افضل عمل
(The Best of Deeds)
ایک بزرگ کیچڑ والی جگہ سے اپنے کپڑوں کو بچا بچا کر راستہ کے کنارے سے گزر رہے تھے کہ اچانک ان کا ایک پاؤں پھسل کر کیچڑ میں آلودہ ہو گیا پھر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں کیچڑ میں ڈال دیئے اور کیچڑ کے درمیان سے گزرنے لگے، وہ رونے لگے کسی نے پوچھا کیوں رورہے ہیں؟ جواب دیا یہ بندہ کی مثال ہے کہ بندہ بھی گناہوں سے بچتا رہتا ہے پھر کسی ایک گناہ کا شکار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ گناہوں میں غرق ہو جاتا ہے انسان پر لازم ہے کہ وہ غفلت سے تو بہ کرے جب انسان اسے جان لے گا تو ہمیشہ تو بہ پر استقامت نصیب ہو گی، دنیا میں غافل لوگ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ ([1])
حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَفضَلُ الْاَعْمَالِ مَا اُكْرِهَتْ عَلَيْهِ النُّفُوسِ یعنی افضل عمل وہ ہے جس پر نفس کو مجبور کیا جائے۔([2])
شیخ ابو طالب مکی رحمۃُ اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: کیونکہ نفس اپنی خواہشات کی خلاف ورزی پسند نہیں کرتا، نفسانی خواہش حق کی ضد ہے اور اللہ پاک حق کو پسند فرماتا ہے، تو نفس پر سختی خواہش کے خلاف اور حق کے مطابق ہوگی کیونکہ حق کی محبت افضل اعمال میں سے ہے۔([3])
نفس کو قابو کرنے کے علاوہ بھی دیگر افضل اعمال کا احادیث و روایات میں بیان ہوا:ان میں سے 7 بیان کی جارہی ہیں: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا،وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا،مسلمان کا دل خوش کرنا، کھانا کھلانا اور سلام کو عام کرنا، زبان کی حفاظت کرنا،بھوکے مسکین کو کھانا کھلانا قرض سے نجات دینا اور اس کا غم دور کرنا، شیخین کریمین سے محبت کرنا۔
ان کی روایات پڑھیے:
(1)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا گیا: کونسا عمل افضل ہے؟ فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے۔([4])
(2)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: میں نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا۔میں نے پوچھا پھر کون سا عمل؟ فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا عمل؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔([5])
(3)فرمان ِمصطفے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَى الله بَعْدَ الفَرَائِضِ اِدْخَالُ السُّرُوْرِ عَلَى الْمُسْلِمِ یعنی اللہ پاک کے نزدیک فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کو خوش کرنا ہے۔([6])
(4)حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا: کونسا اسلام اچھا ہے؟ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمايا: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ یعنی کھانا کھلاؤ اور ہر جانے انجانے شخص کو سلام کرو۔ ([7])
(5)مصطفیٰ جان رحمت، شمع بزم ہدایت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک مرتبہ صحابہ سے استفسار فرمایا: اللہ پاک کو سب سے پیارا عمل کون سا ہے؟ سب نے سکوت فرمایا اور کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہ دیکھ کر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلى اللهِ حِفْظُ اللِّسَان یعنی وہ عمل زبان کی حفاظت ہے۔([8])
حضرت سید نا علامہ عبد الروؤف مناوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: زبان کی حفاظت سے مراد جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ ممنوعہ چیزوں سے بچانا ہے، زبان کی عدم حفاظت دل کو فاسد کرتی ہے، اور دل کے فساد کے باعث بدن بھی فساد کا شکار ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام پر نازل کردہ صحیفوں میں یہ بات بھی تھی کہ عقلمند شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ جہاں دیدہ، اپنے سے مطلب رکھنے والا، زبان کی حفاظت کرنے والا ہو اور کام کی بات کے علاوہ باتیں کم کرتا ہو۔([9])
(6)سرکارِ مدینہ منورہ، سردارِ مکہ مکرمہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک کو سب سے پیارا عمل کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلانا،اس کو قرض سے نجات دلانا یا اس کا غم دور کرنا ہے۔([10])
حضرت سید نا علامہ عبد الروؤف مناوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسکین کو کھانا کھلانے کا ذکر اس لیے مقدم فرمایا کہ یہ روح کی حرمت کی حفاظت کا سبب ہے۔ قرض سے نجات دینے کی تین صورتیں ہیں:(1)خود ادا کر دے (2)اگر وہ اس کا قرضدار ہے تو قرضہ معاف کر دے (3)ایسا راستہ بتادے جس سے قرض با آسانی اتر جائے۔ مزید فرماتے ہیں: ”کرب“ اس غم کو کہتے ہیں جو دل میں بسیرا کرلے۔ حضرت سیدنا امام فخر الدین رازی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک عورت تیل لے کر ایک صوفی جو کہ اکابرین میں سے تھے کے پاس آئی اور بولی: اس سے مسجد میں چراغ روشن کر دیجئے، فرمایا: تجھے کیا زیادہ پسند ہے؟ وہ روشنی جو چھت تک پہنچے؟ یا وہ روشنی جو عرش تک پہنچے؟ بولی: جو عرش تک سب روشن کردے، فرمایا: اگر اس تیل کو قندیل میں ڈالیں گے تو اس کی روشنی چھت تک جائے گی، لیکن اگر اس تیل کو کسی بھوکے فقیر کے کھانے میں استعمال کیا جائے تو اس کی روشنی عرش تک جائے گی، پھر انہوں نے اس تیل سے کسی فقیر کے کھانے کا انتظام فرمادیا۔([11])
(7)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے خواب میں حضرت سیدنا حمزہ اور حضرت سید نا جعفر رضی اللہ عنہما کی زیارت کرائی گئی۔ان دونوں حضرات کے سامنے ایک طشتری (پلیٹ ) رکھی تھی جس میں مزیز جد (زمرد کے جیسا ایک قیمتی پتھر) کی طرح بیر موجود تھا اور ان دونوں نے اس میں سے کچھ کھایا پھر وہ بیر انگور میں تبدیل ہو گیا دونوں نے اسے تناول کیا پھر وہ انگور تازہ کھجور میں تبدیل ہو گیا اور انھوں نے اس سے کھایا میں نے ان سے پوچھا آپ دونوں کے نزدیک سب سے افضل عمل کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا:اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں کہنا۔ میں نے پوچھا پھر کونسا؟ جواب دیا: اَلسَّلام علیک یارسول اللہ (یعنی اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو) میں نے پھر پوچھا:اس کے بعد کون سا عمل سب سے افضل ہے جواب دیا : امیر المؤمنین حضرت سید نا ابو بکر صدیق اور امیر المؤمنین حضرت سید نا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے محبت کرنا۔([12])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* چیف ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ، رکن مجلس المدینۃ العلمیہ کراچی

Comments