اسلام کی نظریاتی تعلیمات

اسلام کی نظریاتی تعلیمات


اسلام اپنے ماننے والوں کی اُن کاموں کے بارے میں بھرپور رہنمائی فرماتا ہے کہ جن کا تعلّق عمل کے ساتھ ہے اس سے کہیں بڑھ کر اسلام نے نظریاتی تعلیمات پر زور دیا ہے اس لیے کہ عقیدہ اَساس اور بُنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ عقیدے کی اہمیّت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح بغیر بیج کے فصل نہیں اُگتی،بغیر جڑ کے پودا تناور درخت نہیں بن سکتا،بغیر اَساس و بُنیاد کے عمارت قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح عقیدہ و ایمان کی اصلاح کے بغیر اعمالِ صالحہ کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی،اچّھے اورنیک عمل کا ’’پھول ‘‘ درست ایمان و عقیدے کے بغیر کبھی بھی پھل بن کر آخِرت میں فائدہ نہیں دے سکتا۔اس لیے اسلام سب سے پہلے ایمان کا حکم دیتا ہے تاکہ  اللہ  کریم،اس کے پیارے رسول اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے اسے سچّے دل سے مان کر زبان سے اقرار کرے تاکہ ایمان کا بیج اس کے اعمال کی فصل کو برباد ہونے سے بچائے اور اس کی محنت رائیگاں نہ جائے۔قراٰنِ پاک میں اس حقیقت کو بہت سے مقامات پر بیان کیا گیا ہے جیسا کہ  اللہ  کریم پر ایمان نہ لانے والے لوگوں کے اعمال کو کہیں راکھ کی طرح،کہیں باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح تو کہیں سَراب (ویرانے میں دھوپ کے وقت پانی کی طرح چمکنے والی ریت) کہا گیا ہے کہ جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن کبھی بھی اس سَراب سے اپنی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ ہمارے پیارے نبی صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد یوں بیان فرمائے ہیں:اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهٖ، وَكُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ یعنی ایمان یہ ہے کہ تم  اللہ  پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قِیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچّھی، بُری تقدیر کو مانو۔ ([1])

اللہ  پر ایمان :

اسلام کےبنیادی عقائد میں سب سے پہلے  اللہ  پاک پر ایمان لانا ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ عقیدہ دیا ہے کہ  اللہ  ایک ہے۔ یاد رہے  اللہ  پاک گنتی اور ہندسے والا ایک نہیں ہے بلکہ وہ واحدِ حقیقی ہے جس کا مطلب واحدو یکتا اور تنہا ہے۔ وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا۔نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی رشتہ دار، وہ قبیلے و خاندان سے پاک اور سب سے بے نیاز ہے، ساری مخلوق کو اسی نے پیدا کیا ہے،سب اسی کے محتاج ہیں، وہ سارے عالَم کا پاک پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی تمام جہان کا بنانے والا ہے۔ انسان، جنّات، فرشتے، نباتات، آسمان، زمین، چاند، تارے،جاندار و بے جان سارے کے سارے اُسی ایک ” اللہ “ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ  کریم ہر عیب و نَقص اور بُرائی سے پاک ہے۔وہ ظاہر اور چُھپی ہرچیز کو جانتا ہے،کوئی بھی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسے اس کی ذات ہمیشہ سے ہے اِسی طرح اُس کی تمام صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔

فرشتوں پر ایمان:

فرشتے  اللہ  پاک کی ایسی مخلوق ہیں کہ جو مذکر و مؤنث ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں پر ایمان لانا لازمی ہے۔ان کی تعداد کتنی ہے یہ  اللہ  کریم ہی بہتر جانتا ہے۔ آسمانوں میں چار اُنگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں فرشتوں نے سجد ے میں پیشانی نہ رکھی ہو۔([2]) فرشتے نُور سے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ رسولُ  اللہ صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایاِ:خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ یعنی فرشتوں کو نُور سے پیدا کیا گیا ہے۔([3]) فرشتے نہ تو کچھ کھاتے ہیں اور نہ ہی پیتے ہیں۔ان کے دو دو، تین تین اور چار چار پَر ہیں۔([4])  اللہ  پاک نے انہیں یہ طاقت بھی عطا فرمائی ہے کہ یہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ فرشتے ہر قسم کے گُناہوں سے پاک ہیں۔جو حکمِ الٰہی ہوفرشتے و ہی کرتے ہیں۔  اللہ  کریم کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔مختلف فرشتے مختلف کاموں پر مقرّر کئے گئے ہیں جیسے کچھ نامَۂ اعمال لکھنے پر مقرر ہیں انہیں ”کراماً کاتبین“ کہتے ہیں۔ آٹھ فرشتے ایسے ہیں جو بروز ِقِیامت عرش اُٹھائیں گے۔ انیس فرشتے ایسے ہیں جو دوزخ پر مقرّرہیں۔کچھ فرشتےمُردوں سے سوالات کرنے پر بھی مقرّر ہیں۔ فرشتوں کے وُجود کا انکار قراٰنِ پاک کی کثیر آیات کاانکار ہےاور ایسا کرنے والا آدمی مسلمان نہیں رہتا۔

کتابوں پر ایمان :

اس کا مطلب یہ ہے کہ  اللہ  کریم نے اپنے رسولوں پر جو کتابیں اُتاری ہیں وہ سب حق ہیں۔([5]) جس طرح قراٰنِ پاک پر ایمان لانا ہرمُکَلَّف (عاقِل،بالِغ، مسلمان)پر فَرْض ہے اسی طرح اُن کتابوں پر اِیمان لانا بھی ضروری ہے جو  اللہ  کریم نے حضور صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے پہلے نبیوں پر نازِل فرمائیں،البتہ اُن کے جو اَحکام ہماری شریعت میں مَنْسُوخ ہو گئے اُن پرعمل دُرُست نہیں مگر اِیمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقدس قِبْلَہ تھا، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضَروری ہے مگر عمل یعنی نَماز میں بیتُ الْمقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، یہ حکم مَنْسُوخ ہو چکا۔([6])

رسولوں پر ایمان :

اس کامطلب یہ ہے کہ رسولوں نے جو خبریں  اللہ  پاک کے بارے میں دی ہیں ان تمام خبروں اور تمام باتوں کو حق مانا جائے۔([7])  اللہ  کریم کے دربار میں اَنبیاء  علیہم الصّلوٰۃُ والسّلام  کی بہت عزّت اور بڑامقام ہے۔ وہ  اللہ  کریم کے پیارے اور اس کے محبوب ہوتے ہیں، ان پر وحی نازل ہوتی ہے انہیں طرح طرح کے کمالات و معجزات عطا کئے جاتے ہیں ساری مخلوق میں سب سے افضل رُتبہ اَنبیائے کرام ہی کا ہوتا ہے حتّٰی کہ نبی فرشتوں سے بھی افضل ہوتے ہیں۔ اَنبیاء  علیہم الصّلوٰۃُ والسّلام تمام مخلوق سے افضل ہیں، ان کی تعظیم و توقیر یعنی عزّت و احترام فرض اور ان کی اَدنیٰ توہین و گستاخی یا تکذیب یعنی انہیں جھٹلانا کفر ہے۔ آدمی جب تک ان سب اَنبیاء  علیہم الصّلوٰۃُ والسّلام کو نہ مانے مومن نہیں ہوسکتا۔شیطان  اللہ  کریم کے پیارے نبی آدم  علیہ السّلام کی بے اَدبی اور گستاخی کرنے ہی کی وجہ سے لعنتی قرار دیا گیا۔

آخِرت پر ایمان :

توحید کے بعددوسری صفت جو ہر زمانے میں تمام اَنبیاء  علیہم الصّلوٰۃُ والسّلام پر مُنْکَشِف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے وہ آخرت پر یقین رکھنا تھا کیونکہ دین کا پہلا بنیادی اُصول یہ ہے کہ ہمارا رب صرف  اللہ  ہے جس کی عبادت کی جانی چاہیے اوردوسرا بنیادی اُصول آخرت پر یقین رکھنا ہے جسے سورۃُ البقرہ کی پہلی ہی آیت میں ترتیب کے ساتھ اس طرح فرمایا گیا ہے کہ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں) اور وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴) (ترجمۂ کنز الایمان:اور آخرت پر یقین رکھیں)اور ایسے ہی لوگوں کو ان ہی آیات میں مُتَّقِین (ڈر والے) کے لقب سے نوازا گیا ہے اور بلند مرتبہ کتاب (قرآن) ایسے ہی ڈر والوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی گئی ہے۔([8]) آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دین اسلام میں کوئی معنیٰ نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَبْعَد(یعنی بعید و ناممکن) سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے۔

تقدیر پر ایمان:

دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی، بَدی وہ سب  اللہ  تعالیٰ کے علمِ ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب  اللہ  تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔([9])حضوراکرم صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے تقدیر کا انکار کرنے والوں کو اس ”اُمّت کا مجوس“ قرار دیا ہے۔([10])حضرت سیّدنا ابوہریرہ  رضی  اللہ  عنہ  نےفرمایا کہ حضورِ اکرم صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلۂ تقدیر پر بحث کررہے تھے تو آپ صلَّی  اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم ناراض ہوئے حتّٰی کہ چہرہ ٔ انور سُرخ ہوگیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیئے گئے ہیں اور فرمایا :کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیاہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کئے تو ہلاک ہی ہوگئے میں تم پر لازِم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔([11])



([1])مسلم،ص21،حدیث :8

([2])ترمذی، 4/141،حدیث: 2319

([3])مسلم،ص1221،حدیث:7495

([4])پ22،الفاطر:1

([5])فتح الباری،2/108،تحت الحدیث:50

([6])خزائن العرفان، پ1، بقرہ،تحت الآیۃ:4

([7])فتح الباری، 2/108، تحت الحدیث:50

([8])عقیدۂ آخرت،ص12

([9])کتاب العقائد،ص24

([10])ابو داؤد،4/294،حدیث:4691

([11])ترمذی،4/51،حدیث:2140


Share