مطالعۂ قراٰن کی ضرورت و اہمیت
قراٰنِ کریم ربِّ کائنات کی طرف سے نازل ہونے والا ایسا دستورِ حیات ہے جو انسانیّت کے لیے ہدایت، رَحمت اور روشنی کا سرچشمہ ہے۔ یہ محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ عدل و انصاف، اخلاق و کردار اور فلاحِ انسانیّت کا کامل منشور ہے۔ ہماری دنیاوی و اُخروی کامیابی اسی کتاب سے مضبوط تعلّق رکھنے میں پوشیدہ ہے۔
قراٰنِ کریم کا مطالعہ صرف الفاظ کی تلاوت نہیں بلکہ روح کی غذا اور دل کے اطمینان کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں مقصدِ حیات سمجھاتا، کردار سنوارتا اور ظلمتوں میں راہِ ہدایت دکھاتا ہے۔ جب ہم غور و تدبر سے قراٰن کو پڑھتے ہیں تو گویا اپنے خالق سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ اس کا نور دل کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق بخشتا ہے تاکہ ہم دنیا کی حقیقت سمجھ کر آخرت کی کامیابی کے لیے تیّار ہو سکیں۔
تدبّر کا حکم:
قراٰنِ کریم خود اپنے مطالعہ کرنے والوں کو صرف تلاوت تک محدود رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ گہرے غور و فکر، تدبّر اور تفکّر کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں۔
(پ 5، النسآء: 82)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
صراطُ الجنان میں ہے:اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عِبادت ہے۔ امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔ (صراط الجنان، 2/258)
حضرت اِیاس بن مُعاویہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے۔(صراط الجنان، 1/34)
مطالعۂ قراٰن کی ضَرورت کیوں ہے؟
(1) ہدایت کا واحد ذریعہ:
ہماری زندَگی میں بے شمار چیلنجز اور سوالات ہوتے ہیں۔ قراٰنِ کریم ہمیں ہر مسئلے میں صحیح راہ دکھاتا ہے، حلال و حرام کی تمیز سکھاتا اور ہمیں زندَگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔
(2) اخلاقی تربیَت:
قراٰنِ پاک بہترین اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، جیسے سچّائی، امانت داری، عفو و درگزر، عدل و انصاف اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، مطالعۂ قراٰن سے ہم اپنے اخلاق کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
(3) ذہنی سکون اور قلبی اطمینان:
دنیا کی بے چینیوں اور پریشانیوں کے بیچ، قراٰن کے مطالعہ سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
(پ13، الرعد: 28)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(4) تاریخی واقعات اور عبرتیں:
قراٰن سابقہ اَقوام کے واقعات بیان کرتا ہے تاکہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں اور ان کی غلطیوں سے بچیں۔
(5) سائنس اور کائنات کے رازوں کی طرف اشارے:
قراٰن میں کائنات، انسان کی تخلیق اور قدرتی مظاہر کے بارے میں ایسے اشارے ملتے ہیں جو سائنسی تحقیقات کی بنیاد بنے۔
(6) شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچاؤ:
قراٰن کا علم ہمیں حق و باطل میں تمیز سکھاتا ہے اور شیطان کے وسوسوں اور فریب سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔
آج ضَرورت اس بات کی ہے کہ ہم قراٰن کو صرف بَرکت کے لیے نہ پڑھیں بلکہ سمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں۔ روزانہ چند آیات پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی عادت بنائیں۔ قراٰنِ کریم سے تعلّق ہی دلوں کو زندہ کرتا، معاشرے کو سنوارتا اور اُمّت کو متّحد کرتا ہے۔ اگر ہم نے قراٰن سے دوری ختم نہ کی تو ہم روشنی کے بجائے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔
یاد رکھیں! قراٰن ایک زندہ معجزہ ہے، جو ہماری مُردہ روحوں کو نئی زندگی بخش سکتا ہے۔ اس پر تدبّر کرنا اور اس کے احکامات پر عمل کرنا ہی ہماری دنیا اور آخِرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
اللہ پاک ہمیں قراٰنِ پاک پڑھ کر، سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments