مریض کا علاج


مریض کا علاج

مسلم شریف میں ہے کہ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَاِذَا اُصِيْبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَاَ بِاِذْنِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ ترجمہ: ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچا دی جاتی ہے تواللہ پاک کے حکم سے مریض اچھا ہو جاتا ہے۔ ([1])

اس حدیث پاک کے پہلے حصے ”ہر بیماری کی دوا ہے“کا مفہوم ایک اور حدیث مبارک میں بھی بیان ہوا چنانچہ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا:مَا اَنْزَلَ اللہ دَآءً اِلَّا اَنْزَلَ لَہٗ شِفَآءًترجمہ: اللہ پاک نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کی شفا نہ اُتاری ہو۔([2])اس حدیثِ پاک میں بڑھاپے اور موت کا اِسْتِثْنَا نہیں کیا گیا کیوں کہ یہ حقیقت میں بیماریوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔([3])

شرح حدیث

امام نووی  رحمۃُ اللہ علیہ شروع میں بیان کردہ حدیث پاک کی وضاحت میں فرماتے ہیں: یہ حدیث پاک بالکل واضح ہے، کیونکہ طبیب حضرات کہتے ہیں کہ ’’بیماری‘‘ دراصل جسم کا اپنی قدرتی حالت سے ہٹ جانا ہے، اور ’’علاج ‘‘کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جسم کو دوبارہ اسی فطری حالت پر لوٹا دیا جائے۔ ’’صحت‘‘ کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کو اسی اعتدال پر قائم رکھے۔ یہ کام درست اور متوازن غذا سے اور دیگر مناسب تدابیر سے ہوتا ہے۔ اور جب انسان بیمار ہو جائے تو اسے ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جو بیماری کے اثر کے مخالف ہوں، تاکہ توازن بحال ہو جائے۔ مشہور طبیب بقراط بھی یہی کہتا ہے کہ اشیاء کا علاج ان کی ضد سے کیا جاتا ہے۔البتہ بعض اوقات بیماری کی حقیقت یا دوا کی اصل کیفیت اتنی باریک اور پوشیدہ ہوتی ہے کہ طبیب کے لیے اسے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں علاج میں غلطی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر طبیب یہ سمجھتا  ہے کہ بیماری کسی گرم مادے کی وجہ سے ہے، حالانکہ وہ کسی ٹھنڈے مادے سے پیدا ہوئی ہوتی ہے، یا وہ گرمی کے کسی دوسرے درجےکی وجہ سے ہوتی ہے، جس کا اندازہ غلط لگایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے شفا نہیں ہوتی۔

نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے کلام کے آخری حصے سے اشارہ ملتا ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ ”آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا کہ ہر بیماری کی دوا ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مریض علاج کراتے ہیں پھر بھی ٹھیک نہیں ہوتے“ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دوا کے نہ پائے جانے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس دوا کی حقیقت اور صحیح استعمال کے علم کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہی اس حدیث کا مفہوم ہے، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔([4])

فرشتے کی آڑ

شرح مِرقاۃ میں ہے:جب اللہ پاک کسی بیمار کی شِفا نہیں چاہتا تو دوا اور مَرَض کے درمیان ایک فِرشتے کے ذَرِیعے آڑ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے دوا مرض پر واقِع (یعنی لاگو) نہیں ہوتی، جب شِفا کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جس سے دوا مرض پر واقِع (یعنی لاگو) ہوتی ہے اور شِفا ہو جاتی ہے۔([5])

 امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ محمد الیاس عطّار قادری  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ لکھتے ہیں:ربِّ ذُوالجلال چاہے تو دوا شِفا کا ذَرِیعہ بنے ورنہ عین ممکِن ہے کہ وُہی دوا موت کا پیغام ثابت ہو! اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ماہرِ ڈاکٹر کی طرف سے ملنےوالی دُرُست دوا کے باوُجُود کسی مریض کو مَنفی اثر (REACTION) ہو جاتا اور وہ مزید شدید بیمار یا معذور ہوجاتا یا دم توڑ دیتا ہے اورپھر بعض لوگوں کی جَہالت کے باعِث بے چارے ڈاکٹر کی شامت آجاتی ہے۔([6])

علاج کروانا مستحب ہے

حضرت علامہ علی قاری  رحمۃُ اللہ علیہ امام نووی  رحمۃُ اللہ علیہ  کے حوالے سے لکھتے ہیں:یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ علاج کرانا مستحب (پسندیدہ) عمل ہے۔ یہی صحابۂ کرام اور بعد کے اکابر عُلما کی رائے ہے۔ اس میں ان لوگوں کارد بھی ہے جو علاج کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے فیصلے اور تقدیر سے ہوتی ہے، اس لیے علاج کی کوئی ضرورت نہیں۔ اکثراہلِ علم کی دلیل یہی احادیث ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ ہی دراصل سب کچھ کرنے والا ہے، اور علاج بھی اللہ کی تقدیر ہی کا ایک حصہ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے دعا کرنا، کفار سے جہاد کرنا یا ہلاکت میں اپنے آپ کو ڈالنے سے بچانا(یہ سب بھی تقدیر کے دائرے میں ہوتے ہوئے انسان کے ذمہ ہیں) اگرچہ موت کا وقت مقرر ہے اور تقدیر نہیں بدلتی (مگر اسباب کو اختیار کرنا بھی اللہ کے حکم سے ہے)۔

اس کے بعد علامہ علی قاری  رحمۃُ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:خلاصہ یہ کہ علاج کروانا توکل (یعنی اللہ پر بھروسا) کے منافی نہیں، بالکل اسی طرح جیسے بھوک مٹانے کے لیے کھانا کھانا یا پیاس بجھانے کے لیے پانی پینا توکل کے خلاف نہیں۔اسی لیے امام محاسبی نے فرمایا:”سچا توکل کرنے والا شخص بھی علاج کراتا ہے، کیونکہ وہ سید المتوکلین (یعنی رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی پیروی کرتا ہے۔“([7])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* استاذ المدرسین، مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])مسلم، ص933، حدیث:5741

([2])بخاری،4/16، حدیث: 5678

([3])عمدۃ القاری، 14/669۔ حاشیۃ السندی علی البخاری، 4/16، تحت الحدیث: 5678

([4])شرح صحیح مسلم للنووی،14/192

([5])مرقاۃُ المفاتیح، 8/288،تحت الحدیث: 4515

([6])نیکی کی دعوت، ص423

([7])مرقاۃ المفاتیح،8/289


Share