ارکان نماز کی حکمتیں
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

ارکانِ نماز کی حکمتیں


علمائے کِرام نے ارکانِ نَماز کی متفرّق حکمتیں بیان کی ہیں۔ جن میں سے چند حکمتیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

یہ فطری دستور ہے کہ جب انسان کسی اعلیٰ مرتبے والے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے اعضاء کو بِلاضَرورت حرکت نہیں دیتا کہ بلاوجہ حرکت کرنا بُرا سمجھا جاتا ہے۔ اگر مخلوق کا یہ حال ہے تو اب اگر بندہ اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہونے لگے تو اسے کیسا ہونا چاہئے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خوفِ خدا کا خُوگر اور زیادہ متّقی ہوگا۔اس کے علاوہ اسے چاہیے کہ وہ دل کو متوجّہ رکھے اور اللہ پاک کے سوا ہر چیز کا خیال دل سے نکال دے، اعلیٰ حضرت کے والدمحترم،حضرت علامہ مفتی نقی علی خان  رحمۃُ اللہ علیہ نماز کے اَسرار لکھتے ہوئے بارگاہِ رَبوبیت میں قِیام کرنے کے متعلّق فرماتے ہیں: (نماز میں کھڑا ہو تو ساری توجہ نماز کی طرف ہونی چاہئے کہ)جو بات دل میں ہوتی ہے اس کا اثر اقوال وافعال میں ظاہر ہوتا ہے۔ اثر قولی یہ ہے کہ زبان سے کہتا ہے : اللہ اکبر،اللہ بہت بڑا ہے۔ علما فرماتے ہیں: جو تکبیر کے معنیٰ نہیں جانتا سخت جاہل ہے اور جو جان کر خدا کے حضور اپنے نفس یا دوسرے کی طرف مائل ہے وہ چیز اس کے نزدیک خدا سے زیادہ بڑی اور اس نامُراد کی مراد ہے اصلی ومعبود حقیقی ہے۔ اور اثر فعلی یہ ہے کہ اس کے حضور بکمال خشوع و خضوع سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے، چنانچہ اس مقام میں تین باتوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے : اوّل: اس کھڑے ہونے کو خدا کا احسان سمجھے کہ مجھ سے ناچیز کو اپنے دربار میں بلایا اور کھڑے ہونے کی اجازت دی، جان ودل اس عنایت پر قربان کرے تو بجا ہے اور ہر طرح کی دولت کو اِس دولت کے مقابلہ میں خاک سمجھے اور اس پر لات مارے تو زیبا  (اچھا)۔نہ یہ کہ اپنا کمال سمجھے اور بادشاہ حقیقی پر ناز کرے۔دوم : بندۂ گناہگار ذلیل وخوار کی طرح جس کے قصور سے اس کا مالک آگاہ ہے، شرمندگی سے سر جھکائے رہے اور اپنی اس حالت کو گویا یوں سمجھے کہ ایک دن اسی طرح اس کے حضور کھڑا ہونا اور اپنی نافرمانیوں کا جو عمر بھر کرتا رہا حساب دینا ہے۔ سوم: جس طرح نگاہ ظاہر قدم پر رکھتا ہے روئے باطن جنابِ اَحدیت کی طرف رکھے، کسی طرف منہ پھیرے نہ دل کو غیر کی طرف متوجّہ کرے، گویا اسے بادشاہ جبّار کے سامنے کھڑا کیا ہے اور حکم دیا ہے اگر گردن ہلائے گا مارا جائے گا۔ ([1])

چہرے کو زمین پر رکھنے یعنی سجدہ کرنے میں بڑی حکمت ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کا سب سے معزّز حصّہ ہے، اسے زمین پر رکھ کر انسان اپنے رب کے سامنے عاجزی اور تواضع کا اظہار کرتا اور اپنے دل کو دنیاوی وقار سے ہٹاتا ہے تاکہ اللہ کی بارگاہ میں عزّت پائے۔ کیونکہ ذلّت اس کے سامنے فخر ہے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا عزّت اور شان ہے۔ اس میں ایک معنیٰ ہے ناک کو ذلیل کرنا جو تکبّر اور شان و شوکت کا گڑھ ہے، اسے ذلیل کرنے کے لیے خاک پر چڑھا دینا۔ کیونکہ خاک، جو گندگی ہے، سب سے گھٹیا چیز ہے۔ تو گویا وہ شخص کہہ رہا ہے کہ اے رب میں نے اپنے جسم کا سب سے معزّز حصّہ جو کہ میرا چہرہ ہے، سب سے گھٹیا چیز پر رکھا ہے اور میں تیرے حضور کھڑا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تو رب الارباب ہے اور باقی سب تیرے غلام ہیں، تیری قُدرت کے سامنے عاجزی، تیری رحمت کا طالب اور تیرے اختیار کے تابع ہوں۔([2])

حکیم الاُمَّت مفتی اَحمد یار خان  رحمۃُ اللہ علیہ نَماز کے ارکان  کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: نمازمیں چار چیزیں پڑھی جاتی ہیں اور چار کام کئے جاتے ہیں: (1)قرآن (2)تسبیحیں (3)دُرود شریف اور(4) دُعائیں تو پڑھی جاتی ہیں اور (1) قِیام (2) رُکوع (3)سجدہ (4)قُعود کئے جاتے ہیں۔

ان چاروں کاموں میں دو حکمتیں ہیں:ایک یہ کہ انسان میں چار وَصف ہیں وہ جماد(یکساں حالت میں رہنے والا) بھی ہے نامی (بڑھنے والا)بھی، حیوان بھی ہے انسان بھی۔ جَماد (جیسے پہاڑ، زمین) کی (طرح) عبادت میں بیٹھا رہتا ہے، حیوان کی اصل عبادت رکوع میں رہنا ہے، نَبات (گھاس پوس)کی بندگی سجدہ اور انسان کی بندگی قِیام۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے۔ لہٰذا نماز میں ان چاروں عبادات کو جمع کر دیا گیا، نیز یہ چاروں وصف انسان کے لئے رب سے دوری کا باعث بنے گویا انسان چار درجے نیچے اُترا اس کی ترقّی کے لئے چار کام مقرّر کئے گئے۔ دوسرے یہ کہ انسان میں آگ، پانی، ہوا، مٹّی جمع ہے، آگ کی خاصیت تکبّر و غرور ہے، اسی لئے وہ اوپر کو بھاگتی ہے، دیکھو شیطان آدم  علیہ السّلام  کے آگے نہ جھکا، پانی کا کام ہے پھیلنا، خاک کی تاثیر جُمود اور بے حسی ہے، ہوا کی تاثیر شہوت ہے، گویا انسان ان چار مفردوں کا معجون مرکّب ہے اور مفردات کا اَثر معجون میں ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان میں یہ چاروں عیوب موجود تھے، ان کے دفعیہ (علاج)کے لئے یہ چار ارکان نماز میں قائم کئے گئے اور ان ارکان کو اللہ پاک کے مختلف ذکروں سے پُر کیا گیا تا کہ ان عیوب سے پاکی حاصل ہو جس کا بیان اس آیت میں ہے:

اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-

ترجمۂ کنز الایمان : بیشک نماز منع کرتی ہے بے حَیائی اور بُری بات سے۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْؕ-لَىٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ

ترجمۂ کنز الایمان : اور اللہ نے فرمایا بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں ضَرور اگر تم نماز قائم رکھو۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

رُکوع و سُجود کی چند حکمتیں اور فوائد امیر اہلِ سنّت  دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے بھی اپنی کتاب فیضانِ نماز میں کچھ یوں ذکر فرمائی ہیں: نماز میں بہترین ورزش ہے کہ اس کے قِیام میں، رکوع اور سجدے وغیرہ کرنے سے بدن کے اکثر جوڑ (Joints) حرکت کرتے ہیں، نزلہ زُکام کے مریض کے لیے طویل (یعنی لمبا) سجدہ نہایت مفید ہے، سجدے سے بند ناک کھلتی ہے، آنتوں میں جمع ہونے والے غیر ضروری مواد کو سجدے سے حرکت ملتی  اور اس کا اخراج آسان ہوتاہے۔([5])

جواہر البیان میں دیگر ارکانِ نماز کے بَرعکس ہر رَکْعت میں دو سجدوں کے فرض ہونے کی حکمتیں کچھ یوں بیان کی گئی ہیں: (1) سجدہ بمنزلۂ شاہد دعویٰ ایمان ہے، حدیث میں ہے : سجدہ کا نشان قیامت کے روز پیشانی پر چمکے گا اور ثبوتِ دعویٰ کے لئے شرع میں دو گواہ عادل مقرر ہیں (2) یا ایک سجدہ سے عبادت جسم اور دوسرے سے عبادت روح کی طرف اشارہ ہے (3)یا پہلا سجدہ بنظرِ عظمت وجلال مولیٰ اور دوسرا اظہار اپنی عجز وذلّت کا ہے (4)یا پہلا شکرِ معرفت اور دوسرا اظہارِ خدمت (5)یا پہلے سے اس مضمون کی طرف کہ آدمی زمین سے پیدا ہوا اور دوسرے سے اس بات کی طرف کہ انجام کار زمین میں جائے گا، اشارہ ہے گویا نمازی دونوں سجدہ سے آیت کریمہمِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ (ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے) کے مضمون کا اِقرار کرتا ہے (6)یا پہلا اِمتثالِ اَمر اور دوسرا ترغیمِ شیطان (یعنی شیطان کو ذلیل و رُسوا کرنے کے لیے)ہے کہ اس نے سجدہ سے تکبّر کرکے تمام محنت وریاضت اپنی برباد کی (7)مبسوط میں ہے دونوں سجدے شیطان کی ترغیم اور اس کے جلانے اور ذلیل کرنے کے واسطے ہیں کہ اسے سجدہ کرنے کا حکم ہوا،نہ بجا لایا ہم اس فعل کو بار بار کرتے ہیں۔یعنی اس نے اگرچہ لاکھوں بار سجدہ کیا مگر سجدہ ہی کے انکار سے ملعون ہوا جب ہم اس فعل کو بتکرار کریں گے اور اس کے عوض ثواب عظیم پائیں گے بِالضرور اسے ندامت اور اپنے انکار پر حسرت ہوگی۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہٖ حدیث سے ثابت کہ جب بندہ سجدۂ تِلاوت کرتا ہے شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خرابی! اسے سجدہ کا حکم ہوا بجا لایا، جنت  کا مستحق ہوا میں نے انکار کیا اور دوزخی ہوا۔([6])سجود سَہْو کی نسبت ارشاد ہوا: دونوں سجدے شیطان کی ذلّت وخواری ہوں گے۔ (8)اور شیخ الاسلام تکرار سجود میں یہ نکتہ لکھتے ہیں کہ جناب باری تعالیٰ نے جب بنی آدم سے میثاق (پُختہ عہد) لیا سجدہ کا حکم کیا تا کہ فعل قول کے مطابق ہو، مسلمان سجدہ میں گئے کافر نہ کر سکے جب مسلمانوں نے سجدہ سے سَر اُٹھایا اور اپنے کو اس دولتِ عظمیٰ سے مخصوص پایا تو فیقِ الٰہی کا شکر سجدہ کے ساتھ کیا، وہی دو سجدے نماز میں مقرّر ہوئے۔([7])

نماز کے اختتامیہ یعنی خُروج بِصُنعہٖ کے متعلّق مفتی نقی علی خان  رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پھر اپنے اور اپنے والدین اور مسلمانوں کے لئے دُعائے مغفرت اور حاضران دربار کو سلام کرکے رخصت ہوتا ہے: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحمَۃُ اللہ،نَسْئَلُ تَوْفِیْقَ الْعَمَلِ مِنَ اللہ۔([8])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* (چیف ایڈیٹر ماہنامہ خواتین دعوتِ اسلامی (ویب ایڈیشن))



([1])جواہر البیان، ص 52

([2])حکمۃ التشریع وفلسفتہ، 1/ 77

([3])پ21، العنکبوت: 45

([4])پ6، المآئدۃ: 12،رسائل نعیمیہ، اسرار الاحکام، ص 285

([5])فیضان نماز، ص 28

([6])مسلم، ص58،حديث: 244

([7])جواہر البیان، ص68 تا 69

([8])جواہر البیان، ص61


Share