مجلس کے حقوق


مجلس کے حقوق


اسلام نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے راہنمائی فرمائی ہے۔ مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے والے کے آداب بھی ‏ذکر کئے ‏ہیں تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اُٹھنا بیٹھنا حتی کہ ہر عمل اسلام کے اُصولوں کے مطابق ہو۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھیں تو جہاں ‏جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں،گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں، ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنے صحابہ  رضی اللہ عنہم  کو ‏مجلس میں بیٹھنے تک کے آداب  بتائے ‏ ہیں،  آئیے!  آپ بھی مجلس کے  6 حقوق و آداب  پڑھیے:

(1)دوسرےشخص کی جگہ نہ بیٹھاجائے:

‏مجلس کے آداب میں یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اُٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھا جائے ۔  رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس سے منع فرمایا کہ ایک شخص کسی کو ‏اس کی جگہ سے اُٹھا کر خود ‏اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ تمہیں چاہیے کہ دوسروں کے لیے جگہ کشادہ اور وسیع کردو۔‏ (بخاری،4/179 ،حدیث : 6270 )

(2)  جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائیں:

مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں اسے مجلس میں بیٹھنے کی جگہ ملے۔ چنانچہ حضرت  جابر بن سَمُرہ   رضی اللہ عنہما  فرماتے ‏ہیں:  ہم ‏جب حُضورِ ا کرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مجلس میں بیٹھ جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔‏( فیضان ریاض الصالحین، 6/361 ، ‏حدیث: 827‏)‏

(3)مجلس میں اللہ کا ذِکْر کیا جائے:

‏مومن کی کوئی مجلس الله پاک کے ذِکر سے خالی نہیں ہوتی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مجالس میں اللہ کے ذِکر و اَذکار میں مشغول ‏رہیں۔ رسولِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ اللہ کا ذِکر کیے ‏بغیر ‏مجلس سے اُٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اُٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا ‏باعث ہوگی ۔‏ (ابو داود،4/347 ، ‏حدیث : ‏‏4855 )‏

(4) مجلس میں بیٹھتے وقت سلام کیا جائے:

‏ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک ‏پہنچے تو ‏سلام کرے ۔ پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے ، پھر جب کھڑا ہو تو  پھر سلام کرے ۔‏( مشکاۃ المصابیح، 2/166، حدیث:4660 )‏

(5)   مجلس سے اِجازت لے کر اُٹھا جائے:

‏ مجلس کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی کسی مجلس میں جائیں یا اساتذہ و مشائخ اور دینی پیشواؤں کی مجلس ‏میں ‏جائیں تو وہاں سے  اِجازت کے بغیر نہیں جانا چا ہیے۔

(6)   مجلس کی جگہ کُشادہ رکھی جائے :

‏ مفسّرِ شہیر محدّثِ کبیر حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان  علیہ الرحمۃ  فرماتے ہیں : جب جلسہ مجلس وغیرہ کرو تو وسیع زمین میں کرو تاکہ لوگوں ‏کو بیٹھنے ‏میں تنگی نہ ہو آرام سے کھلے ہوئے بیٹھیں ایسی مجلس بہت مبارَک ہے۔‏(  مراۃ المناجیح، 6/386 )‏

‏لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس کے حُقوق و آداب کا خیال رکھیں، ہم مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچیں اور ان ‏کے لیے ‏جگہ کشادہ کریں،  ہم ہر اُس فعل سے بچیں کہ جس سے مجلس کے درمیان ہمیں کسی قسم کی شرمندگی کا ‏سامنا کرنا پڑے۔

اللہ ‏تعالیٰ سے دُعا ہے کہ کہ وہ ہمیں مجلس کے حُقوق و آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* (درجہ  ثالثہ ‏جامعۃُ  المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ‏)


Share