باجماعت نماز کی حکمتیں
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


باجماعت نماز کی حکمتیں

بِلاشُبہ باجماعت نَماز اسلامی شعار ہے جس میں ایمان کی حَرارت، بندگی کی روح اور اُمّت کے اتّحاد کی حقیقت جلوہ گر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کو   انفرادی عبادت کے ساتھ ساتھ  اجتماعی نظامِ عبادت کا بھی  پابند بنایا ہے تاکہ بندگی محض ذاتی کیفیت نہ رہے بلکہ اُمّت کی اجتماعی شان بن جائے۔ قراٰنِ کریم نے جماعت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان:اور رُکوع کرنے والوں کے ساتھ رُکوع کرو۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اجتماعی عبادت کی اہمیّت کی ترغیب دلاتے ہوئے حضور نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ اَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے پڑھنے سے 27 درجے زیادہ افضل ہے۔([2]) اس روایت میں گویا اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ بندہ اپنی نَماز کو محض فرض کی ادائیگی نہ سمجھے بلکہ نظمِ اُمّت کی عملی مشق کے طور پر اَدا کرے۔ یہاں چونکہ باجماعت نَماز کی فضیلت بیان کرنے کے بجائے باجماعت نَماز کی حکمتیں بیان کرنا مقصودہے۔ لہٰذا آئیے! اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ باجماعت نَماز کی ادائیگی کا جو ہمیں حکم دیا گیا ہے، اس میں کیا کیا حکمتیں کارفرما ہو سکتی ہیں:

باجماعت نَماز کی ادائیگی  کی حکمتوں کا ذکر کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: جماعت میں دینی یا دنیوی بہت سی حکمتیں ہیں: دنیاوی حکمتیں تو یہ ہیں کہ *جماعت کی بَرَکت سے قوم میں تنظیم رہتی ہے کہ مسلمان اپنے ہر کام کے لیے امام کی طرح صدر اور امیر چُن لیا کریں،*پھر امیر کی ایسی اطاعت کریں جیسے مقتدی۔ *امام کی جماعت سے آپس میں اتّفاق بڑھتا ہے، روزانہ پانچ بار کی ملاقات کی عادت پڑتی ہے کہ سب لوگ جماعت کے وقت پر دوڑتے آتے ہیں۔ *جماعت سے متکبّرین کا غرور ٹوٹتا ہے کہ یہاں بادشاہ کو فقیر کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

دینی فائدے یہ ہیں کہ اگر جماعت میں ایک کی نَماز قبول ہوگئی تو سب کی قبول ہے۔جماعت میں گویا مسلمانوں کا وفد بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ حاکم کے یہاں تنہا کے مقابل وفد کا زیادہ احتِرام ہوتا ہے۔*جماعت میں انسان رب کی کچہری میں وکیل یعنی امام کے ذریعے عرض ومعروض کراتا ہے، بات کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ *جماعت سے آدمی کو دینی پیشوا علما، صوفیا کا اَدب سکھایا جاتاہے۔

مزید جُمعہ  کی جماعت  کے فرض ہونے کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پنجگانہ جماعت محلّہ بھر کی کانفرنس ہے اور جمعہ کی جماعت سارے شہر یا اکثر حصّہ کی۔ پنجگانہ جماعت فرض کرنے میں مسلمانوں پر دشواری ہو جاتی ہے کہ جنگل کھیت وغیرہ سے بھاگ کر شہر آنا پڑتا۔ چونکہ جمعہ ہفتہ میں ایک بار آتا ہے تو اس کے لیے آنا اتنا گِراں نہ ہو گا۔ ([3])

اعلیٰ حضرت کے والِدِمحترم،حضرت علّامہ مفتی نقی علی خان  رحمۃ اللہ علیہ نے باجماعت نَماز کی جو حکمتیں بیان کی ہیں، ان کا خُلاصہ پیشِ خدمت ہے:مشروعیّت جماعت کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کسی کی نَماز میں مثلًا خُشوع اور کسی کی خُضوع اور کسی کا ذوق و شوق اور کسی کی رعایت بندگی اور کسی کی ہیبت و وقار زیادہ ہے۔ ان سب کی کیفیات کے ملنے سے نمازِ جماعت ایک ایسی اجتماعی کیفیت پیدا کرتی ہے جو انفرادی طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ (گویا مختلف دلوں کی روحانیت، خشیت، محبّت اور بندگی مل کر ایک کامِل عبادت کی صورَت اختیار کر لیتی ہے۔)

عُلَما فرماتے ہیں نَمازِ جماعت میں چار فائدے ہیں :

(۱) نمازیوں میں باہم دوستی ومحبّت پیدا ہوتی ہے اور ہر ایک دوسرے کے حال سے واقِف ہوتا رہتا ہے۔ (اور يوں بھائی چارے کی فضا مضبوط ہوتی ہے۔)

(۲) جب انسان دوسروں کو عِبادت میں مصروف دیکھتا ہے تو اسے بھی عِبادت میں لُطف اور جوش پیدا ہوتا ہے، اور شیطان کے وَسوسے کمزور پڑ جاتے ہیں۔

(۳)جماعت میں اہلِ ایمان کے دلوں کی تاثیر ایک دوسرے پر پڑتی ہے اور نیک لوگوں کی صحبت گُناہگاروں کے لیے بھی مغفرت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

کیونکہ نیک لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔

 (۴) اجتماعِ مسلمین بَرَکات اور دینی فوائد کے حُصول کا باعث ہے: مثلًا *جاہل؛ عُلَما سے مسائل سیکھتے ہیں۔*اور بے شوقوں کو اہلِ محبّت کا شوق دیکھ کر خدا کی بندگی کا شوق اور خائفین کے خُضوع و خُشوع دیکھنے سے اوروں کے دل میں بھی خوف پیدا ہوتا ہے۔*بیباک اہلِ احتِیاط کی احتِیاط دیکھ کر بے احتِیاطی وبیباکی سے باز آتے ہیں۔([4])

اَلْغرض کہا جا سکتا ہے کہ باجماعت نماز دَرحقیقت شریعتِ اسلامیہ کی اُس جامع حکمت کا مظہر ہے جو دنیا و آخِرت دونوں کی بھلائیوں کو جمع کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں انسان اپنی اَنانیّت کو مٹا کر صفِ جماعت میں سب کے برابر کھڑا ہوتا ہے، جو مَساوات، اتّحاد اور عدلِ اجتماعی کا عملی سبق ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امیر و فقیر، عالم و عامی، سردار و مزدور سب ایک صَف میں اللہ کے سامنے جھک کر اپنے تعلّقِ بندگی کو تازہ کرتے ہیں۔ اس اجتماعیت سے فرد کو روحانی طمانیت، باطنی سُکون اور دینی استقامت حاصل ہوتی ہے، جبکہ معاشرہ اتّحاد، نظم و ضبط اور باہمی ہمدردی کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

پس نَمازِ باجماعت نہ صرف ایمان و اخلاص کا مَظْہر ہے    بلکہ اسلامی تہذیب کے تسلسل کی ضامن بھی ہے؛ جو انسان کو اللہ کے حکم اور اس کے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سنّت اور شریعت کی حکمتوں پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخِرت کی کامیابیوں کا مستحق بناتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(چیف ایڈیٹر ماہنامہ خواتین دعوتِ اسلامی (ویب ایڈیشن))



([1])پ2، البقرۃ:43

([2])مسلم، ص256، حدیث: 1477

([3])رسائل نعیمیہ، اسرار الاحکام، ص 288 تا 289

([4])جواہر البیان فی اسرار الارکان، ص 69


Share