوگوں پر جھوٹے الزام لگانے کے عادی افراد کو عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ جو موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں پرجھوٹے الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں، نہ اس کے منصب کا لحاظ رکھتے ہیں نہ رُتبے کا خیال، شاید ایسا کرنے والوں کے دل ودماغ میں ایک ہی بات سمائی ہوتی ہے کہ ’’ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں ‘‘ انہیں ڈرنا چاہئے کہ ہمارے ساتھ بھی اسی طرح مُکافاتِ عمل ہوسکتا ہے جیسا اس بوڑھے کے ساتھ ہوا۔
(3)تم میرے پاس تین بُرائیاں لے کر آئے:
ایک شخص نے کسی بُز ُرگ رحمۃُ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر انہیں اُن کے دوست کی کچھ منفی(Negative)باتیں بتائیں، اِس پر اُنہوں نے اِرشاد فرمایا:افسوس!تم میرے پاس تین بُرائیاں لے کر آئے:
(۱)مجھے میرے اسلامی بھائی سے نفرت دلائی
(۲)اس وجہ سے میرے دل کو (تشویشوں اور وسوسوں میں) مشغول کیا اور
(۳)اپنے امین نفس پر تہمت لگائی۔ (یعنی میں تمہیں امانت دار سمجھتا تھا مگر تم تو پیٹ کے ہلکے نکلے!)([14])
(4)لڑکی نے پھانسی لے لی:
دشمنی، حسد، راستے سے ہٹانے، بدلہ لینے، سَستی شہرت حاصل کرنے کی کیفیات میں گُم ہوکر تُہمت و بہتان تراشی کرنے والے تو اِلزام لگانے کے بعد اپنی راہ لیتے ہیں لیکن جس پر جھوٹاالزام لگا وہ بقیہ زندگی رُسوائی اور بدنامی کا سامنا کرتا رہتاہے اور بعض اوقات یہی جھوٹا اِلزام غلط فہمی کی بِنا پر بھی لگادیا جاتا ہے۔ جالندھر میں ایک بارہویں جماعت کی طالبہ نے اسکول میں خودکشی کرلی۔ رپورٹس کے مطابق ایک استاد نے اس پر پیسوں کی چوری کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ الزام غلط تھا، لیکن اس سے پہلے ہی طالبہ نے اسکول کے ایک کمرے میں خود کو پھانسی دے دی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔([15])
تہمت کے مقامات سے بچو
مسلمان کو ایسی جگہوں، حالات اور کاموں سے بچنا چاہیے جہاں اس پر تہمت یا بدگمانی ہو سکتی ہو۔نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ ا کے ساتھ جا رہے تھے تو دو صحابی گزرے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وضاحت فرمائی کہ یہ میری زوجہ صفیہ ہیں، تاکہ کوئی غلط گمان نہ کرے: اِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الاِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَاِنِّي خَشِيتُ اَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ترجمہ: بے شک شیطان انسان کے اندر اس طرح گردش کرتا ہے جیسے خون گردش کرتا ہے، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تم دونوں کے دلوں میں کوئی شے نہ ڈال دے۔([16])
تہمت وبہتان سے توبہ ضروری ہے
صدرُ الشَّریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بُہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور مُعافی مانگنا ضَروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضَرور ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا جو فُلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔([17])
حسد، وعدہ خِلافی، جھوٹ، چُغلی، غیبت و تہمت
مجھے ان سب گناہوں سے ہو نفرت یارسولَ اللہ([18])
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی([19])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* استاذ المدرسین، مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments