حضرت یعقوب علیہ السلام (قسط:02)
کنویں کا پانی اوپر آگیا:
جب آپ علیہ السَّلام اپنے ماموں کے پاس پہنچےتو وہاں قحط سالی تھی ماموں کے پاس بہت ساری بکریاں تھیں جبکہ کنواں ایک ہی تھااور اس کا پانی بھی کم ہوچکا تھاجس کی وجہ سے بکریاں پوری طرح سیراب نہ ہوپاتیں، ماموں نے آپ کو یہ صورتِ حال بتائی تو آپ علیہ السَّلام کھڑے ہوئے اور کنویں سے ایک ڈول پانی نکالا پھر تھوڑا سا پیا اور بقیہ بچاہوا پانی کنویں میں واپس ڈال دیا تو کنویں کا پانی اوپر آنے لگا یہاں تک کہ پہلے جہاں تک رہتا تھا اس سے بھی مزید اوپر آگیا جب ماموں نے یہ حیرت انگیز معاملہ دیکھا توآپ علیہ السَّلام سے اپنی خواہش ظاہر کی کہ آپ میرے پاس ٹھہر جائیں اور یہیں قیام کریں، آپ نے ماموں کی بات مان لی اور وہیں قیام پذیر ہوگئے آپ علیہ السَّلام نےماموں کی چھوٹی بیٹی کےلیے نکاح کا پیغام دیا تو ماموں نے کہا: کیا آپ کےپاس حق مہر کےلیے کچھ مال ہے تاکہ میں اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کروں؟ آپ نے فرمایا: میرے پاس کچھ نہیں، البتہ میں حق مہر کےلیے سات سال تک تمہاری خدمت کرلوں گا، اس طرح آپ علیہ السَّلام سات سال تک ماموں کی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے رہے([1]) سات سال بعد ماموں نے چھوٹی کے بجائے اپنی بڑی بیٹی کا نکاح آپ سے کردیا، آپ علیہ السَّلام نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا: ہمارے یہاں بڑی سے پہلے اگر چھوٹی کی شادی کردی جاتی ہے تو باپ کو سخت عار و شرم دلائی جاتی ہے، کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ لوگ مجھے شرم وعار دلائیں؟([2])آپ علیہ السَّلام مزید پانچ یا سات سال ماموں کے کاموں کی دیکھ بھال کرتے رہے یہاں تک کہ پہلی زوجہ کے انتقال کے بعد ماموں نے اپنی چھوٹی بیٹی راحیل کا نکاح بھی آپ علیہ السَّلام سے کردیا۔([3])
لعاب کی برکتیں:
جب حضرت یعقوب علیہ السَّلام اپنے گھر واپس جانے لگے تو ماموں نے کہا: میرے پاس مزید ایک سال ٹھہرجاؤ، میں آپ کو اس کا معاوضہ دوں گا۔ آپ علیہ السَّلام نے فرمایا: مجھے کیا ملے گا؟ اس نے کہا: میں بکریوں کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا اور ایک حصّے میں جو بھی بکرا پیدا ہو گا وہ آپ کو دوں گا۔ آخر کار آپ علیہ السَّلام اپنے ماموں کے پاس مزید ایک سال ٹھہر گئے، حضرت جبرائیل علیہ السَّلام کریم نبی حضرت یعقوب علیہ السَّلام کے پاس حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے : آپ! فلاں جگہ جائیے اور وہاں کے درختوں کے پتوں کو لے کر ان پر اپنے لعاب والی پھونک ماریں پھر ان پتوں کو وادی میں پھیلادیں، بکریاں ان پتوں کو کھائیں گی تو سب بچّے نَر پیدا ہوں گے۔ آپ علیہ السَّلام نے ایسا ہی کیا تو ریوڑھ کے اس حصّے میں صرف نَر بچے پیدا ہوئے۔ ماموں پر یہ بات بڑی ناگوار گزری، لہٰذا ماموں نے کہا: ایک سال مزید رک جاؤ،میں دوسرے حصّے سے پیدا ہونے والی نسل میں مادہ بچے آپ کو دے دوں گا؟ آپ علیہ السَّلام مزید ایک سال وہاں ٹھہر گئے۔ حضرت جبرائیل معزّز نبی حضرت یعقوب علیہ السَّلام کی بارگاہ میں دوبارہ حاضر ہوئے اور پہلا والا عمل دوبارہ کرنے کا عرض کیا، آپ علیہ السَّلام نے ویسا ہی کیا تو اس بار دوسرے حصّے کی بکریوں نے مادہ بچّے جنے اس طرح آپ کی بکریوں کی تعداد ماموں کی بکریوں سے بڑھ گئی۔([4]) پھر آپ علیہ السَّلام پروحی کا نزول ہوا اور حکم ہوا کہ اپنی قوم اور والد کے شہروں کی جانب روانہ ہوجائیں تو آپ علیہ السَّلام اپنے بیوی بچّوں اورمال و اسباب کو لے کر وہاں سے کوچ کرگئے۔ راستے میں ایک مقام پر فرشتوں نے آپ علیہ السَّلام کو واپس لوٹ آنے پر خوش آمدید کہا،آخِر کار آپ علیہ السَّلام اپنے والدِ محترم حضرت اسحاق علیہ السَّلام کے پاس پہنچ گئےاور زمینِ کنعان کی بستی حبرون میں قیام فرمایا اس کے بعد والدِ محترم حضرت اسحاق علیہ السَّلام بیمار ہوگئے اور وفات پاگئے حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے اپنے بھائی عیص کے ساتھ مل کر والد محترم کی تدفین کی۔([5])
بادشاہ کو شکست فاش دی:
سَر زمینِ کنعان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کا نام سحیم بن داران تھا۔ جب اسے یہ خبر ملی کہ حضرت یعقوب علیہ السَّلام کنعان آچکے ہیں تو اس بادشاہ نے اپنے پورے لاؤلشکر کو جمع کیا اور حضرت یعقوب علیہ السَّلام سے جنگ کرنے کا ارادہ کرکے آپ کے پاس پہنچ گیا اور پوچھنے لگا: آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ؟ حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے جواب دیا:میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم کا پوتا حضرت اسحاق کا بیٹا یعقوب علیہ السَّلام ہوں، میں تمہیں خدا وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں اور تم اس بات کا اقرار کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اگر تم اللہ پر ایمان لاتےہو تو وہ تمہیں بہت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا ورنہ میں تم سے رضائے الٰہی کی خاطر جہاد کروں گا، یہ سن کر بادشاہ غضب ناک ہوگیا اور کہنے لگا: آپ کیسے میرے ساتھ جہاد کریں گے، آپ کے پاس تو نہ لشکر ہے نہ سپاہی ؟ حضرت یعقوب علیہ السَّلام نے اپنے دس بیٹوں کی طرف دیکھا اور فرمایا: میں اللہ کی مدد سے، اس کے فرشتوں کی مدد سے اور اپنے بیٹوں کی مدد سے تمہارے خلاف جہاد کروں گا، پھر وہ وقت بھی آگیا جب یعقوب علیہ السَّلام نے اس سے جہاد شروع کردیا جنگ طویل ہوگئی تو آپ علیہ السَّلام بادشاہ کے محل کی طرف متوجّہ ہوئے اور اپنے ایک بیٹے سے فرمایا: اس محل کو اللہ کے حکم سے گرادو، بیٹے نے اللہ کے نبی علیہ السَّلام کا حکم سنتے ہی اپنے پاؤں کی ٹھوکر ماری تو محل کا دروازہ گرگیا، آپ علیہ السَّلام نے دُعا کی: اے اللہ! تو ہمیں فتح دے تو ہی بہترین فتح دینے والا ہے، دُعا کا اثر ظاہر ہوا اور محل کی دیواریں زمین بَوس ہوگئیں، بادشاہ اور اس کا لشکر دَب کر مرگیا، اہل ِ کنعان کو یہ خبر پہنچی تو ان کے دلوں میں آپ علیہ السَّلام کی عظمت بیٹھ گئی اور وہ سب آپ کی بارگاہ میں حاضِر ہوکر آپ پر ایمان لے آئے۔([6])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments