حضرت سیدنا یوسف علیہ السَّلام پر آزمائشیں(قسط:4)
یوسف علیہ السلام کنویں میں:
سب نے اتّفاق کرلیا کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام کو تاریک کنویں میں ڈال دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کیا۔ یہ کنواں کَنعان سے تین فرسنگ (یعنی 9میل) کے فاصلہ پراُرْدُن کی سرزمین کے اَطراف میں واقع تھا، اوپر سے اس کا منہ تنگ تھا اور اندر سے کُشادہ، حضرت یوسف علیہ السَّلام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر قمیص اُتار کر کنوئیں میں چھوڑا،جب وہ اس کی نصف گہرائی تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تاکہ حضرت یوسف علیہ السَّلام پانی میں گر کر ہلاک ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل امین علیہ السَّلام پہنچے اور انہوں نے آپ کو کنویں میں موجود ایک پتّھر پر بٹھا دیا اور آپ کے ہاتھ کھول دیئے۔ ([1])
جھوٹا عذر:
مفسّرین فرماتے ہیں کہ جب بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السَّلام کو کنویں میں ڈال دیا تو رات کے وقت اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السَّلام کی طرف لوٹے تاکہ رات کے اندھیرے میں انہیں جھوٹا عذر پیش کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو، جب وہ حضرت یعقوب علیہ السَّلام کے مکان کے قریب پہنچے تو انہوں نے رونا اور چیخنا چلّانا شروع کر دیا، حضرت یعقوب نے چیخنے کی آواز سنی تو گھبرا کر باہر تشریف لائے اور فرمایا: اے میرے بیٹو !میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں بکریوں میں کچھ نقصان ہوا؟ انہوں نے کہا :نہیں۔ پھر فرمایا:تو کیا مصیبت پہنچی اور یوسف کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اے ہمارے والد! ہم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ لگا رہے تھے کہ ہم میں سے کون آگے نکلتا ہے، اس دوڑ کے چکر میں ہم دُور نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، اسی دوران جب ہم یوسف سے غافِل ہوئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور ہمیں علم ہے کہ آپ یوسف سے شدید محبّت کی وجہ سے کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچّے ہوں اور ہمارے ساتھ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ایسی دلیل و علامت ہے جس سے ہماری سچّائی ثابت ہو۔([2])
یعقوب علیہ السَّلام بے ہوش ہوگئے:
جب حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے یہ خبر سنی تو بے ہوش ہو گئے، بیٹوں نے آوازیں دیں، ہلایا جلایا مگر جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی،چہرے پر پانی چھڑکا لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا حضرت یعقوب علیہ السَّلام کو سحر کے وقت ہوش آیا تو روتے ہوئے فرمایا: میری آنکھوں کی ٹھنڈک یوسف کہاں ہے؟([3]) بیٹوں نے بکری کے ایک بچّے کو ذبح کر کے اس کا خون حضرت یوسف علیہ السَّلام کی قمیص پر لگا دیا تھا لیکن قمیص کو پھاڑنا بھول گئے،([4])وہ قمیص لے آئے اور کہنے لگے: یہ یوسف کی قمیص ہے([5]) حضرت یعقوب علیہ السَّلام وہ قمیص اپنے چہرۂ مبارک پر رکھ کر بہت روئے اور فرمایا: عجیب قسم کا ہوشیار بھیڑیا تھا جو میرے بیٹے کوتو کھا گیا اور قمیص کو پھاڑا تک نہیں۔ مزید فرمایا: حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے ایک بات گھڑ لی ہے تو میرا طریقہ عمدہ صبر ہے اور تمہاری باتوں پر اللہ تعالیٰ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔([6]) پھر فرمایا: اگر یوسف زندہ ہے تو اسے میرے پاس لے آؤ میں تم سے راضی ہوجاؤں گا اگر وہ اس دنیا سے جاچکا ہے تو میں اسے کفن دینا چاہتا ہوں، جس بھیڑیے نے اسے کھایا ہے اسے میرے پاس لے آؤ۔([7])
بھیڑیے سے کلام کیا:
آخِر کاربیٹوں نے ایک بھیڑیے کو پکڑا اور حضرت یعقوب علیہ السَّلام کی خدمت میں لے آئے اور کہنے لگے : یہ وہ بھیڑیا ہے جس نے یوسف کو کھایا ہے، آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور اس سے پوچھو: اس نے یوسف کو کیوں کھایا ہے ؟ بیٹوں نے اس سے سُوال کیا تو اس بھیڑیے نے کوئی جواب نہ دیا، آپ علیہ السَّلام نے بھیڑیے سے فرمایا: تو انہیں کوئی جواب کیوں نہیں دے رہا؟ تو بھیڑیے نے عرض کی: میں انہیں جواب نہیں دوں گا کیونکہ یہ مجرم ہیں البتہ ! آپ سُوال کریں گے تو ضَرور جواب عرض کروں گا، آپ علیہ السَّلام نے پوچھا: تو بھیڑیا عرض کرنے لگا: اے اللہ کے نبی !میں نے آپ کے بیٹے کو نہیں کھایا اللہ نے انبیائے کرام کا گوشت درندوں پر حرام کردیا ہے ( یعنی درندوں کو اللہ نے یہ طاقت اور ہمت نہیں دی کہ وہ انبیائے کرام کا شکار کریں اور ان کا گوشت کھائیں)، پوچھا:پھر اس قمیص پر یہ کیسا خون ہے ؟ بھیڑیے نے عرض کی : آپ مجھ سے اس بارے میں مت پوچھیں، آپ علیہ السَّلام نے پھر فرمایا: تم کہاں جاؤگے؟ بھیڑیا بولا: میں تو چاہتا ہوں کہ مغرب میں اپنے بھائی کو دیکھ لوں، یہ سُن کر آپ علیہ السَّلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: یہ ایک درندہ ہے اور بھائی کو دیکھنا چاہتا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ تم نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کیا سُلوک کیا۔([8])
غم اور بڑھ گیا:
حضرت یعقوب علیہ السَّلام حضرت یوسف علیہ السَّلام کے غم میں روتے رہے یہاں تک کہ آپ علیہ السَّلام کی آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی کمزور ہوگئی۔([9])
بازارِ مصر اور خریدارانِ یوسف :
دوسری طرف حضرت یوسف علیہ السَّلام کو ایک قافلے والوں نے کنویں سے نکال لیا، اتنے میں دیگر بھائی بھی آگئے اور یہ کہہ کر قافلے والوں کو بیچ دیا کہ یہ ہمارا غلام ہے، قافلے والوں نے حضرت یوسف علیہ السَّلام کو خرید لیا اور مصر لے آئے بازارِ مصر میں حضرت یوسف علیہ السَّلام کے عالَم افروز حُسن و جمال کا تذکرہ ہوا([10])تو ہر شخص کے دل میں آپ کی طلب پیدا ہوئی اور خریداروں نے قیمت بڑھانا شروع کی یہاں تک کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام کے وزن کے برابر سونا، اتنی ہی چاندی، اتنا ہی مشک اور اتنا ہی ریشم قیمت مقرّر ہوئی اور عمر شریف اس وقت تیرہ یا سترہ سال کی تھی۔ (بادشاہ کے خزانچی) عزیزِ مصر نے اس قیمت پر آپ کو خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا۔([11])
جیل سے آزادی :
کچھ عرصہ بعد آپ پر جھوٹا الزام لگاکر آپ کو جیل میں ڈال دیا گیا،([12])پھر ایک وقت وہ آیا جب مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر کسی کے پاس نہ تھی،خادم کے ذریعے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام جیل میں ہیں وہ اس خواب کی تعبیر بتاسکتے ہیں بادشاہ کے حکم پر خادم نے قید خانےجاکر حضرت یوسف علیہ السَّلام سے تعبیر پوچھی تو آپ نے تعبیر بیان کردی، بادشاہ نے خود آپ کو بلاکر آپ کی زبان سے تعبیر سننا چاہی تو آپ علیہ السَّلام نے یہ کہہ کر ملنے سے منع کردیا کہ جب تک جھوٹے معاملےکی تحقیق نہ ہوجائے اور یہ بات ثابت نہ ہوجائے کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام کو خواہ مخواہ جیل میں بند کردیا تھا تب تک وہ جیل سے باہر نہیں آئیں گے آخِر کار بادشاہ نے تحقیق کی تو حضرت یوسف علیہ السَّلام کی براءَت ظاہر ہوگئی اور بادشاہ نے جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ السَّلام علم وعقل امانت و کفایت اور دیانت میں بےمثل ہیں اس طرح حضرت یوسف علیہ السَّلام نہایت شان و شوکت اور باعزّت طریقے کے ساتھ جیل سے باہر تشریف لائے اور جھوٹے الزام لگانے والے خائب و خاسر ہوئے، پھر آپ علیہ السَّلام نے بادشاہ کو اس کا خواب بھی سنایا اور اس کی تعبیر بھی ارشاد فرمائی کہ سات سال تک خوشحالی رہے گی پھر سات سال تک ملک میں زبردست قحط پڑے گا۔([13])اور ساتھ میں اس کا حل بھی پیش کردیا کہ اب لازم یہ ہے کہ غلّے جمع کئے جائیں اور ان فراخی کے سالوں میں کثرت سے کاشت کرائی جائے اور غلّے بالیوں کے ساتھ محفوظ رکھے جائیں اور رعایا کی پیداوار میں سے خُمس لیا جائے، اس سے جو جمع ہوگا وہ مصر اور ا س کے اَطراف کے باشندوں کے لیے کافی ہوگا اورپھر خَلقِ خدا ہر طرف سے تیرے پاس غلّہ خریدنے آئے گی اور تیرے یہاں اتنے خزانے اور مال جمع ہو جائیں گے جو تجھ سے پہلوں کے لیے جمع نہ ہوئے۔([14])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments