آخری نبی محمد عربی ﷺ کا اندازِ قربانی


آخری نبی محمد عربی کااندازِ قربانی

 عمل(Action)کی تاثیر الفاظ سے کئی گُنا زیادہ ہوتی ہے، اچھی باتیں کہہ تودی جاتی ہیں صرف اُن پرعمل کرنا باقی بچتا ہے اور جب ”کہے ہوئے“ کو”کِیا ہوا“ بنادیا جائے تو سوسائٹی میں خاموش انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ اِس نقطے کوذہن میں رکھ کرسیرتِ مصطفےٰ کو نظروں کےسامنے لائیے، آپ کو احادیث میں اعمالِ مصطفےٰ کےکئی مناظر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آئیں گے،اِنہی میں سے ایک منظررسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا اندازِ قربانی بھی ہے، آئیے! اِسے ملاحظہ کیجیے:

یوم ِ قربانی کی اہمیت:

اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِس مبارک دن کی ا ہمیت یوں بیان فرمائی: اِنَّ اَعْظَمَ الْاَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالىٰ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرّ یعنی اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن (یعنی10 ذوالحجہ) ہے، پھر اس کےبعدوالادن (یعنی 11 ذوالحجہ)۔  ([1])

قربانی کرنے کی اہمیت:

اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے قربانی کی اہمیت یوں بیان فرمائی:(1)قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔([2]) (2)جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی، تووہ آتَشِ جہنّم سے حِجاب(یعنی رَوک)ہو جائے گی۔([3])

(3)جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعَت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔([4])

قربانی ہے کیا؟

صحابَۂ کرام  علیہمُ الرّضوان  نے عرض کی: یارسولَ اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم  علیہ السّلام  کی سنّت ہیں۔ صحابہ نے عرض کی:یارسول اللہ! ان میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ فرمایا:ہربال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ عرض کیا:اور اُون میں؟ فرمایا:اس کے ہربال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔([5])

قربانی نمازِ عید کے بعدکی جائے:

رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عیدِ قرباں کے دن نماز پڑھی پھرخطبہ پڑھا پھرقربانی کی اور فرمایا: جس نے نماز سے پہلےقربانی کرلی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (نماز سے پہلے)قربانی نہ کی ہوتو وہ اﷲ کے نام پر قربانی کرے۔([6])

حضرت براء  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےفرمایا: سب سے پہلے جو کام آج ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر اس کے بعد قربانی کریں گے جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنّت (طریقہ)کو پالیا اور جس نے پہلے ذبح کر لیا وہ گوشت ہے جو اس نے پہلے سے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا قربانی سے اسے کچھ تعلق نہیں۔([7])

مقامِ قربانی کا انتخاب:

حضرت اِبنِ عمر  رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں: رسولُ اﷲ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  عیدگاہ میں ذبح ونحر فرماتے تھے۔([8])

آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا عیدگاہ کےقریب قربانی کے جانور کو ذبح کرنے یا نحر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ (قربانی کا وقت شروع ہونے کی) خبر دینے کے لیے ایسا کرتے تھے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر اپنی قربانیاں کرنا شروع کر دیں۔([9]) یادرہے کہ قربانی شعارِ اسلام میں سے ہے، اس کا اظہار مجمعِ عام میں افضل ہے تاکہ لوگ دیکھیں اور قربانی کی سنّت کی اہمیّت کا اظہار ہو۔([10])نیز یہ بھی ضروری ہے کہ قربانی کےساتھ صفائی کا بھی پورا پورا اہتمام کیا جائے تاکہ حقوق ِ عامّہ تلف نہ ہوں۔

قربانی کیسے فرمائی؟

اِس سلسلے میں چند روایتیں ملاحظہ کیجیے:

(1)حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دوچتکبرے سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی کہ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اﷲ و تکبیر کہی۔حضرت انس مزید فرماتے ہیں: میں نے آپ کو ان مینڈھوں کی کروٹوں پر اپنا قدم رکھے دیکھا،آپ فرماتے تھے: بِسمِ اﷲ وَاللہ اکبر۔([11])

(2)حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےحکم فرمایا کہ سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں نظر کرتا ہو (یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں اور پیٹ سیاہ ہو اور آنکھیں سیاہ ہوں) آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں۔ آپ نے فرمایا: عائشہ! چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اسے پتھر پرتیز کرلو۔میں نے کرلیا، پھر آپ نے چھری پکڑی، مینڈھے کو لٹایا اور اسے ذبح کیا پھر فرمایا: بِسْمِ اللہ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍوَاٰلِ مُحَمَّدٍوَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ یعنی اللہ کے نام سے (شروع)، الٰہی ! اِسے محمد و آلِ محمد اور امّتِ محمد کی طرف سے قبول فرما۔پھراس کی قربانی کی۔([12])

 (3)نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمۃُ الزہرا  رضی اللہ عنہا سےفرمایا:اے فاطمہ!اپنی قربانی کے پاس موجود رہو کیونکہ جیسے ہی تمہاری قربانی کے خون کا پہلا قطرہ گرے گا تمہارے سارے گُناہ مُعاف کردیے جائیں گے۔([13])

قربانی کے وقت کی جانے والی دعا:

 رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ذبح کے وقت جانور کو قبلہ رُخ کرکے یہ دعا پڑھی: اِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ عَلَى مِلَّةِ اِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا، وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ، وَبِذَلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَاُمَّتِهٖ بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ اَكْبَر یعنی میں نے خودکو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین پیدا کیے دین ابراہیمی پر ہوں، ہر بے دینی سے الگ، مشرکوں میں سےنہیں ہوں،یقیناً میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت ربُّ العلمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم ملا اور میں اطاعت گزاروں سے ہوں، الٰہی! یہ تیری توفیق سے، تیری بارگاہ میں (یہ قربانی پیش ہے)، محمد مصطفےٰ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )اور ان کی امّت کی طرف سے ہے۔([14])

قربانی کے جانور کی تقسیم کاری:

اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے صحابہ کے درمیان بکریاں تقسیم فرمائیں تاکہ صحابہ اپنی طرف سے بکریوں کی قربانی کرسکیں۔([15])

اللہ نےجن لوگوں کو نوازا ہے وہ جانور خرید کر غریبوں میں یوں بانٹنے لگ جائیں تو عید کی خوشی بہت تیزی سے سوسائٹی میں پھیلے گی اورشعارِ قربانی بھی زیادہ عام ہوگا۔

امّت کی طرف سے قربانی:

اللہ کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دو جانوروں کی قربانی فرمائی،ایک کی قربانی کرکے یہ دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَاِلَيْكَ اَللّٰهُمَّ اِنَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَاَهْلِ بَيْتِهٖ یعنی اے اللہ! یہ تیری توفیق سے، تیری بارگاہ میں (یہ قربانی پیش ہے)، اے اللہ ! یہ محمد( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) اور اس کے گھر والوں کی طرف سے ہے۔

پھر دوسرے کی قربانی کرکے یہ دعا فرمائی:”بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَاِلَيْكَ اَللّٰهُمَّ هَذَا عَمَّنْ وَحَّدَكَ مِن أُمَّتِي یعنی اللہ کے نام سے (شروع)، اے اللہ ! تیری توفیق سے، تیری بارگاہ میں (یہ قربانی پیش ہے)، اے اللہ ! یہ میری امّت میں سے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو تجھےایک مانتے ہیں۔([16])

قربانی کرنے کی وصیت:

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ شیر خدا حضرت علی المرتضٰی  رضی اللہ عنہ قربانی میں دو جانور ذبح فرماتے، جب آپ سے اِس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: اِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْصَانِي اَنْ اُضَحِّيَ عَنْهُ فَاَنَا اُضَحِّي عَنْه یعنی مجھے اللہ کے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےوصیت فرمائی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں اِس لیے میں آپ حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔([17])

اللہ کریم ہمیں بھی قربانی کے یہ انداز اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی



([1])ابوداؤد،2/211، حدیث:1765

([2])ترمذی،3/162، حدیث:1498

([3])معجم کبیر،3/ 84، حدیث:2736

([4])اِبن ماجہ،3 /529،حدیث:3123

([5])ابن ماجہ،3/531،حدیث:3127

([6])بخاری، 1/338،حدیث:985

([7])بخاری،3/571، حدیث:5545

([8])بخاری،1/338،حدیث:982

([9])دیکھیے:ضیاء الساری،9/343

([10])فیوض الباری،4/96

([11])مسلم، ص837،حدیث:5088

([12])مسلم، ص837، حدیث:5091

([13])سنن کبری،9/476،حدیث:19161

([14])ابوداؤد، 3/126،حدیث:2795

([15])دیکھیے:مسلم، ص837، حدیث:5086،5085

([16])حلیۃ الاولیاء، 8/190، حدیث:11848

([17])ابوداؤد، 3/124،حدیث:2790


Share