حضرت عمرو بن حریت رضی اللہ عنہما


حضرت عَمرو بن حُرَیث   رضی اللہ عنہما

کم عمری میں جن خوش نصیب بچّوں کو اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کےصحابی ہونے کا شرف ملا اُن میں حضرت عَمرو بن حُریث   رضی اللہ عنہما  بھی شامل ہیں، آئیے! ان کے بچپن کی مختصر سیرت پڑھ کر اپنے دِلوں کو محبتِ صحابۂ کرام سے روشن کرتے ہیں:

مختصر تعارف:

آپ کا شمار کم سِن صحابہ میں ہوتا ہے، آپ صحابیِ رسول حضرت حُرَیث بن عَمرو اور عَمْرَہ بنتِ ہشام کے بیٹے اور صحابیِ رسول حضرت سعید بن حُرَیث کے بھائی ہیں، آپ 2ہجری میں پیدا ہوئے، آپ پہلے قرشی ہیں کہ جنہوں نے کوفہ میں گھر بنایا تھا۔ ([1])

والدہ کے ساتھ حُضور کی بارگاہ میں حاضری:

آپ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے رسولِ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی بارگاہ میں لے کر گئیں تو آپ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے رِزْق میں بَرَکت کی دُعا سے نوازا۔([2])

تعدادِ روایات:

آپ سے 6احادیثِ مبارَکہ مروی ہیں۔([3])

سیاہ عمامہ باندھے دیکھا:

ایک روایت میں آپ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ بے شک وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہےکہ نبیِ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   منبر پر سیاہ عمامہ باندھے تشریف فرما ہیں، اور عمامے کے دونوں کنارے (شملے)آپ کے کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے تھے۔([4])

اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ (1)سیاہ عمامہ بھی حضورِ اکرم    صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   سے ثابت ہے (2)بغیر شملہ کا عمامہ سنّت کے خلاف ہے، شملہ ضَرور (ہونا) چاہیے (3)عمامہ کے دو شملے ہونا افضل ہے اور دونوں پُشت پر ہوں۔ حضور  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا اور شملہ ایک بالشت سے کچھ زیادہ۔([5])

وِصال:

حضورِ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے وصالِ ظاہری کے وقت آپ  رضی اللہ عنہ  8سال کے تھے، آپ  رضی اللہ عنہ  نے 85ھ میں  مکۂ مکرّمہ میں وفات پائی۔([6])

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])اسد الغابۃ، 4/226-الطبقات الکبیر لابن سعد، 6/534-  اکمال تھذیب الکمال، 10/149-فتح الباری، 6/212

([2])ادب المفرد، ص 177، حدیث:647

([3])اکمال تھذیب الکمال، 10/148

([4])مسلم، ص544، حدیث: 3312- مشکاۃ المصابیح، 1/272، حدیث: 1410

([5])دیکھیے:مراٰۃ المناجیح، 2/344ملخصاً

([6])اکمال تہذیب الکمال، 10/148، 149


Share