اسلام کا نظام مواخات(قسط:1)
دینِ اسلام نے اچھی زندگی گزارنے کے ایسے بیش بہا اصول اور طریقہ کار بتائے ہیں جن پرعمل کرنے سےایک مسلمان نہ صرف اسلامی احکامات کا پابندہوکر اخروی زندگی میں سرخرو ہوتا ہے بلکہ وہ دنیوی زندگی میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر معاشرے کے ایک عزت دار اوربااخلاق فرد کی حیثیت سے نمایاں بھی ہوتا ہے۔دینِ اسلام نے مسلمانوں کے آپسی تعلقات کو حسن وخوبی سے قائم رکھنے کے لیے اخوت، بھائی چارہ اور محبت کوعام کرنے کی تعلیم دی ہے۔اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ اخوت کیا ہے،یہ کیوں ضروری ہے اور معاشرے پر اس کے کیا کیا نتائج اثر انداز ہوتے ہیں۔
اخوت کیا ہے؟
عربی میں ”اُخُوَّة“ کا معنیٰ ہے بھائی ہونا، برادرانہ تعلق، بھائی چارہ وغیرہ۔لفظِ اخوت دو یا زیادہ افراد کے مابین محبت، اعتماد، خیر خواہی اور قربت پر مبنی ہوتا ہے، اخوت دو طرح کی ہوتی ہے ایک نسبی اور دوسری دینی و اسلامی۔ نسبی اخوت یہ ہے کہ قرابت اور رشتہ داری کی وجہ سے کچھ افراد آپس میں بھائی بھائی بنتے ہیں جبکہ دینی اخوت سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پر ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ رشتہ قائم ہو۔ یہ ایسا خوبصورت رشتہ ہے جس میں انسان رنگ و نسل، قومیت اور لسانیت کے بجائے صرف ایمان اور اسلام کی بنیاد پر ایک دوسرے کے بھائی قرار پاتے ہیں۔
حضرت امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ اخوت و محبت کے متعلق فرماتے ہیں:بھا ئی چارہ دو آدمیوں کے درمیان ایک رابطہ ہوتا ہے جیسے نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک رابطے کا نام ہے اور جس طرح عقدِنکاح کچھ حقوق کا تقاضا کرتاہے جن کو پورا کرنا حقِ نکاح قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے، عقدِ اخوّت کا بھی یہی حال ہے۔تمہارے اسلامی بھائی کا تمہارے مال اور تمہاری ذات میں حق ہے اسی طرح زبان او ر دل میں بھی کہ تم اس کو معاف کرو، اس کے لیے دعا کرو، اخلاص و وفا سے پیش آؤ، اس پر آسانی بَرتو اور تکلیف و تکلُّف کو چھوڑ دو۔ ([1])
قراٰن پاک میں مواخات کا تصور:
دین ِاسلا م میں اُخوت و بھائی چارے کو خاص اہمیت حاصل ہے،قراٰن و حدیث میں متعدد مقامات پر اسلامی اُخوت و بھائی چارہ قائم کرنے اور اختلافات مٹا کر آپس میں اتفاق واتحاد کے ساتھ رہنےکا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪
ترجَمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) ([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور فرمایا:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ
ترجَمۂ کنز الایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ارشاد فرمایا: مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہی ہیں کیونکہ یہ آپس میں دینی تعلق اور اسلامی محبت کے ساتھ مربوط ہیں اوریہ رشتہ تمام دنیوی رشتوں سے مضبوط تر ہے۔([4])
حدیث پاک اور مواخات:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسلامی بھائی چارے کی اہمیت اور افادیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔([5])مزید ایک روایت میں رشتۂ اخوت کے حقوق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم کرتا نہ اس کورُسوا کرتا ہے، جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اور جو شخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تو اللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُور فرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔([6])
صحابۂ کرام کے درمیان دوبار مواخات کا قیام:
اہلِ سیرت اورمغازی ذکر کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے درمیان دومرتبہ مواخات (یعنی بھائی چارہ) قائم ہوا۔ پہلا خاص طورپر مہاجرین کے درمیان ہجرت سے قبل ہوایہ ایک دوسرے کی مدد اور دین کے حقوق قائم کرنے پر تھا۔ اور دوسری مرتبہ جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہجرت فرما کرمدینۂ منورہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین اور انصارکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔([7])
مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات :
مہاجرین اپنے وطن اور اہل وعیال کو چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں نکلے تھے اس لیے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مہاجرین و انصار کے درمیان رشتۂ اخوت قائم کیا تاکہ مہاجرین غربت اور اہل وعیال کی مفارقت کو محسوس نہ کریں اور ایک دوسرے سے مدد حاصل کرسکیں۔مہاجرین کی تعداد پینتالیس یا پچاس تھی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فریقین میں سے دو دو افراد کو بلا کر فرمایا کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔آپ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ بھائی بھائی بن گئے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عَوف قرشی زُہری اور حضرت سعد بن ربیع انصاری خزرجی میں رشتۂ اخوت قائم کیا تو حضرت سعد نے حضرت عبدالرحمٰن سے کہا کہ انصارمیں میرے پاس سب سے زیادہ مال ہے۔ میں اپنا مال آپ کو بانٹ دیتا ہوں۔ میری دوبیویاں ہیں، ان میں سے ایک کو جو آپ پسند کریں میں طلاق دے دیتا ہوں،عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیجئے۔حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کے اہل و مال آپ کو مبارک ہوں، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، آپ روزانہ بازار میں تجارت کرتے رہے حتی کہ کچھ ہی عرصے میں مالدار ہوگئے۔([8])
یقیناً! مواخات (بھائی چارہ) اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے جو نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم کیا اس کا مقصد صرف وقتی ضرورت کو پورا کرنا نہیں تھا بلکہ ایک پائیدار اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھنا تھا۔آئیے! ہر نقطے کی تفصیل سے وضاحت ملاحظہ کیجیے:
مواخات کے مقاصد:
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت، مساوات، بھائی چارہ اور باہمی ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جب ہجرت کرکے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدینہ شریف تشریف لائے تو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بے گھر، بے مال اور بے سروسامان ہو گئی تھی۔اس کی بحالی کے لیے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک بہترین نظام مواخات کی بنیاد رکھی جس سے اسلامی، سماجی، اخلاقی اور معاشی فوائد و ثمرات حاصل ہوئے۔ مواخات کے نظام سے نہ صرف مہاجرین کی وقتی مدد ہوئی بلکہ ایک معاشرتی انقلاب بھی پیدا ہوا۔
(1)معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرنا:
مواخات کا سب سے پہلا مقصد معاشرتی ہم آہنگی قائم کرنا تھا۔ چونکہ مہاجرین مکے سے آئے تھے اور انصار مدینے میں رہتے تھے تو نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کے درمیان خلیج کو ختم کر کے انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا گیا۔ یہ مواخات ایک رسمی بھائی چارہ نہیں تھا بلکہ یہ سب عملی زندگی میں بھی ایک دوسرے کی خوشی غمی، دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے تھے اور اس نظام سے معاشرے میں نسلی، لسانی اور قبائلی امتیازات کا خاتمہ ہوا اور اسلامی معاشرے میں اتفاق و اتحاد اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہوئی۔
(2)محتاجوں کی مدد اور مساوات قائم کرنا:
مواخات کا دوسرا اہم مقصد معاشی مساوات قائم کرنا تھا۔ مہاجرین اپنے تمام اثاثے مکہ میں چھوڑ کر آئے تھے۔ وہ بے سہارا اور بے مال تھے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انصار کو ان کا بھائی مقرر کر کے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے مال و دولت میں مہاجرین کو شریک کریں۔ انصار نے اس حکم پر دل و جان سے عمل کیا۔ بعض نے اپنے آدھے باغات، گھر تک پیش کر دیئے تاکہ مہاجرین کی ضروریات پوری ہوں۔ اس عمل سے نہ صرف غربت کا خاتمہ ہوا بلکہ ایک مثالی مساوات پر مبنی معاشرہ قائم ہوا۔
(3)محبت اور بھائی چارے کا فروغ:
جب کوئی شخص کسی کو اپنا بھائی سمجھتا ہے تو اس سے حسد، نفرت،بغض و عداوت اور خود غرضی جیسی برائیاں نہیں کرتا۔نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نظامِ مواخات قائم کرنے کے بعد انصار نے کسی قسم کا احسان جتائے بغیر، خلوصِ دل سے مہاجرین کی مدد کی،جس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے قربت اور محبت پیدا ہوئی۔ یہ محبت،اخوت اور بھائی چارہ وقتی نہ تھا بلکہ نسلوں تک قائم رہنے والی بنیاد بن گئی۔
مواخات ایک ایسا عظیم عمل تھا جس نے اسلامی معاشرے کی بنیاد عدل، مساوات، محبت اور بھائی چارے پر رکھی۔ اس کے ذریعے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب تک ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوں گے،اس وقت تک ایک مضبوط اور متحد امت نہیں بن سکتے۔ آج بھی اگر ہم مواخات کے اس عظیم جذبے کو اپنائیں تو ہمارے معاشرے سے غربت، نفرت اور تفریق کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور ہم ایک مثالی اسلامی ریاست کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments