حالات اور خیالات)Situations and thoughts(
ايك مضبوط جسامت کا درازقد شخص کہیں جارہا تھا۔ایسے میں کسی نےپیچھے سے اس کے ٹخنوں پر لاٹھی ماری۔اس کی حالت بری ہوگئی وہ یہ خیال کر کے آگ بگولہ ہوگیا کہ یہ جرأت کس احمق نے کی ہے،وہ گھونسا تانے پیچھے کی طرف مڑا لیکن یہ دیکھ کر اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا کہ اس کے پیچھے ایک اندھا شخص تھا جو اپنی لاٹھی کی مدد سے راستہ ٹٹول کر چل رہا تھا اسی دوران اس کی لاٹھی پہلوان نما شخص کے ٹخنوں سے جالگی تھی۔
آپ نے دیکھاکہ کس طرح لاٹھی لگنے نے لمبے چوڑے شخص کی حالت تبدیل کردی جس سے اس کے خیالات مشتعل ہوئے لیکن جب اس نے لاٹھی مارنے والے کو اندھا پایا تو اس کے خیالات تبدیل ہوگئے جس سےاس کی جسمانی و ذہنی حالت بھی تبدیل ہوگئی۔یقیناً حالات اور خیالات دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔حالات بدلنے کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں اور خیالات بدل لیے جائیں تو حالات بدل جاتے ہیں کیونکہ خیال ہی عمل کو جنم دیتا ہےہم جو سوچتے ہیں، وہی کرتے ہیں۔ جیسے کسی کی ملازمت یا کاروبار ختم ہوجائے اور آمدنی کا متبادل ذریعہ نہ بن سکے تو وہ پریشان خیالی کا شکار ہوجاتا ہے کہ گھرکا کرایہ،گیس بجلی کے بل،بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی؟ گھر کا راشن کہاں سے آئے گا؟ یہ خیالات اس کی ذہنی وجسمانی حالت کو کمزور کردیتے ہیں، وہ خود کو ناکام شخص سمجھنےلگتا ہے۔ اگر یہی شخص اپنے خیالات تبدیل کرلے کہ ایک در بند ہوتا ہے تو 100 در کھل جاتے ہیں، محنت، کوشش اور لگن سے اپنے حالات بدل سکتا ہوں اوردعا کو اپنا ہتھیار بنائے،نیت پُرخلوص رکھے،اللہ پر توکل رکھے، اسی سے کامیابی کی امیدرکھے، مرضی کا کام یا معاوضہ نہیں ملتا تو فی الحال جو کام اورمعاوضہ ملے اسی کو قبول کرلے اور مزید کی کوشش جاری رکھے تو اِن شآءَ اللہ اس کے حالات بدلنا شروع ہوجائیں گے۔
قارئین! جو لوگ اپنے حالات تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے پہلے انہوں نے اپنے خیالات بدلے پھر عملی قدم اٹھائے۔ بہت سے لوگ پہلے غربت کی چکی میں پِس رہے تھے لیکن آج خوشحال ہیں۔اگر آپ بھی اپنے حالات بدلنا چاہتے ہیں تو اپنے خیالات بدل کر دیکھیے۔ حالات مختلف قسم کے ہوتے ہیں، چنانچہ سب سے پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ آپ اپنے کس نوعیت کے حالات کو بدلنا چاہتے ہیں،دنیوی یا اُخروی؟ یہ دنیا عارضی ختم ہوجانے والی اور آخرت پائیدار اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے، اس لیے ہمیں اُخروی زندگی کی بہتری کو ترجیح دینی چاہیے۔ بہت سے نوجوان اللہ ورسول کی نافرمانی والے کاموں میں مصروف تھے آج لوگ ان کے نیک ہونےکی گواہی دیتے ہیں ان سے دعا کرواتے ہیں۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کو رحمتِ الٰہی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ چنانچہ بنی اِسرائیل کا ایک شخص جس نے 99 قَتْل کیے تھے ایک راہِب کے پاس پہنچا اور پوچھا: کیا میرے جیسے مجرِم کے لیے کوئی توبہ کی گنجائش ہے؟ راہِب نے اسے مایوس کر دیا تو اُس نے راہِب کو بھی قَتْل کر ڈالا۔ مگر پھر نادِم ہوکر توبہ کا طریقہ لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ آخِر کسی نے کہا کہ فُلاں قَصبہ میں چلے جاؤ (وہاں اللہ کا ایک ولی ہے وہ تمہاری رہنُمائی کرےگا۔) چُنانچِہ وہ اُس کی طرف چل د یا مگر راستے میں بیمار ہو گیا۔ جب قریبُ الْمَرْگ ہوا تو اس نے اپنا سینہ اُس قَصبہ کی طرف کردیا اور فَوت ہو گیا۔ اب اس کو لے جانے کے بارے میں رَحْمت و عذاب کے فِرشتوں میں اختِلاف ہوا۔ اللہ پاک نے میِّت اور قَصبہ کے درمیان والے حصّۂ زمین کو سِمٹ کر میِّت کے قریب ہو جانے کا حُکْم فرمایا اور جِدھر سے وہ چلا تھا اور جہاں پہنچ کر فوت ہوا تھا اُس درمیانی فاصِلے کو مزید طویل ہو جانے کا حُکْم فرمایا۔ پھر پیمائش کا حُکْم فرمایا تو وہ جس قَصبہ کی طرف جا رہا تھا اُس سے ایک بالِشْت قریب پایا گیا اور اللہ کریم نے اُس کی مغفِرت فرما دی۔ ( بخاری،2/466، حدیث:3470)
خیالات بدلنے کے طریقے
(1)اچھی صحبت اختیار کیجیے، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اچھے اور برے مصاحب کی مثال، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی۔ (مسلم،ص1084،حدیث:6692)
(2)اچھی کتابوں کا مطالعہ کیجیےکیونکہ یہ بہترین رفیق ہیں جو جہالت کے اندھیرےمٹاکر علم کی روشنی پھیلاتی ہیں۔
(3)مثبت نتائج کے لیے غور وفکر کیجیے۔غیر ضروری سوچوں سے پیچھا چھڑایے کیونکہ ہمارا ذہن زمین کی طرح ہوتاہے۔ اگر ہم نے اس میں اناج یا پھل نہ اگائے تو اس میں بے کار جھاڑیاں اور گھاس پھونس اُگنے لگے گا۔
(4) اپنے خیالات کو مثبت رکھیے۔ مثبت خیالات پُرسکون اور کامیاب زندگی کا باعث بنتے ہیں۔ جبکہ منفی خیالات مایوسی اورسستی پیدا کرتے ہیں، وسوسوں کا شکار کرتے ہیں بعض اوقات خودکشی تک لے جاتےہیں۔منفی خیالات بھی حالات بدل تو دیتے ہیں لیکن انجام بہت برا ہوتا ہے مثلاً غربت سے نکلنے کے لیے ڈکیتی کرنا، زمینوں پر قبضے کرنا، رشوت لینا وغیرہ۔
(5)تصوراتی مشق کے ذریعے خیالات کو تبدیل کیجیے،مثلاً
*مسلسل ناکام ہونے والے اسٹوڈنٹ کے پہلے خیالات یہ ہوتے ہیں کہ میں ایک کمزور اسٹوڈنٹ ہوں، میں آسان سا سبق بھی نہیں سمجھ سکتا،اس لیے میں امتحان میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔یہی اسٹوڈنٹ اگر اپنےخیالات تبدیل کرلے کہ دوسرے طلبہ کی طرح اللہ پاک نے مجھے بھی صلاحیتیں دی ہیں اگر میں بھی محنت کوشش اور لگن سے پڑھوں، اپنے پڑھنے کا اندازتھوڑا تبدیل کرلوں تو کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہوں، اِن شآءَ اللہ ۔ ان خیالات کے تحت اس نے پڑھنے کا شیڈول بنایا، کلاس میں یکسوئی اور توجہ کے ساتھ سبق سمجھنا شروع کیا، جو سمجھ نہ آتا وہ ٹیچر سے پوچھ لیتا،پڑھائی میں اچھے طلبہ کو اپنا دوست بنایا۔ یوں اس کا اعتماد بحال ہوگیا اور رفتہ رفتہ اس کےحالات تبدیل ہوئے اور وہ ایک کامیاب اسٹوڈنٹ بن گیا۔
٭طویل عرصے تک بے روزگار رہنے والے کے پرانے خیالات کچھ یوں ہوتےہیں کہ سب کو نوکریاں مل جاتی ہیں لیکن مجھے ریجیکٹ کردیا جاتا ہے۔ اب میں کہیں انٹرویو دینے نہیں جاؤں گا۔ پھراس کے خیالات تبدیل ہوئے کہ مجھے اپنی صلاحیتوں کو جدید زمانے کے مطابق بہترکرنا چاہیے،نوکری دینے والے جوتقاضاکرتےہیں مجھے ویسا بننا چاہیے۔ اپنے بدلے ہوئے خیالات کےمطابق اس نے نئے کورس کیے،نیٹ ورک بنایا اور اپنےشعبے میں مہارت حاصل کی،CVکو بہتر بنایااور ایک اچھی جاب حاصل کرنےمیں کامیاب ہوگیا۔
اسی طرح طویل بیماری کاٹنے والا، کاروبار میں ناکام رہنے والا اور گھریلو جھگڑوں کا شکار رہنے والا شخص بھی اپنےخیالات تبدیل کرکے حالات تبدیل کرسکتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* چیف ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ، رکن مجلس المدینۃ العلمیہ کراچی
Comments