اپنےبزرگوں کو یادرکھئے
رجبُ المرجّب اسلامی سال کا ساتواں مہینا ہے۔ اس میں جن اَولیائے عُظَّام اور عُلَمائے اسلام کا یومِ وصال یا عرس ہے، ان میں سے 116کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ رجب المرجّب 1438ھ تا1446ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے، مزید6کا تعارُف ملاحَظہ فرمائیے:
اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام :
(1)شیخ سیّد محمد بن یخلف رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش جمادی الاخریٰ 756ھ کو الراشدیہ، ریجن مکناس تافی لالت، مغرب (مراکش) میں ہوئی اور 24رجب857ھ کو ولہاصہ،صوبہ عین تموشنت، الجزائر، افریقہ میں وصال فرمایا۔ آپ علّامہ و فاضل، زاہد و متّقی، ماہر عُلوم و فُنون، مدرّس و مفتی، علامۃ المحققین، مسندُالعصر، صدرُالافاضل اور باکرامت ولی اللہ تھے۔ ([1])
(2)مولانا محمد حسین فاروقی محب اللّٰہی الٰہ آبادی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش محلّہ بہادرگنج، الٰہ آباد، یوپی ہند کے علمی و روحانی فاروقی گھرانے میں غالباً1269ھ کو ہوئی اور وصال 8رجب 1322ھ کو دربارِ غریب نواز اجمیر شریف فرمایا، یہیں تدفین ہوئی۔ آپ قُدوَۃُ المحققین، عمدۃُ المدققین، فاضلِ کبیر، عالم و اَدیب، حکیمِ حاذِق، عارف باللہ، امامُ العلماء، رئیسُ الاصفیاء، مصنّفِ کتب جامع کمالات علمیہ و عملیہ، صاحب حال صوفی، شہید محبّت، اردو، فارسی اور عربی کے قادرالکلام شاعر تھے۔([2])
علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام:
(3)شیخ الاسلام علّامہ اسماعیل بن ابرہیم ہاشمی جبرتی زبیدی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 722ھ اور وصال 15رجب 806ھ میں ہوا۔ یہ زبید یمن کے عالمِ دین، محدّث، واعظ، عبادت گُزار، ولی اللہ، صاحبِ کرامات، عاشق علّامہ ابن عربی و فصوص الحکم، مقبول عوام و سلاطین، کثیر الفیض، صوفیِ باصفا اور کثرت سے سورۂ یٰسٓ کی تلاوت کرنے والے تھے۔([3])
(4)امام محمد محفوظ ترمَسی جاوی شافعی مہاجر مکّی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش قریہ ترمَس، تحصیل ارجوسری، ضلع قاچیتان، مشرقی جاوا، انڈونیشیا1285ھ میں ہوئی اور وصال یکم رجب 1338ھ کو مکّۂ مکرّمہ میں فرمایا،معلیٰ قبرستان میں تدفین کی گئی۔ آپ حافظ و قاری، فقیہ و محدّث، مسندالعصر، مصنّف کتب، استاذ مسجدالحرام، متّقی و ورع، منکسرالمزاج، حسنِ اخلاق کے پیکر اور کثیرالتلامذہ تھے۔ دودرجن کے قریب کتب میں حاشیۃ الترمیسی، غنیۃ الطلبہ، بغیۃ الاذکیاء اور نيل المأمول اہم ہیں۔([4])
(5)شیخ سید فضل پاشا بن علوی ملیباری مکّی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش کالی کٹ، ملیبار، کیرالہ، جنوبی ہند کے علمی سادات باعلوی خاندان میں 1240ھ میں ہوئی اور 2رجب 1318ھ کو استنبول میں وفات پائی۔ تدفین مزار کمپلیس، استنبول، ترکیہ میں ہوئی۔ آپ علمائے ہند، یمن اور مکّہ سے مستفیض، دینی و دنیاوی علوم سے مالا مال، مجاہدِ آزادی ہند، مصنّفِ کتب، گورنر ظفار، جنوبی عمان، وزیرِ سلطنتِ عثمانیہ اور خاص و عام میں مقبول تھے۔ آپ کی20 کتب میں عقد الفرائد اور ایضاح الاسرار العلویہ اہم ہیں۔([5])
(6)بدرُالملّت و الدّین شیخ سیّد محمد بن ابراہیم غلایینی جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش محلّہ سمانہ نزد عقیبہ دمشق میں 1330ھ کو ہوئی اور23رجب1411ھ کو جدہ میں وصال فرمایا، معلیٰ قبرستان میں تدفین ہوئی۔ آپ فقہِ شافعی و حنفی کے ماہر، مسندالعصر اور مدرس و مفتی تھے۔ مولانا ضیاء الدین مدنی سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ اردن و دمشق میں تدریس و امامت کی اور زہد و فیاضی میں مشہور ہوئے۔([6])
شعبانُ المعظّم اسلامی سال کا آٹھواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور عُلَمائے اسلام کا وصال یا عُرس ہے، ان میں سے111کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ شعبانُ المعظّم 1438ھ تا 1446ھ کے شماروں میں کیا جا چکا ہے مزید6کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:
صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان:
(1)حضرت بشیربن عَنْبَس بن زیدانصاری ظَفَری علیہمُ الرِّضوان بہادرصحابی تھے،ان کا لقب فارس الحوّا (یعنی حوّا گھوڑے کے شہسوار) تھا۔ یہ غزوۂ اُحد سے قبل اسلام لائے، غزوۂ اُحد، غزوۂ خندق اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے، انہوں نے معرکۂ جِسْر (شعبان13ھ) میں جامِ شہادت نوش کیا۔ مشہور صحابی حضرت قَتادہ بن نعمان علیہمُ الرِّضوان آپ کے چچازاد بھائی تھے۔([7])
(2)حضرت ثابت بن عَتِیک انصاری علیہمُ الرِّضوان بنی عَمرو بن مبزول سے تھے، ان کی شہادت معرکۂ جِسر (شعبان13ھ یا15ھ) میں ہوئی۔([8])
اولیائے کرام و علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام:
(3)تلمیذِ بحرالعلوم علّامہ احمد انوارُ الحق فرنگی محلّی رحمۃُ اللہ علیہ سلسلہ قادریہ رزاقیہ کے شیخِ طریقت، صوفیِ باکمال اور ذِکر و اَذکار میں مشغول رہنے والے بزرگ تھے۔ ان کا وصال 6یا26شعبان 1236ھ مطابق 1821ء کو ہوا، لکھنؤ میں اپنے باغ میں دفن کئے گئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے پر دادا حافظ شاہ کاظم علی خان آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔([9])
(4)پیرِطریقت حضرت خواجہ سیّد گُلاب شاہ اورنگ آبادی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1264ھ میں ہوئی اور وصال 13شعبان 1355ھ کو فرمایا، مزارگاؤں اورنگ آباد، تحصیل جنڈ ضلع اٹک کے قبرستان میں ہے۔ آپ عالمِ دین، مدرّس، استاذُ العلماء، مرید و خلیفہ خواجہ شمسُ العارفین اور صاحبِ کرامت بُزُرگ تھے۔ زندَگی بھر درس و تدرس میں گُزاری، کابل، قندھار، غزنی چھچھ اور ہزارہ سے طلبہ آکر پڑھتے تھے۔([10])
(5)پیرِ طریقت ڈاکٹر محمد اللہ دتہ طالب کنجاہی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 12فروری 1886ء کو کنجاہ ضلع گجرات میں ہوئی اور وصال 11شعبان 1377ھ کو ہوا،تدفین مقام پیدائش میں کی گئی۔ ابتدائی زندگی میں آپ نے فوج میں اسسٹنٹ سرجن کی پوسٹ پر خدمات سرانجام دیں، پھر امیرِ ملّت علّامہ سیّد جماعت علی شاہ محدّث علی پوری سے بیعت و خلافت کی سعادت پائی۔ آپ پابندِ شریعت و سنّت، عاشقِ رسول، صاحبِ تصنیف اور اسلامی شاعر تھے۔([11])
(6)شمسُ الائمّہ امام بکر بن محمد انصاری بخاری رحمۃُ اللہ علیہ شیخُ الحنفیہ، مفتیِ بخارا، ابوحنیفہ صغیر اور حافظِ مذہبِ حنفیہ تھے۔ ان کی پیدائش 427ھ کو زَرَنْجَری نزد بخارا میں ہوئی۔شمس الائمہ عبدالعزیز حُلوائی اور دیگر علما و مشائخ سے عُلوم و فُنون میں مہارت پائی۔ صاحبِ ہدایہ شیخ علی بن ابوبکر فَرْغانی آپ کے ہی شاگرد ہیں، انہوں نے 19شعبان512ھ کو وصال فرمایا۔([12])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)
Comments