اسلام کا نظام طہارت ونطافت (قسط:02)

اسلام کا نظام طہارت و نظافت(قسط:02)


لِباس کی صفائی: اسلام نے جسم کی صفائی کے ساتھ ساتھ لِباس کو بھی صاف ستھرا رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ لباس نہ صرف ہماری زندگی کا اہم حصّہ ہے بلکہ یہ ہماری شخصیت کی عکّاسی کرتا ہے اور ہماری صحت کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔ صاف ستھرا لباس جلد کی بیماریوں اور مختلف قسم کی انفیکشنز سے بچاؤ کا باعث بنتا ہے۔ اگر لباس گندہ اور بدبودار ہو جائے تو یہ الرجی کا سبب بن سکتا ہے۔ گندے لباس سے جراثیم بھی پھیل سکتے ہیں، جومضر ِصحت ہو سکتے ہیں۔

قراٰن ِکریم میں نبیِ پاک  صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو مخاطَب کرتے ہوئے حکم فرمایا:

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ(۴)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ اے حبیب!  صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، آپ اپنے کپڑے ہر طرح کی نَجاست سے پاک رکھیں کیونکہ نَماز کے لیےطہارت ضَروری ہے اور نَماز کے علاوہ اور حالتوں میں بھی کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کے کپڑے عربوں کی عادت کے مطابِق زیادہ لمبے نہ ہوں کیونکہ بہت زیادہ لمبے ہونے کی وجہ سے چلنے پھرنے کے دوران کپڑے نَجِس ہونے کا اِحتمال رہتا ہے۔([2])

حضرت جابر  رضی  اللہ  عنہ  سے روایت ہے کہ  رسولُ  اللہ  صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے یہاں تشریف لائے، ایک شخص کو پَراگندہ سر دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، فرمایا: کیا اس کو ایسی چیز نہیں ملتی جس سے بالوں کو اکٹّھا کرلے اور دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے ایسی چیز نہیں ملتی، جس سے کپڑے دھولے۔([3])

گھر،گلی محلے کی صفائی: جسمانی صفائی ستھرائی کےساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر،علاقہ اور شہر کوبھی گندگی سے محفوظ رکھنا چاہیے کیونکہ گندگی انسان کی بری شخصیت اور بدسلیقہ ہونے کی تشخیص کرتی ہے۔لہٰذا روزانہ جھاڑو پونچھا اور گھریلو چیزوں کے اوپر جمع شدہ مٹّی کی صفائی کیجئےاور ہفتے یا مہینے میں گھر کے پنکھوں اور پردوں وغیرہ کی صفائی بھی کیجیے کہ گندے پنکھے جب رکتے ہیں  تو بہت بد نما لگتے ہیں،گھر کی صفائی کرکے کچرا گلی محلے میں نہ پھینکیں بلکہ کسی کچرا کونڈی میں یا ڈسٹبن میں ڈالئے، اسی طرح جہاں آپ کام کرتے ہیں دُکان یا دفتروغیرہ کی صفائی کا بھی خیال رکھئے اگر صفائی کرنے والاکسی دن نہ آسکے توخود اپنے بیٹھنے کی جگہ کرسی ٹیبل وغیرہ کی صفائی کرلیجئے،اسی طرح عوامی جگہوں مثلا ً بس اسٹاپ، اسٹیشن، بازار اور پارک وغیرہ پر بھی صفائی کا خیال رکھئے کچھ لوگ ان جگہوں پر چیزیں کھاکر ان کے چھلکے، ریپر اور ڈبے وغیرہ ایسے ہی پھینک دیتے ہیں جو دوسروں کے لیے باعثِ تکلیف ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر دکان، دفتر، گلی محلّے اور عوامی جگہوں کی صفائی کا خیال رکھیں گے تواس طرح ہمارا پورا شہر بھی صاف ستھرا ہوسکتا ہے۔

مسجد کی صفائی: اپنے جسم و لِباس اور گھر محلّے کی صفائی کے ساتھ ساتھ  اللہ  پاک کے گھر یعنی مسجدوں کو بھی صاف ستھرا  رکھنا چاہیے۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت ایسی ہے جو مسجد کے آداب سے نا آشناہے،عموماً لوگ وضو کے بعد مسجد کی دریوں اور فرش پرگیلے پیروں کے نشانات بناتے نیز ہاتھوں اور چہرے سے پانی کے قطرے ٹپکاتے چلے جاتے ہیں حالانکہ اَعضائے وُضو سے پانی کے قطرے فرشِ مسجِدپرگرانا ناجائز و گُناہ ہے۔([4])

مسجِد کی صفائی ستھرائی کاحکم دیتے ہوئے  اللہ  پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)

ترجَمۂ کنزالایمان:اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خُوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رُکوع و سُجود والوں کے لئے۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حکیم الاُمت مفتی احمد یارخان نعیمی  رحمۃُ  اللہ  علیہ  فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ مسجدوں کو پاک وصاف رکھا جائے۔ وہاں گندگی اور بدبُو دار چیز نہ لائی جائے۔([6])

مسجِد کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ نَمازی کو بھی صفائی اور زینت اختِیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ

ترجمۂ کنز الایمان: اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

صدرالافاضل مفتی سیِّدمحمد نعیم الدّین مُراد آبادی  رحمۃُ  اللہ  علیہ فرماتے ہیں:یعنی لِباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا، خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے اور سنّت یہ ہے کہ آدَمی بہتر ہَیئَت (یعنی عمدہ صورت و حالت)کے ساتھ نَماز کے لئے حاضِر ہو، کیونکہ نماز میں ربّ سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زِینت کرناعطر لگانا مُستَحب ہے۔([8])

غور کیجئے!اگرہمیں حکمرانوں، وزیروں،افسروں یا بڑے عہدہ داروں کے پاس جاناہوتوصاف ستھرا لباس پہنتے، عمامہ، چادروغیرہ درست کرتے اورخوشبولگاتے ہیں، مگر مسجد میں جانے کے لیے ایسا اہتمام نہیں کرتے، حالانکہ  اللہ  پاک تو تمام بادشاہوں کابادشاہ ہے،اس کی شان وعظمت تو سب سے بلند وبالاہے۔ اللہ  پاک ہمیں مسجد کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسجد کی صفائی کے ساتھ ساتھ خود بھی صاف اور خوشبودار لباس میں باجماعت نماز کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ29،المدثر:4

([2])مدارک، المدثر، تحت الآیۃ: 4، ص1296

([3])ابوداؤد،4/72، حدیث: 4062

([4])بہارِ شریعت،1/647

([5])پ1،البقرة: 125

([6])نور العرفان،پ1، البقرة، تحت الآیہ:125

([7])پ8،الاعراف:31

([8])خَزائنُ العرفان ص291


Share