تقویٰ میں تعاون


تقویٰ میں تعاون

قراٰن کریم نے ”البرّ“ اور ”التقویٰ“ میں باہمی تعاون کی تعلیم دی ہے، ”البر“ یعنی بھلائی کا قراٰنی مفہوم گذشتہ شمارے میں بیان ہوا، آئیے! اب تقویٰ کے بارے میں قراٰنی بیان ملاحظہ کریں:

تقویٰ کا لغوی اور اصطلاحی معنیٰ:

لفظ ”تقویٰ“ عربی زبان کے مادہ ”وقی“ سے ہے جس کے معنیٰ بچاؤ اور حفاظت کے ہیں۔ اصطلاح میں تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ ”اللہ کریم نے جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا ہے اُن کو کرکے اور جن سے منع فرمایا ہے اُن کو نہ کرکے اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچایا جائے۔ ‘‘ ([1])

قراٰنِ کریم میں تقویٰ اور اس کے مشتقات تقریباً 200 سے زائد مقامات پر آئے ہیں، یہ اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء  علیہم السلام  کو تقویٰ کی تعلیم دی، اور یہ تمام شریعتوں کا مشترک اصول ہے۔چونکہ اللہ کریم نے اہلِ ایمان کو حکم دیا ہے کہ ”تقویٰ“ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تقویٰ میں کیا کیا شامل ہے؟

تقویٰ نماز روزے اور عبادات سمیت ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جس میں ہر عمل اللہ کی رضا کے مطابق ہوتا ہے۔قراٰن کریم کی مختلف آیات میں تقویٰ کا اطلاق متعدد اعمال اور صفات پر ہوا، چنانچہ

(1)عقائد کی درستی ”تقویٰ“ ہے:

سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات میں ”تقویٰ“ کا اطلاق عقائد کی درستی پر ہوا ہے جسے اللہ کریم نے متقین کی صفات کے طور پر بیان فرمایا:

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴)

ترجَمۂ کنزُالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قراٰن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کووہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تقویٰ کی سب سے پہلی بنیاد عقیدہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے متقیوں کی صفات بیان کیں تو سب سے پہلے ”غیب پر ایمان“ کا ذکر فرمایا۔ غیب وہ حقائق ہیں جن کا ادراک حواسِ ظاہری سے ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، ملائکہ، قیامت، جنت و جہنم، اور آخرت کے احوال۔ ان سب پر پختہ ایمان رکھنا تقویٰ کی پہلی شرط ہے۔مزید یہ کہ آیت میں تمام آسمانی کتابوں پر ایمان کا بھی ذکر ہےیعنی توریت، زبور، انجیل اور قراٰن سبھی پر ایمان لانا ضروری ہے۔

(2) عبادات،نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی ”تقویٰ“ ہے:

تقویٰ کا اطلاق عبادات پر بھی ہوتا ہے، سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کو مخاطب کیا:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۲۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ البقرۃ کی ابتداء میں ہے:

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان:وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

روزے کے بارے میں فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

عبادت کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ عبادت اللہ کی بندگی کا نام ہے اور بندگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات، ارادوں اور اعمال کو اللہ کی مرضی کے تابع کر لے۔ یہی تقویٰ کا جوہر ہے۔ عبادت اسلام میں صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود نہیں۔ عبادت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اللہ کا ذکر، قراٰن کی تلاوت، دعا، توبہ، استغفار، اللہ کی نعمتوں پر شکر، بیمار کی عیادت، مسکین کی مدد، ماں باپ کی خدمت یہ سب عبادت ہیں جب یہ اللہ کی رضا کے لیے کیے جائیں تو یہ سب تقویٰ بن جاتے ہیں۔ عبادت اور تقویٰ کا یہ تعلق سمجھنے سے انسان کی پوری زندگی عبادت بن جاتی ہے۔

(3)ایمان پر استقامت تقویٰ ہے:

ایمان لانا تقویٰ ہے، عبادات تقویٰ ہیں، اسی طرح ایمان پر قائم رہنا بھی تقویٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان ۔([6])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایمان پر استقامت تقویٰ کا وہ پہلو ہے جو سب سے زیادہ آزمائشوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب دنیا کی چمک دمک ایمان کو للچاتی ہو، جب گناہوں کا راستہ آسان نظر آتا ہو، جب ساتھی، دوست یا معاشرہ برائی کی طرف بلا رہا ہو ان تمام حالات میں ڈٹے رہنا، ایمان پر قائم رہنا اور اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور بالآخر ایمان ہی پر دنیا سے رخصت ہونا یہی حقیقی تقویٰ ہے۔

(4)اطاعتِ انبیاء تقویٰ ہے:

اطاعتِ انبیاء کے بغیر تقویٰ کا مفہوم ادھورا ہے کیونکہ یہ انبیائے کرام ہی ہیں جنہوں نے احکامِ الٰہی پہنچائے، قراٰن کریم میں کئی انبیائے کرام نے اپنی قوموں کو اپنی اطاعت اور تقویٰ کا حکم اکٹھا ذکر فرمایا، جیسا کہ سورۃ الشعراء میں بہت ہی پُرتاثیر انداز ہے، حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، اور حضرت شعیب  علیہم السلام  پانچوں انبیاء کرام نے اپنی اپنی قوموں کو تقریباً ایک ہی الفاظ میں پکارا: (اَلَا تَتَّقُوْنَ) کیا تم ڈرتے نہیں؟ (اِنِّیْ لَكُمْ رَسُولٌ اَمِينٌ) بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں (فَاتَّقُوا اللّٰہ وَاَطِيْعُوْنِ ) تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو (فَاتَّقُوا اللّٰہ وَاَطِيْعُوْنِ ) فرمایا۔

آج ہمارے لیے اطاعتِ رسول کا مطلب ہے کہ ہم نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سنتِ مبارکہ کو اپنی زندگی میں اختیار کریں، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے فرامین کو دل سے مانیں، اور اپنی خواہشات کو سنت کے تابع کریں۔ جو شخص سنتِ نبوی سے منہ موڑ کر تقویٰ کا دعویٰ کرے وہ دھوکے میں ہے۔

(5) انقاق فی سبیل اللہ اور صبر تقویٰ ہے:

انفاق فی سبیل اللہ اور صبر کو بھی متقین کی صفات میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بھی تقویٰ ہیں، سورۃ البقرۃ کی آیتِ بِر میں اللہ تعالیٰ نے نیکی اور تقویٰ کا ایک جامع نقشہ ارشاد فرمایا ہے۔ اس آیت میں متعدد اعمال کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ اور ہر حال میں صبر کرنے کو متقین کی صفات بتایا ہے:

وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان:اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(6)عدل و انصاف تقویٰ ہے:

اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کی اہمیت اس قدر بنیادی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقویٰ کے قریب ترین عمل قرار دیا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘-وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ-اِعْدِلُوْا- هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘-

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت(دشمنی) اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو انصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے ۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ جب قرآن عدل کو تقویٰ کا قریب ترین عمل بتاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ظلم اور ناانصافی تقویٰ سےدور لے جانے والا عمل ہے۔ آیت کا ایک انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرنا ضروری ہے۔ کسی قوم یا گروہ کی دشمنی انصاف ترک کرنے پر نہ ابھارے۔

(7) حدود اللہ کی پابندی تقویٰ ہے:

اللہ کریم نے حلال و حرام کی جو حدود ارشاد فرمائی ہیں ان کی پابندی کرنا بھی تقویٰ ہے:

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۱۸۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان: یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے۔([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے لیے کچھ حدود مقرر فرمائی ہیں جنھیں ”حدود اللہ“ کہتے ہیں۔ یہ حدود دراصل اللہ کی رحمت کا اظہار ہیں جیسے ایک محبت کرنے والے والدین اپنے بچے کو نقصان دہ چیزوں سے روکتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایسی حدیں قائم کی ہیں جو انھیں دنیوی اور اخروی نقصان سے محفوظ رکھتی ہیں۔ شراب، زنا، سود، جوا، غیبت، چوری یہ سب اللہ کی ممنوعات ہیں جن کے قریب جانا بھی تقویٰ کے خلاف ہے۔

آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ فرمایا: (فَلَا تَقْرَبُوْهَا) ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یہ نہیں فرمایا کہ ان کا ارتکاب نہ کرو بلکہ فرمایا کہ ان کے قریب تک نہ جاؤ۔ اس میں ایک اہم تربیتی پہلو ہے۔ تقویٰ صرف گناہ سے بچنے کا نام نہیں بلکہ گناہ کے راستے، گناہ کے مواقع، اور گناہ کے محرکات سے بھی بچنے کا نام ہے۔ جو شخص شراب تو نہیں پیتا لیکن شرابیوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، وہ حد کے قریب ہے۔ جو زنا تو نہیں کرتا لیکن بے حیائی کی جگہوں پر جاتا ہے، وہ حد کے قریب ہے۔ متقی وہ ہے جو حدود سے دور بھاگے، نہ کہ ان کی سرحدوں پر کھیلے۔

(8)ایفائے عہد تقویٰ ہے:

قرآنِ کریم نے ایفائے عہد کو تقویٰ کے ساتھ جوڑا ہے اور اسے اللہ کی محبت کا ذریعہ بتایا ہے:

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶)

ترجَمۂ کنزُالایمان:ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔([10])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یاد رکھیے! معاشرے کی اخلاقی بنیاد وعدے اور عہد پر قائم ہے۔ جب کوئی شخص وعدہ پورا کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی زبان کی حرمت قائم کرتا ہے، اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرتا ہے، اور دوسرے کا حق ادا کرتا ہے اور یہ سب تقویٰ کے مظاہر ہیں۔ اور جو وعدہ توڑتا ہے وہ نہ صرف بے ایمانی کرتا ہے بلکہ تقویٰ بھی کھو دیتا ہے۔

تقویٰ مکمل طرزِ زندگی ہے:

قراٰن کریم کی مذکورہ بالا آیات کا مطالعہ ہمیں یہ عظیم سبق دیتا ہے کہ تقویٰ کوئی محدود یا جزوی عمل نہیں بلکہ یہ ایک مکمل، ہمہ گیر اور جامع طرزِ زندگی ہے۔ تقویٰ عقیدے میں بھی ہے اور عمل میں بھی، عبادت میں بھی ہے اور معاملات میں بھی، اخلاق میں بھی ہے اور سماج میں بھی۔

حقیقی متقی وہ ہے جس کا عقیدہ درست ہو، جس کی نماز، روزہ اور زکوٰۃ بروقت اور مکمل طریقے سے ادا ہو، جو ہر حال میں ایمان پر ثابت قدم رہے، رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مکمل اطاعت کرے، صبر و استقامت کا پیکر ہو، ہر فیصلے میں عدل و انصاف کا دامن تھامے، ہر قدم پر اللہ کی بندگی کو یاد رکھے، حدود اللہ کی پوری پابندی کرے، اور اپنے وعدے اور عہد کا وفادار ہو۔ یہ سب مل کر تقویٰ بنتے ہیں اور تقویٰ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔([11])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یعنی اللہ کے ہاں عزت کا معیار نسل، رنگ، زبان، دولت یا منصب نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ پس اگر ہم اللہ کی نظر میں معزز ہونا چاہتے ہیں اور ہر مومن کی یہی خواہش ہونی چاہیے تو ہمیں تقویٰ کی راہ اختیار کرنی ہوگی اور تقویٰ کے تمام پہلوؤں کو اپنی زندگی میں سمیٹنا ہوگا۔

اللہ ہم سب کو تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1]) دلیل الفالحین، 2/24، تحت الحدیث:236

([2])پ1،البقرۃ:2تا4

([3])پ1،البقرۃ:21

([4])پ1، البقرۃ:3

([5])پ2،البقرۃ:183

([6])پ4،اٰل عمرٰن:102

([7])پ2، البقرۃ:177

([8])پ6،المآئدۃ:8

([9])پ2،البقرۃ:187

([10])پ3،اٰل عمرٰن:76

([11])پ26،الحجرات:13


Share